ریٹائرمنٹ

محمد نعیم الدین خطیب

ریٹائرمنٹ کا یہ چوتھا ہفتہ تھا۔ جب فجر کی میٹھی اور دلکش اذان پر ہماری آنکھ کھلی۔ اذان سن کر وجد کی سی کیفیت طاری ہوگئی۔ اسی کیفیت میں ہم نے شیطان کو دھکّا دیا اور بستر سے نکل آئے۔ بیوی نے نیم غنودگی کے عالم میں غوں غا کی۔ ہم نے اسے بیدار کرنا چاہا تو اس نے چپی سادھ لی۔ ہم تیار ہوکر مسجد پہنچے۔ مسجد میں ریٹائرڈ اور ضعیف نمازی زیادہ تھے۔ چند ایک دینی جماعتوں سے جڑے نوجوان بھی تھے۔ امام صاحب نے سورہ الرحمان کی تلاوت شروع کی۔ روح سرشار ہوگئی۔ ہم اس کی حلاوت میں کھوسے گئے کہ دل میں خیال آیا۔ کاش پوری امت فجر خیزی کی عادی ہوجائے۔ ہم دل ہی دل میں امت کو فجر خیزی کا عادی بنانے کے منصوبے بنانے لگے۔ امام صاحب نے دوسری رکعت میں کیا پڑھا؟ ہم نے کون سی تسبیح کتنی بار پڑھی؟ کب رکوع اور سجدے ہوئے یہ تو اللہ ہی جانے‘ مگر جب ہم نماز میں واپس آئے تو امام صاحب ایک سلام پھیر چکے تھے۔ ہر رمضان میں ہم گاہے بگاہے فجر میں آتے تو مسجد نمازیوں سے بھری ہوتی، ہم سمجھتے تھے کہ اُمت بیدار ہورہی ہے۔ آج معلوم ہوا کہ امت اگلے رمضان تک سورہی ہے۔ یہ اُمّت رمضان کا چاند دیکھ کر فجر خیز ہوجاتی ہے اور شوال کا چاند دیکھ کر فجر خور ہوجاتی ہے۔ صبح کا سونا رزق کو روکتا ہے۔ رمضان میں امت صبح صبح جاگ جاتی ہے۔ اس لیے رزق میں برکت ہوتی ہے۔ باقی گیارہ مہینے امت سوجاتی ہے‘ اس لیے رزق روک لیا جاتا ہے۔ یعنی برکت روک لی جاتی ہے۔ امام صاحب نے دعا مانگی۔ اے اللہ بے روزگاروں کو روزگار عطا فرما، لیکن اس دعا پر آمین کہنے والے بیروزگار رات دیر گئے تک 2GB ڈاٹا ختم کرکے لمبی تانے سورہے تھے۔ اب یہ صبح 10 بجے اٹھ کر سوشل میڈیا پر ملت کی بے روزگاری‘ غربت‘ فرقہ پرستی کے خلاف جہاد کریں گے۔ علماءکے بیانات اور اسلام کے فوائد کے پوسٹ لائک‘ شیئر اور فارورڈ کریں گے۔ نماز کے بعد ہم چائے کی تلاش میں فتو بھائی کی ہوٹل کی طرف چل دیے تاکہ چائے توس کا ناشتہ مل سکے۔ مسلم محلوں میں امت فجر خوری میں مست سورہی تھی۔ غیر مسلم محلوں میں چہل پہل تھی۔ کچھ لوگ مارننگ واک کو جارہے تھے۔ بچّے ٹیوشن کو رواں دواں تھے۔ بوڑھے اخبار پڑھ رہے تھے۔ کچھ نہارہے تھے۔ کچھ لوگ گوبر کا پانی گھر کے سامنے چھڑک رہے تھے۔ اس گندگی کو دیکھ کر ہمیں ابکائی آگئی۔ ساتھ ہی ان کی حالت پر ہنسی بھی آئی۔ جن کے پاس پاکی کی تعلیمات تھیں وہ پاکی کا درس دینے کی بجائے خود گندی بستیوں میں رہ رہے اور دیر تک سورہے تھے۔ آج ہمیں معلوم ہوا کہ فجر کی اذان سن کر مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلم بیدار ہوتے ہیں، اسی لیے فجر کی اذان کو لے کر فرقہ پرستوں کی نیندیں حرام ہوئی جارہی ہیں۔
سروس کے دوران ہمارے لگے بندھے معمولات تھے۔ بیوی کے دس بار جگانے پر ہم کسمساتے ہوئے اٹھتے۔ ایک گلاس پانی میں منہ‘ ہاتھ‘ پیر دھوکر‘ جلدی جلدی ناشتہ ٹھونستے‘ بیوی کی فرمائشیں سنتے، بھاگتے دوڑتے آفس کی بس پکڑتے۔ وہاں دن بھر آفس کی مصروفیت‘ باس کی جِھک جِھک‘ کاغذوں کے پلندے‘ ساتھیوں کی ہنسی مذاق اور گھڑی کے کانٹوں کو تاکتے شام کو گھر لوٹتے۔ دروازے ہی سے چائے چائے کے زوردار نعرے لگاتے‘ گھر میں داخل ہوتے۔ بچوں کے جھگڑے‘ بیوی کی شکایات‘ ٹی وی کی خبریں اور شام کے کھانے کے بعد فتو بھائی کے ہوٹل کے لیے نکل جاتے۔ جہاں دن بھر کے تھکے ہارے دوست تازگی حاصل کرنے جمع ہوتے۔ چائے کے دور چلتے، سیگریٹ کا دھواں اڑایا جاتا۔ گٹکھے کی پچکاریوں کے درمیان شاہین باغ‘ NRC ‘ بلڈوزر کی سرکاری دہشت گردی‘ ملی تنظیموں کی بے حسی پر زور دار بحث ہوتی۔ رات دیر گئے گھر واپسی ہوتی جہاں بچے اُلٹا سیدھا ہوم ملک کرکے سوجاتے۔ دن بھر کی اس مصروفیت میں ہم بھلا بچوں کی تعلیم پر کیا دھیان دیں۔ ہم تو اساتذہ کی بے عملی پرنالاں ہیں۔ پوری سروس کے دوران ہم اور ہماری بیوی فجر خور بنے رہے۔ ہماری فجر خیزی سے بیوی کے آرام میں خلل ہونے لگا تو اسے ہماری فجر خیزی ایک آنکھ نہ بھائی۔ ہمیں تو آنکھ کھلتے ہی چائے کی پیالی چاہیے تھی۔ آخر ہم دونوں میں ایک معاہدہ ہوا۔ ہم نل کھلتے ہی مٹکوں کی آبیاری کریں گے۔ بیوی ہمیں بڑا کپ بھر چائے دے گی۔ اس طرح ہمیں فتو بھائی کی چلّو بھر چائے سے نجات ملی۔ مٹکوں کی آبیاری کے ساتھ ساتھ توس لانے کی بھی ڈیوٹی لگادی گئی۔ اب تک ہمارے پاس کالوگوشت والا گوشت کی ہوم ڈیلیوری دیتا آیاتھا۔ بیوی کو ہمیشہ گوشت کم اور ہڈی زیادہ کی شکایت رہتی۔ وہ کالو کے ناپ تول کو لے کر بھی شاکی تھی۔ ریٹائرمنٹ کے فرصت کے لمحات کو کارآمد بنانے اور بیوی کی شکایات کا ازالہ کرنے کا بہترین موقع ہمیں مل گیا۔ گوشت کی دکان پر چند ریٹائرڈ لوگ ہڈیاں اور بوٹیاں چھانٹ رہے تھے۔ کالوکو ڈانٹ رہے تھے اور اس کا دماغ چاٹ رہے تھے۔ ہم سمجھتے تھے کہ ہمارے سامنے کالو کی کوئی بدمعاشی نہیں چلے گی۔ ہم کالو کی ہر حرکت پر سخت نظر رکھ رہے تھے۔ جانوروں کی قلت، گﺅرکشکوں کی بدمعاشیاں، پولیس کے ہفتے (بھتہ) کی گفتگو کے دوران کالونے کب ہڈیاں بھردیں کچھ پتہ ہی نہ چلا۔ پتہ توتب چلا جب بیوی ایک ایک ہڈی اور بوٹی کا حساب پوچھنے لگی۔ اس چخ چخ اور سرکھپائی سے تو ہمیں کالو کی ہوم ڈیلیوری اچھی لگی، لیکن ہمارے اندر کا ریٹائرڈ شیر فوراً کالو سے حساب لینے پر تل گیا۔ دوسرے دن پھر ہم کالو کی دکان پر پہنچ گئے۔
ریٹائرمنٹ کی معراج تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ آدھادرجن سے زیادہ پوتے پوتیوں کو لے کر چاکلیٹ کی دکان پر اودھم مچایا جائے۔ دکان پر بچوں کی چیخ و پکار چھینا جھپٹی‘ دھکم پیل‘ یہ لووہ دو سے تو دکاندار کا نفع سے زیادہ خون جل جاتا ہوگا۔ دکان کی ایک آدھ برنی گراکر جب ہماری لٹل آرمی (Little Army) دکان سے باہر نکلتی ہے تو دکاندار ایسی سکون کی سانس لیتا ہے مانو اس کی دکان پر ED آکر خالی ہاتھ لوٹ گئی ہو۔ واپسی پر ہم احتیاطاً بچے بھی گن لیتے ہیں۔ پرسوں شبّن کا پوتا چاکلیٹ کے لالچ میں ہمارے ساتھ ہولیا۔ ہم چشمہ بھول آئے تھے۔ وہ چاکلیٹ لے کر بھاگنے لگا۔ ہم اسے اپنا بچہ سمجھ کر پکڑنے دوڑے۔ بغیر چشمے کے سڑک کے کنارے لگا پتھر ہمیں کیا خاک نظر آتا۔ ہماری لنگی اس میں اٹک گئی اور ہم دھڑام سے گڑھے میں جاگر ے۔ باقی پکچر آپ مسکراکر تخیل میں دیکھ لیجئے۔ جی ہلکا کرنے کے لیے ہم نے یہ راز آپ کو اپنا سمجھ کر بتایا ہے۔ کسی سے کہیئے گا نہیں۔
