روسی فوج، یوکرین کے دوسرے بڑے شہر میں داخل

یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں اتوار کی صبح سڑکوں پر لڑائی شروع ہوگئی۔روسی فوجیں اس شہر میں گھس آئی ہیں۔ انہوں نے ملک کے جنوب میں اہم بندرگاہوں پر قبضہ کرلیا۔

کیف: یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں اتوار کی صبح سڑکوں پر لڑائی شروع ہوگئی۔روسی فوجیں اس شہر میں گھس آئی ہیں۔ انہوں نے ملک کے جنوب میں اہم بندرگاہوں پر قبضہ کرلیا۔

مقامی عہدیدار کے بموجب فضائی اڈوں اور فیول تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد حملہ کا نیا دور شروع ہوگیا ہے۔

امریکہ اور یوروپین یونین نے یوکرینیوں کو جو تعداد میں کافی کم ہیں‘ اسلحہ و گولہ بارود دینے کی بات کہی ہے۔ ماسکو پر مزید سخت تحدیدات بھی لگائی جائیں گی تاکہ اسے یکا وتنہا کردیا جائے۔

روسی افواج خارکیف پہنچ گئیں۔ اتوار کی صبح تک وہ 14 لاکھ کی آبادی والے شہر کے مضافات میں رکی رہیں۔ بعد میں وہ شہر میں داخل ہوگئیں اور یوکرینی فورسس کے ساتھ ان کی لڑائی چھڑگئی۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

یوکرینی میڈیا اور سوشیل نیٹ ورکس پر پوسٹ ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ روسی گاڑیاں خارکیف کی سڑکوں پر دوڑرہی ہیں۔ سڑک پر ایک گاڑی کو آگ لگی دیکھی جاسکتی ہے۔

دارالحکومت کے جنوب میں اتوار کی صبح دھماکے سنائی دیئے۔ لوگ اپنے مکانوں‘ زیرزمین گیاریجس اور سب وے اسٹیشنس میں چھپے رہے۔ ایک فضائی اڈہ کے قریب واقع آئیل ڈپو سے شعلے اٹھتے دکھائی دیئے۔ ایک اور دھماکہ سیویلین ایرپورٹ میں ہوا۔

زیلنسکی کے دفتر نے بھی کہا ہے کہ روسی فورسس نے خارکیف میں ایک گیس پائپ لائن کو دھماکہ سے اڑادیا۔ حکومت نے عوام کو خبردار کیا کہ وہ اپنی کھڑکیوں کو اچھی طرح بند کرتے ہوئے دھویں سے بچیں۔ زیلنسکی نے عہد کیا کہ ہم اپنے ملک کو آزاد رکھنے کے لئے لڑتے رہیں گے۔

حکومت نے 39 گھنٹوں کا کرفیو لگادیا ہے تاکہ لوگ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ ایک لاکھ 50 ہزار یوکرینی‘ پولینڈ‘ مالڈووا اور دیگر پڑوسی ممالک جاچکے ہیں۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ لڑائی نے شدت اختیار کرلی تو یہ تعداد بڑھ کر 40 لاکھ ہوسکتی ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوٹین نے اپنا حتمی منصوبہ ظاہر نہیں کیا ہے لیکن مغربی عہدیداروں کا ماننا ہے کہ وہ یوکرینی حکومت کو بے دخل کرکے اپنی کٹھ پتلی حکومت قائم کرنے پر اَڑے ہیں۔ وہ یوروپ کے نقشہ کی نئی صورت گری چاہتے ہیں۔ وہ سرد جنگ دور کا ماسکو کا اثرو رسوخ بحال کرنا چاہتے ہیں۔

امریکہ نے یوکرین کی مدد کے لئے مزید 350ملین امریکی ڈالر کی فوجی امداد اسے دینے کا عہد کیا ہے۔ یوکرین کو امریکہ سے دبابہ شکن اسلحہ بھی ملے گ۔ جرمنی نے کہا ہے کہ وہ محصور ملک کی مدد کے لئے مزائل اور دبابہ شکن ہتھیار بھیجے گا۔

اس نے کہا کہ وہ روس کے لئے اپنی ایراسپیس بند کردے گا۔ ایک سینئر امریکی دفاعی عہدیدار نے کہا ہے کہ روس نے یوکرین کی سرحدوں پر جو لڑاکا فورسس اکٹھا کی تھی ان کی نصف تعداد یوکرین میں داخل ہوچکی ہے۔ ماسکو کو ایندھن کی سپلائی مزید بڑھانی ہوگی۔ یوکرینی دارالحکومت کیف میں کرفیو پیر کی صبح تک نافذ رہے گا۔

تبصرہ کریں

Back to top button