روس، یوکرین میں زمینی سرنگوں کے ذریعہ تباہی برپا کررہاہے: زیلنسکی

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے آج صبح اپنے عوام کو انتباہ دیا کہ پسپا ہوتے ہوئے روسی فورسس دارالحکومت کے باہر مکمل تباہی برپا کررہے ہیں جبکہ وہ اس سارے علاقہ میں جن میں مکانات اور انسانی نعشیں بھی ہیں ان کے اطراف و اکناف بارودی سرنگیں بچھاتے ہوئے جارہے ہیں۔

کیف: یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے آج صبح اپنے عوام کو انتباہ دیا کہ پسپا ہوتے ہوئے روسی فورسس دارالحکومت کے باہر مکمل تباہی برپا کررہے ہیں جبکہ وہ اس سارے علاقہ میں جن میں مکانات اور انسانی نعشیں بھی ہیں ان کے اطراف و اکناف بارودی سرنگیں بچھاتے ہوئے جارہے ہیں۔

شہر ماریوپول میں انسانی بحران اوربھی شدت اختیار کرگیا۔ جبکہ روسی فورسس نے مسلسل دوسرے دن بھی انخلا کی کاروائیوں میں رکاوٹ پیدا کردی۔ دریں اثنا کریملن نے یوکرین پر الزام عائد کیا کہ اس نے روسی سرزمین فیول ڈپو پر ہیلی کاپٹر سے حملہ کیا۔

یوکرین نے اس آتشی دھماکہ کی ذمہ داری سے انکار کردیا۔ لیکن اگر ماسکو کے دعوے کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ پہلا یوکرینی حملہ ہوگا جس میں اس کا طیارہ روسی خلائی حدود میں اندر تک داخل ہوگیاتھا۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے بتایا کہ یقینی طور پر یہ بات ایسی نہیں جس کا تصور کیا جاسکتاہے اور مذاکرات جاری رکھنے کے لیے اطمینان بخش صورتحال بھی اس سے پیدا نہیں ہورہی ہے۔

5 ہفتے قبل ماسکو نے ایک لاکھ50ہزار سے زائد اپنے فوجیوں کو یوکرین کی سرحد کے دوسری طرف روانہ کردیاتھا۔کیف کے اطراف کے علاقوں سے ماسکو اپنی زمینی فورسس کو ہٹارہاہے۔ قبل ازیں اس ہفتہ ماسکو نے بتایا تھا کہ وہ یوکرینی دارالحکومت اور شمالی شہر چرنی ہیف کے قریب اپنی فوجی سرگرمی میں کمی کردے گا۔

روس نے یوکرینی فوج کے درجنوں ٹھکانے تباہ کر دینے کا دعویٰ کیا ہے۔ روسی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشینکوف کے مطابق یوکرین میں کیے گئے روسی میزائل حملوں میں 67 سے زائد فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ یوکرین کے صنعتی شہر کریمَینچْک کے قریب پٹرول اور ڈیزل کا ایک بڑا ڈپو بھی تباہ کر دیا گیا۔

اس کے علاوہ روسی وزارت دفاع نے پولتاوا شہر کے نواح میں اور دریائے ڈنیپرو کے قریب یوکرین کے دو ملٹری ایئر فیلڈز کو بھی ناکارہ بنا دینے کا دعویٰ کیا ہے۔ وزارت دفاع کے ترجمان نے مزید کہا کہ ان حملوں کے لیے میزائل جنگی بحری جہازوں اور لڑاکا طیاروں سے فائر کیے گئے۔

تبصرہ کریں

Back to top button