60یا58 سال کی عمر اتنی بھی زیادہ نہیں ہے کہ اچھے خاصے کام کرنے والے صحت مند آدمی کو یہ کہہ کر گھر بھیج دیا جائے کہ تم اب بوڑھے ہوگئے ہو۔ سرکاری کام کاج کے قابل نہیں رہے، اس لیے گھر پر آرام کرو۔ یہ سب سرکار میں بیٹھے سیاست دانوں کا ظلم عظیم ہے کہ جنہوں نے خود کے ریٹائرمنٹ کی کوئی عمر مقرر نہیں کی، لیکن سرکاری ملازمین کے ریٹائرمنٹ کی عمر مقرر کردی۔ ویسے سیاست داں جب تک ساٹھ سال کے نہیں ہوتے وہ وزیر بننے کے قابل نہیں ہوتے۔ آپ کسی بھی وزارت کا جائزہ لیجئے ہر وزارت کی اوسط عمر 62 سال سے زائد ہی نظر آئے گی۔ سیاسی بازیگر مرنے تک وزارت کی کرسی کا مزہ لوٹتے رہتے ہیں اور سرکاری ملازمین کو 58 یا 60 سال کی عمر میں گھر بھیج دیا جاتا ہے۔ سرکاری ملازمین اور سیاسی حکمراں دونوں ملاکر سرکار بنتی ہے لیکن سیاسی بازیگروں اور سرکاری ملازمین کی عمروں میں اتنا تفاوت کیوں ہے؟ یہ ماہرین قانون‘ ماہر معاشیات‘ ماہر نفسیات‘ ماہر سماجیات ہی جانیں۔ ہمارے لیے اطمینان کی بات یہ ہے کہ ہم سرکاری ملازم نہیں ہیں‘ اس لئے نہ ہمیں 58سال کی عمر کا ڈر ہے نہ ریٹائرمنٹ کا خوف۔ سرکار کے ہاں کسی ملازم کے بوڑھے ہونے کی عمر تاریخ پیدائش کے لحاظ سے نہیں بلکہ اس کی کرسی کے لحاظ سے طئے کی جاتی ہے۔ مثلاً ایک ملٹری کا جوان 40/35 سال میں ریٹائرڈ ہوجاتا ہے جبکہ اعلیٰ عہدیداران 62 سال تک بوڑھے نہیں ہوتے۔ اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز بعض عہدیداروں کی بوڑھاہوکر ریٹائرڈ ہونے کی عمر 65 سال تک کی ہے۔ اس پر طرّہ یہ کہ اگر انہیں سیاسی سرپرستی ہوتو انہیں دو سال کا Extention بھی دیا جاسکتا ہے۔ کسی کمیشن یا اسٹڈی گروپ کا صدر بنادیا جاتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اعلیٰ عہدہ اور سیاسی سرپرستی انسان کو بوڑھا ہونے سے روکتی ہے۔ ہماری تو خواہش ہے کہ سیاسی بازیگروں کی ریٹائرمنٹ کی عمر طئے ہوتا کہ بیچارے فرصت کی زندگی کا مزہ لوٹ سکے۔ ورنہ یہ بیچارے کرسی پر بیٹھے بیٹھے ہی مرجاتے ہیں۔ دستخط کرنے اور لوگوں کو بھڑکانے کے سواءانہیں کوئی اور کام نہیں ہوتا۔ کہتے ہیں کہ جو خدا کو پیارا ہوتا ہے‘ خدا اسے جلدی بلا لیتا ہے۔ سیاسی لوگ بڑی لمبی عمر جیتے ہیں۔ سیاسی لوگوں کے مرنے کی عام عمر 80 سال سے زائد ہے۔
پنشن کی بندر بانٹ ہمیں سیاسی گلیاروں میں ہی نظر آتی ہے۔ سیاسی بازیگر جس کرسی پر بیٹھ جائے اس کرسی کی پنشن کا حقدار ہوتا ہے۔ اس طرح ایک ہی شخص چالبازیوں سے کئی کرسیوں پر قبضہ جماکر پنشن کا انڈا کھاتا ہے۔ یعنی کئی پنشن اُٹھاتا ہے ۔ جبکہ ایک سرکاری ملازم چاہے کتنی ہی کرسیوں پر کام کرلے، صرف آخری عہدہ کی کرسی کی پنشن کا حقدار ہوتا ہے۔ اس پر بھی سیاسی بازیگر سرکاری ملازمین کی پنشن، سرکاری خرچ میں کٹوتی کے نام پر بند کرانے کے لیے دل و جان سے محنت کررہے ہیں۔ وہ اچھا ہوا پنجاب سرکار نے سیاسی آدمی کے ایک سے زائد پنشن اٹھانے پر پابندی لگادی اور سیاسی پنشن خوروں کو خوار کردیا۔ ہم جیسے عام آدمی کو سیاسی پنشن خوروں سے سرکاری خزانے کو ہونے والے معاشی ٹینشن کا اندازہ ہی نہ ہوتا۔ ہم مفت ہی میں سرکاری ملازمین کی پنشن کو کوس رہے ہوتے۔ ہماری تو مانگ ہے کہ سارے ملک میں ایک آدمی ایک پنشن کی اسکیم لاگو کی جائے تاکہ سیاسی چوہوں سے ہونے والے سرکاری خزانے کے نقصان کو روکا جاسکے۔
