روس اور یوكرین كی جنگ اور مسلمان

 مفتی محمد مصطفیٰ عبد القدوس ندوی

(عمید كلیۃ البحث والتحقیق جامعۃ العلوم ،گڑہا – گجرات)

 اس وقت پوری دنیا كی مركز توجہ روس لور یوكرین كی جنگ ہے، مبصرین اس جنگ كا مطالعہ مختلف زاویہ سے كر رہے ہیں اور ہر كوئی اپنا اپنا تجزیہ دنیا كے سامنے پیش كر رہا ہے ، بیشتر لوگ اس جنگ كو روس كے صدرولادیمیر پوٹین كی جارحیت سے تعبیر كررہے ہیں ، یقینا اس كی بڑی جارحیت ہے۔

 اس كا ناپاك ارادہ دنیا والوں كے لئے ان میں بالخصوص یورپین ممالك كے لئے اس سے بھی زیادہ خطرناك اور سنگین ہے ( العیاذ باللہ)؛ لیكن یوكرین كے صدر ولایمیر زیلینسكی كا ہاتھ بھی ماضی میں معصوم لوگوں كے خون سے لت پت ہے ، اس نے بھی عراق ، افغانستان او ر شام میں دنیا كے بڑے دشمن كے ساتھ مل ناحق لوگوں كا خون كم نہیں بہایا ہے۔

ہر ظالم كا انجام ایسا ہی ہوتا ہے ۔ یوكرین كی جنگ كو سامنے ركھیں اور تھوڑی دیر كے لئے ہوش اور عبرت كے ناخن كو لیں اور ہمیں كیا كرنا چاہئیے، اس سلسلہ میں ہمارا صدق احساس كیا ہے؟ اور ہمارے لئے اس میں سراغ زندگی كیا ہے ؟ توآئیے دیكھیں اور جائزہ لیں:

۱ ۔ ظلم كا سایہ دیر تك قائم نہیں رہتا ہے ، آج بھی ناحق خون رائیگاں نہیں جاتا ہے ، ظالم جتنا چاہے شیر كی طرح دھاڑ لے ؛ لیكن بالآخر اس كا انجام دنیا سے لے كر آخرت تك بر ا ہی ہوتا ہے ؛ لہذا ہر ظالم كھلی آنكھوں سے دیكھ لے! یوكرین كےصدر كا حال كتنا برا ہے ، مدد مدد پكار رہا ہے ، لیكن اس كی مدد كے لئے كوئی بھی آگے نہیں بڑھ رہا ہے ، یہاں تك امریكا ، بریطانیہ ، فرانس اور جرمن بھی اس كی مدد كے لئے كھل كر نہیں آرہا ہے ، یوكرین كے صدر كی عجب بے بسی ہے۔

 بظاہر كہا جاتا ہے روس سے ہر كوئی خائف ہے ، ظاہر اسباب كے طور پر یہ تجزیہ بجا ہو ؛ لیكن ایك ایمان والا شخص كچھ اور ہی كہے گا، بات دراصل یہ اس كی اكڑ اور ظلم كی سزا ہے اور رب كائنات كی طرف سے پكڑ ہے ، یوكرین كے صدر كا حال اِس وقت بالكل قرآن كے نقشہ كے مطابق ہے :

وَلَمْ تَكُنْ لَهُ فِئَةٌ يَنْصُرُونَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَمَا كَانَ مُنْتَصِرًا(كہف: ۴۳)

“ اور اس كو كوئی ایسا گروہ میسر نہ ہوا، جو اللہ كے مقابلہ میں اس كی مدد كرتا اور نہ وہ خود (اپنے كو) بچا سكا”۔

۲ ۔ وہ مسلم ممالك اور دیگر جمہوری ملك اپنی كھلی آنكھوں سے دیكھ لیں ، جو لوگ امریكا اور بریطانیہ یا فرانس یا جرمن سے دوستی ركھتے ہیں ، یہ سب بے وفا اور مفاد پرست لوگ ہیں ، یہ ضرورت كے وقت اپنوں كے نہیں ہوتے ہیں وہ آپ كے كیا ہونگے، جو كچھ كرنا ہو اپنے بل بوتے اور سكت سے كریں ، ان دوستوں كے ایماء پر ہرگز قدم نہ اٹھائیں ورنہ بڑے برے دن دیكھنے كو مل سكتے ہیں ، اصل دوستی اللہ سے كریں اور زمین پر موجود ان كے خلفاء سے كریں ، یہ اگر آپ كے دوست بن گئے تو آپ كے لئے اپنا سر كٹا سكتے ہیں لیكن بے وفائی نہیں كریں گے اور دھوكا نہیں دیں گے۔

۳ ۔ اس وقت یوكرین كا صدر اللہ كی پكڑ كے شكنجہ میں دبو چا جارہا ہے ، اس كی چیخ وپكار نكل رہی ہےاور روس كا صدر رب كائنات كی طرف سے مہلت كی ساعت سے گذر رہا ہے ۔

۴ ۔ آہستہ آہستہ تیسری عالمی جنگ كی طرف دنیا جارہی ہے ، جو پوری دنیا كے لئے بڑی بتاہی كا باعث بنے گی؛ اس لئے ممكنہ حد تك جذبات كو قابو میں ركھتے ہوئے جنگ كو روكوانے كی كوشش جاری ركھی جائے، الحمد للہ اس میں ہمارے مسلم ممالك جیسے تركی اور سعودی عرب پیش پیش ہین اور اپنی كوشش جاری ركھے ہوئے ہیں۔

۵ ۔ اس وقت روس كے صدر ولادیمیر پوٹین جنگی جنونی میں مبتلا ہے ، ہر ایك كی سنی ان سنی كر رہا ہے ، اس لئے ہر كسی ملك كو اپنے تئیں چوكنا رہنے كی ضرورت ہے ، اس نے اس كو مذہبی جنگ كارنگ دیا ہے ۔ ایسی صورت حال میں مسلم ملكوں كو بہت محتاط انداز میں قدم اٹھانے كی ضرورت ہے ، امن وامان كی كوشش كر یں ، اچھی بات ہے لیكن ساتھ ہی چوكنا بھی رہیں، كہیں لغزش نہ ہونے پائے ۔

۶ ۔ مبصرین كا كہنا ہےكہ اگر صدرولادیمیر پوٹین كا یوكرین پر قبضہ ہوجا تا ہے ، تو اس كا جنگی جنون آگے جائے گا اور دوسرے یورپین ممالك پر بھی قبضہ كرے گا، ان میں بعض مسلم ممالك بھی شامل ہیں ، خاص طور پر تركی نشانہ پر ہے ، ایسے میں تركی كی پالیسی بہت محتاط ہونا ضروری ہے ، اور ساتھ ہی ابھی اس كے لئے ضروری ہے كہ وہ غیر جانبدارانہ پالیسی پر عمل پیرا ہو اور خاموش:

 وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِباطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِنْ دُونِهِمْ لا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ (أنفال:۶۰)

“ اور (اے مسلمانو!) ان كے مقابلہ جہاں تك ہوسكے، طاقت اور گھوڑوں كی تیاری ركھو، جن سے اللہ كے دشمن اور ان كے علاوہ دوسرے لوگوں پر بھی’’ جن كو تم نہیں جانتے، اللہ جانتے ہیں‘‘ تمہاری دھاك قائم رہے پر گامزن رہے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button