سرکاری نوکری ملنے کی عمر بھلے ہی طے نہ ہو‘ لیکن ریٹائرمنٹ کی عمر طے ہے۔
ملازمت کے لیے 18 سے 20 سال پڑھنا ہوتا ہے۔ لاکھوں روپیوں کی فیس ادا کرنی ہوتی ہے۔ بے روزگار ہونے کا جرمانہ نوکری کے درخواست فارم کے ساتھ لگنے والا ڈیمانڈ ڈرافٹ (DD) بھرنا ہوتا ہے۔ کئی جوتیاں گھسنی ہوتی ہے۔ دربدر کی ٹھوکریں کھانے‘ ہزاروں روپے انٹرویو کے لیے آنے جانے‘ زیراکس کرانے میں اڑانا ہوتا ہے۔ لنگی شاہ بابا کے تعویز‘ چڑھاوے بھاری رشوت اور سینکڑوں منتوں سے نوکری مل بھی جائے تو اوّل روز سے ہی اس پر ریٹائرمنٹ کی تلوار لٹکتی ہے۔ ہر انٹرویو کے بعد کئی نوجوانوں کو روتے بلکتے‘ بھوکے‘ پیاسے اس آفس سے اس آفس کی ٹھوکریں کھاتے‘ ایسے ویسوں کے سامنے گڑگڑاتے‘ بھوک مٹانے کے لیے غٹاغٹ سرکاری نلکے کا پانی پیتے‘ ہم نے سرکی آنکھوں سے دیکھا ہے۔
گھر جانے کے بعد تکیہ میں سرچھپائے نہ جانے ان کے کتنے لیٹر آنسو ضائع ہوتے ہوں گے۔ اس میں ان آنسو¶ں کا حساب بالکل نہیں ہے جو ان کے ماں باپ مایوس بیٹے کا چہرہ دیکھ کر بہاتے ہوں گے یا اپنی دُعاو¿ں میں بہاتے ہوں گے۔ کتنی ہی بہنیں اپنی شادی کے لیے بھائی کی نوکری کا انتظار کرتے اور خدا سے فریاد کرتے بہادیتی ہوں گی۔ اگر ان تمام آنسوو¿ں کو جمع کرکے صحارا ریگستان کی آبیاری کی جائے تو وہاں بھی ہرا بھرا جنگل کھڑا ہوجائے گا۔ اتنے آنسو بہانے سے بہتر ہے کہ چور چوکیدار کے چائے اور پکوڑے بیچنے کے مشورے کو مان لیا جائے اور 58/60 سال کی عمر ہونے کے خوف سے نجات حاصل کرلی جائے کیو ںکہ پکوڑے بیچنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔ ڈگری یافتہ نوجوان نوکری کے انتظار میں اپنی جوانی گزاردیتے ہیں۔ پھر ایک دن ایسا بھی آتا ہے کہ وہ نوکری حاصل کرنے کی عمر کی حد (Age Limit) پارکرلیتے ہیں۔ اس وقت یہ لوگ ڈگریاں پھاڑکر کام کی تلاش میں نکل جاتے ہیں۔ ملازمتوں کے سکڑتے مواقع‘ بے روزگاری کی سونامی‘ بکتے ہوئے سرکاری سیکٹر کو دیکھتے ہوئے ہم نے طے کرلیا ہے کہ نوکری کی تلاش کے ساتھ ساتھ دوسرا کام بھی کریں گے تاکہ نوکری ملے یا نہ ملے دووقت کی روٹی تو ملے۔ بے روزگاری میں 2GB ڈاٹا اڑانے سے بہتر ہے کہ دو پیسے کمالیے جائیں۔ کب تک ہم ڈگریوں کی فیس میں لٹے پٹے ماں باپ کے پیسے انٹرویو اور زیراکس میں اڑائیں گے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد ہماری زندگی دوسروں کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند نہ رہی، لیکن ہر مہینہ میں تین دن ایسے آتے ہیں جب گھر میں ہماری قدر و قیمت بڑھ جاتی ہے۔ بیٹا‘ بہو‘ پوتے‘ پوتیاں ہمارے اردگرد منڈلاتے ہیں۔ ہر کوئی ہمیں اپنی موجودگی کا احساس دلانا چاہتا ہے۔ ان تین دنوں میں پنشن کے ملنے والا دن بڑااہم ہوتا ہے۔ صبح اٹھتے ہی بہو بڑے ادب کے ساتھ کشتی میں سلیقہ سے چائے توس اور پانی لاتی ہے۔ صبح صبح پانی گرم کیا جاتا ہے۔ ہم شان بے نیازی سے اٹھ کر حمام میں چلے جاتے ہیں‘ جہاں صابن تولیہ رکھا ہوتا ہے۔ ہم پوری تندہی کے ساتھ تن دھوئی کرتے۔ حمام سے فارغ ہوتے ہی استری کیے ہوئے کپڑے‘ تیل‘ کنگھی‘ جوتے‘ چھڑی ہمارا انتظار کرتے ہیں۔ ہم پوتے کو ساتھ لیے بڑی شان سے بن سنور کر گھر سے بینک کے لیے جاتے ہیں۔ مانو شبّن سرکار کے ولیمہ میں جارہے ہوں۔ پنشن کی رقم جیب میں آتے ہی ہماری آن بان شان اور اکڑ قابل دید ہوتی ہے۔ واپسی میں سواری سب سے پہلے میڈیکل اسٹور پر رکتی ہے۔ دوائیں دینے کے لیے گھنٹوں انتظار کرانے والا سیٹھ فوراً مسکراکر خود سلام کرتا ہے۔ بِل کی ادائیگی پر شکریہ ادا کرتا ہے۔ ساتھ ہی جھوٹی تسلی دیتا ہے کہ گولیوں کے بل کی فکر مت کرنا‘ دواو¿ں میں ناغہ مت کرنا۔ بِلا جھجھک دوائیں لے لینا وغیرہ۔ ہم پوتے کو لیے کالو گوشت والے کی دکان میں داخل ہوتے ہیں۔ ہماری اونچی آواز میں کھنکار کوسنتے ہی کالو کو ہماری جیب میں رکھی پنشن کی رقم نظر آجاتی ہے۔ ہم گوشت اور مٹھائیوں سے لدے پھندے گھر پہنچتے ہیں۔ ہمارے اعزاز میں گرم گرم تہاری بنائی جاتی ہے۔ دسترخوان پر سبھی موجود ہوتے ہیں۔ ہمیں اصرار کرکے کھانا کھلایا جاتا ہے۔ شام تک ہر ایک حاضر ہوہوکر ضروری اور غیرضروری کاموں کے لیے رقم لے لیتا ہے۔ دوسرے دن یہ احترام رقم کی طرح کم ہوجاتا ہے۔ تیسرے دن رقم اور احترام دونوں ختم ہوجاتے ہیں۔
ایک ریٹائرڈ آدمی کو صابر و شاکر ہونا ضروری ہے تاکہ خاندان میں عزت کا بھرم قائم رہ سکے۔ مثلاً ہمیں تیز آواز میں چائے لانے کا حکم نہیں دینا چاہیے، کیوں کہ جتنی تیزی سے آواز ایک کان میں جائے گی اتنی ہی تیزی سے دوسرے کان سے نکال دی جائے گی۔ اس لیے آواز کی رفتار کو دھیمی‘ آہستہ‘ Slow رکھئےے تاکہ وہ ایک کان میں سے جائے کچھ دیر رکے اور پھر دوسرے کان سے خارج ہو۔ اگر ہم چائے کے لیے آواز دیں تو ایک آدھ گھنٹہ صبر کرلیں۔ ریٹائرڈ آدمی کی بیوی بھی ریٹائرڈ ہوتی ہے۔ گھٹنوں کا درد برداشت کرتے ہوئے سہارا لے کر اٹھنے اور باورچی خانے تک جانے میں وقت لگ ہی جاتا ہے۔ اس درمیان آپ نیوز چینل کے اینکر کی طرح چلّاچلّا کر تبصرہ کریں گے تو گھر میں نفرت ہی پھیلے گی۔ اس میں آپ کے چائے پانی کا ہی نقصان ہوگا۔ اگر ایک آدھ گھنٹے کے بعد چائے آجائے تو خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیجئے۔ اگر چائے نہ آئے تو صبرسے کام لیجئے۔ اس قول پر عمل کریں کہ خاموشی‘ بہترین علاج ہے۔
ہماری تحقیق کے مطابق قدیم زمانے کا شیطان کم علم اور کم عقل تھا۔ اس لیے گھروں میں امن قائم تھا۔ بڑے بوڑھوں کی عزت اور دبدبا قائم تھا۔ بزرگوں کے سامنے ہنسی مذاق کرنا‘ اونچی آواز میں بولنا بے ادبی سمجھا جاتا تھا۔ لوگ ایک دوسرے کے ہمدرد اور مدد گار تھے۔ ساس‘ بہو کے جھگڑے گھروں سے باہر نہیں نکلتے۔ نہ ہی ماں کو گھر سے نکالا جاتا۔ دھیرے دھیرے شیطان کا علم بڑھتا گیا۔ اس نے انسانوں کو نافرمانی سکھانے کے لیے بڑے بڑے اسکول‘ کالجس اور ادارے قائم کیے۔ وہاں انسانوں کو بڑی محنت سے عزت نفس کا سبق سکھایاگیا۔ فرد کی آزادی کی اہمیت سمجھائی گئی۔ جذبات کی جگہ مفادات کا درس پڑھایا گیا۔ اپنے منہ کا لقمہ کھلا نے والے ماں‘ باپ کو 60 سال کے بعد صرف کھانے والا قرار دیاگیا۔
….بوڑھوں کو معیشت کے لیے خطرہ قرار دیاگیا۔ اس طرح بوڑھوں کو چھٹی انگلی قرار دیاگیا۔ ان کو عضوئے معطل قرار دے کر ان سے بزرگی کا مقام اور احترام چھین لیاگیا۔ ان کے مشوروں کو out of Date کہا گیا۔ نوجوان ان سے مشورے لینے کترانے لگے۔ اس کے نتیجہ میں بزرگوں کی بے ادبی اور نافرمانی کو فروغ حاصل ہوا۔ کم کپڑے پہننا‘ نئے کپڑے پھاڑ کر پہننا‘ بال بڑھانا‘ بیوٹی پارلر‘ جینٹس پارلر‘ موبائیل‘ ٹی وی ریچارج پر بزرگوں سے زیادہ خرچ کرنا تہذیب کی علامت بن گئی۔ شیطان کا کام آسان ہوا۔ شیطان ہمارے دلوں پرآن لائن محنت کرنے لگا۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ اولاد ماں‘ باپ کو اولڈ ایج ہاو¿س میں ڈالنے لگی۔ ہم مسلمانوں میں ماں‘ باپ کو اولڈ ایج ہاو¿س میں ڈالنے کا تناسب بھلے ہی نہ کے برابر ہے، لیکن اپنے ہی گھروں میں بے گھر ہونے والے بوڑھے ماں‘ باپ بڑی ہی کسمپرسی کی زندگی گزاررہے ہیں۔ یہ تناسب دن بہ دن بڑھتا ہی جارہا ہے۔ بعض بڑے بڑے اور شاندار بنگلوں میں ماں‘ باپ کے لیے ایک کمرہ تک میسر نہیں ہے۔ حالانکہ ان بنگلوں میں کرائے دار بھی رکھے جاتے ہیں۔ ایسے ہی خوبصورت بنگلوں میں ایک قسم کی نحوست اور ویرانی چھائی رہتی ہے۔ جن گھروں میں اسلام زندہ ہے وہاں ماں‘ باپ کی قدر و منزلت باقی ہے ،جن گھروں میں اسلام مردہ حالت میں ہے، وہاں اسے موٹی موٹی کتابوں میں سجاکر رکھاگیا ہے۔ وہاں دِکھاوے کے لیے ماں باپ کی قدر کی جاتی ہے۔ ماں‘ باپ بھی اولاد کا بھرم رکھنے کے لیے جھوٹی شان دکھاتے ہیں‘ ایسے گھروں میں ماں باپ پر سب سے زیادہ ظلم ہوتا ہے۔ اس ظلم کے خلاف بولنے کی انہیں اجازت تک نہیں ہوتی۔ جن گھرانوں سے اسلامی اقدار کا جنازہ نکل چکا ہے‘ وہاں ماں باپ کو بھی گھروں سے نکال دیا جاتا ہے۔ ہم اور آپ ایسے کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں سے واقف ہیں جو اپنے اور اپنے بچوں کے انٹرٹینمنٹ اور کارٹون پر جتنا ہر ماہ خرچ کرتے ہیں، اس سے آدھا بھی ماں‘ باپ کے علاج و دواو¿ں پر خرچ نہیں کرتے۔ ایسے ہی ماں‘ باپ کے نافرمانوں کے انٹرٹینمنٹ کے لیے دوزخ کی آگ جلائی جاتی ہے۔ ماں باپ کی خدمت کرنے والوں کے لیے جنت‘ حوض کوثر‘ جنت کے باغوں میں فری انٹرٹینمنٹ ہوگا ۔ یہ آفر صرف اسی زندگی کے لیے ہے۔ اسی لیے جنت کو ہمیشہ کے لیے ری چارج کرلیجئے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے انٹرٹینمنٹ کا مزہ اٹھائےے۔
ریٹائرمنٹ سے کئی ماہ پہلے ہی سے ریٹائرمنٹ کی کیفیت چھانے لگتی ہے۔ یعنی ریٹائرمنٹ کے لیے لگنے والے کاغذوں کو جمع کرنے کی تگ و دو شروع ہوجاتی ہے۔ سروس بک کے ایک ایک لفظ کو پرکھا جاتا ہے۔ حاصل شدہ تنخواہ کا دوبارہ حساب کتاب ہوتا ہے۔ تنخواہ کم ملی ہوتو بقایہ مل جاتا ہے۔ اگر زیادہ لی ہوتو واپس بھرنا ہوتا ہے۔ جب تک سروس بک Verify نہ ہوجائے کام آگے نہیں بڑھتا۔ اس سروس بُک کو دیکھ کر ہمیں اپنا اعمال نامہ یاد آگیا۔ سروس بُک میں سروس کے صرف 30/35 سال کی مخصو ص کارکردگی درج ہے۔ قیامت میں ہمیں ایک ایسی جیون بُک ملنے والی ہے جس میں ہر لمحہ کا عمل لکھا ہوگا۔ کسی غلطی کا احتمال نہ ہوگا۔ نہ کسی کی سفارش چلے گی نہ ہی کوئی مدد کرسکے گا۔ جیون بُکVerify ہونے تک قیامت میں ہر کوئی پریشان ہوگا۔ دولت‘ وقت‘ جوانی‘ہر ایک کے خرچ کا حساب دینا ہوگا۔ کاش کے اس دن ہم سب کی جیون بُک Right ہو اور ہم سب کو Right Hand میں مل جائے۔
دانا لوگوں کا کہنا ہے کہ سروس بُک سروس پر رہتے ہوئے آخری چھ ماہ میں مکمل کرلی جائے تاکہ بروقت وظیفہ اور اس کے فوائد مل سکے۔ ہر سال ہزاروں لوگ ریٹائر ہوتے ہیں لیکن بروقت پنشن سینکڑوں کو ہی مل پاتی ہے۔ حالانکہ ریٹائرمنٹ کے دن ہی رقم دینے کا GR مو جود ہے‘ جب سرکاری لوگ بغیر کسی ٹھوس الزام کے مولانا کلیم صدیقی اور صدیق کپن کو کئی سال جیل میں رکھ سکتے ہیں تو آپ کی پنشن کیوں نہیں روک سکتے؟ اس لیے بروقت پنشن کا ٹینشن لے کر کاغذی کارروائی مکمل کرائیں۔ چاہے اس کے لیے گاندھی جی کی فوٹو والے چند بھاری کاغذات ہی کیوں نہ خرچ کرنا پڑے۔ بابو لوگ (کلرک) تو ہر صحیح اور غلط کاغذ پر ہماراکلر فوٹو نکال سکتے ہیں۔ ان بابو لوگوں کو گاندھی جی ہی قابو میں رکھ سکتے ہیں۔ ویسے بھی ہمارا دیش ہمیشہ ہی سے گاندھی بھکت رہا ہے۔
پنشن کی اہمیت کا اندازہ سروس کے دوران نہیں ہوتا۔ اس وقت تو تنخواہ فل ہوتی ہے ۔ ہر مہینہ پوری مٹھی گرم ہوتی ہے۔ نوکری اور تنخواہ کا رعب و دبدبہ بیوی اور بچوں پر قائم رہتا ہے۔ اعضاءہر مہینہ نوٹوں کی گرمی پاکر سرگرم رہتے ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد نیند‘ آمدنی اور احترام آدھے رہ جاتے ہیں۔ بلڈ پریشر‘ شوگر‘ کولیسٹرول‘ دل کی دھڑکن‘ پروٹین اور کیروٹین بڑھ جاتے ہیں۔ غذا سے زیادہ دوا کھائی جاتی ہے۔ گھٹنے کا درد اٹھنے‘ بیٹھنے اور چلنے کی رفتار روک دیتا ہے۔ ایسے میں بڑھتے میڈیکل بل سے تنخواہ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ جس اولاد پر ہم اپنی تنخواہ کا آخری روپیہ خرچ کردیتے ہیں‘ وہی اولاد کے لیے ہمارے آخری وقت میں ایک روپیہ خرچ کرنا گراں گزرتا ہے۔ اس لیے بیٹا ہر وقت گرانی (مہنگائی) کا رونا روتا ہے۔
ایک باپ اپنی تنخواہ سے اپنی اولاد کو ہر ممکن سہولت دینے کی کوشش کرتا ہے، لیکن کئی تنخواہ دار بیٹے مل کر بھی باپ کی دواو¿ں کا خرچ نہیں اٹھاسکتے۔ سینکڑوں روپے کمانے والا باپ‘ اپنی اولاد پر ہزاروں روپے خرچ کرتے ہوئے پیشانی پر ایک بل نہیں لاتا۔ لاکھوں روپے کمانے والی اولاد ماں باپ کی دوا¶ں پر سینکڑوں روپیہ خرچ کرتے ہوئے اپنی پیشانی پر لاکھوں بل لاتی ہے۔ اولاد ماں باپ کی دواو¿ں کے خرچ کا رونا روتی ہے۔ کوئی باپ اپنی اولاد کی دواو¿ں کا رونا نہیں روتا کیونکہ باپ ہمیشہ باپ ہوتا ہے۔
حکومت میں بیٹھے سیاسی بازیگروں نے سرکاری ملازمین کی پنشن پر پابندی عائد کردی۔ عوام کو بہکانے کے لیے جھوٹا بہانہ کیا جارہا ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہ سرکاری خزانے پر بھاری بوجھ ہے، لیکن سرکاری خزانے پر پڑنے والے بوجھ کی پرواہ کئے بغیر سبھی پارٹیوں کے سیاسی بازیگر بڑی بے شرمی سے ایک زائد پنشن ہر ماہ اٹھارہے ہیں اور دیش کے خزانے کو لوٹ رہے ہیں۔ پنشن کے تعلق سے ان کا یہ دوغلا پن چلّو بھر پانی میں ڈوب مرنے والی بات ہے۔ اپنی پوری جوانی سرکاری نوکری میں کھپانے والے ملازمین سے سیاسی بازیگر یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد سرکاری ملازمین اپنا پیٹ بھرنے کے لیے بڑھاپے میں نیا روزگار تلاش کریں یا مزدوری کرکے اپنا گزر بسر کریں۔ سرکاری خزانے پر بوجھ بننے والے ان سیاسی بازیگروں کی پنشن بند کی جائے تو بیرون ملک سے کالا دھن لائے بغیر ہر شہری کے اکاو¿نٹ میں پندرہ لاکھ روپے جمع کئے جاسکتے ہیں اور شہریوں کے اچھے دن واپس لائے جاسکتے ہیں۔ ہمارے اچھے دن کسی پھینکو کے جملے سے نہیں بلکہ پھینکو لیڈروں کی پنشن بند کرنے سے آئیں گے۔
ہم نے آج تک پنشن کے بغیر کسی سیاسی چمن لال کو یا اس کی بیوہ کو کسمپرسی کی زندگی گزارتے نہیں دیکھا۔ چمن لال تو اپنے پہلے پانچ سالوں میں ہی سات پشتوں کی کمائی کرلیتے ہیں۔ بغیر پنشن کے درجہ سوّم اور چہارم کے ملازمین کے کئی خاندان کسمپرسی کی زندگی گزارتے مل جائیں گے۔ حادثہ‘ بیماری اور اچانک موت کا شکار ہونے والے ملازمین کے خاندانوں کو غربت اور محتاجی کا شکار ہوتے آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں جبکہ سیاسی چمن لالوں کی فیملی سرکاری پنشن پر عیش کررہی ہے۔ جولوگ ایمانداری سے نوکری کرتے ہیں۔ ایمانداری کا کھاتے ہیں، دوران سروس لوگوں کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں سماج اور سماجی سرگرمیوں سے جڑے رہتے ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی چاق و چوبند نظر آتے ہیں۔ سماجی تنظیموں‘ دینی جماعتوں اور ملّی سرگرمیوں میں ان ریٹائرڈ لوگوں کا غلبہ ہوتا ہے۔ اکثر ملّی تنظیموں کی قیادت کی سوچ نوجوانوں کی سوچ سے میل نہیں کھاتی۔ ملّی تنظیموں کی مصلحت پسندی‘ سست رفتاری‘ مفاد پرستی‘ کرسی اور عہدہ کی خواہش اجارہ داری کی جنگ‘ سلگتے مسائل پر بے جا خاموشی کو لے کر نوجوان طبقہ ہمیشہ شاکی رہا ہے۔ قیادت اور نوجوانوں کی سوچ کے درمیان ایک بہت بڑا جنریشن گیپ بن رہا ہے جس کے منفی نتائج ملّت کے مستقبل کے لیے بڑے نقصاندہ ہیں۔ قیادت کو نوجوانوں کے جذبات اور ملت کے مفادات میں توازن رکھنا ہوگا ورنہ یہ جنریشن گیپ بگ بینگ (Big Bang) بھی ہوسکتا ہے۔ اس کی ہلکی سی جھلک نپور شرما کی گستاخی کے رد عمل میں دیکھنے کو ملی۔ قیادت میں بھی ریٹائرمنٹ کی عمر کا تعین ضروری ہے۔ قیادت میں ہروقت تبدیلی ہوا کا خوشگوار جھونکا ثابت ہو تی ہے ‘ ہوسکتا ہے کہ یہ منفی سوچ ہمارے دماغی خلل کا نتیجہ ہو۔ کیوں کہ ہم نہ کوئی ملی قائد ہیں نہ ہی دانشور‘ ہم تو اپنی عقل سے بھینس کا قصیدہ یا گدھے کی داستان گوئی ہی لکھ سکتے ہیں۔
جن لوگوں کے عزائم بلند اور جوان ہوں وہ ریٹائرڈ ہوکر بھی tired نہیں ہوتے۔ ایسے ہی Wonderfulلوگوں کی Wonderful Army سے سماج میں تبدیلی کا کام لیا جاسکتا ہے۔ یہ لوگ تجربہ اور وقت کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں۔ انہیں فکر معاش نہیں ہوتی۔ گھریلو ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہوتے ہیں۔ سماج اور حکومت کے غیر ضروری دباو¿ سے آزاد ہوتے ہیں۔ اس Wonderful Army سے جہیز کی لعنت کا خاتمہ Skill Development ‘ نشہ خوری‘ رشتہ و نسبت فیملی کونسلنگ‘ بلاسودی گروپ کا قیام‘ بلاسودی معاشی پراجکٹ‘ بلاسودی مائیکرو فینانس‘ سرکاری اقلیتی بجٹ کو صد فیصد خرچ کروانے کے لیے دباو¿‘ خواتین کے بلاسودی بچت کٹ‘ سودی قرضوں سے نجات کی کونسلنگ وغیرہ جیسے بنیادی کام لیے جاسکتے ہیں۔ اس کے لیے ہمارے منصوبہ ساز دماغوں کو ویژن 2025ویژن 2027 اور ویژن 2030 جیسے قلیل مدتی منصوبہ بنانا چاہیے۔
ہمارے دوست کے ریٹائرمنٹ سے متاثر ہوکر لکھے گئے اس مضمون کو آپ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد فرصت کے دنوں میں اطمینان سے پڑھ سکیں گے۔
٭٭٭

تبصرہ کریں

Back to top button