ریکارڈ بنانے کی خواہش مند خاتون پائلٹ زارا ردر فورڈ کی سعودی عرب آمد

زارا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "یہ پرواز میری توقعات سے بڑھ کر رہی جس کوبھلایا نہیں جا سکتا .. میں مملکت کے اوپر پرواز کرتے ہوئے شان دار مناظر سے لطف اندوز ہوئی۔ اس دوران میں ہر لمحہ میرے لیے غیر معمولی تجربے کا حامل تھا"۔

انفرادی پرواز کے ذریعے دنیا کے گرد چکر لگانے والی کم عمر ترین خاتون پائلٹ کا ریکارڈ قائم کرنے کی کوشش میں مصروف زارا ردرفورڈ کل جمعرات کے روز سعودی دارالحکومت کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچیں۔ اپنے سفر میں ان کا طیارہ 5 براعظموں کے 52 ممالک میں اترے گا۔ اس سفر کا مقصد "خواتین پر زور دینا ہے کہ وہ سائنس و ٹکنالوجی ، انجینئرنگ اور ریاضیات کی تعلیم حاصل کریں اور ہوابازی پر توجہ دیں”۔

زارا ردرفورڈ 2000ء میں بلجیم میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد "سام” برطانوی فضائیہ کے ہواباز رہ چکے ہیں۔ زارا کی والدہ "پیاٹرس” کا تعلق بلجیم سے ہے۔ وہ بھی ماضی میں ہوابازی کر چکی ہیں۔ گذشتہ برس اگست میں اپنے مشن کا آغاز کرنے والی زارا کو امید ہے کہ جنوری کے وسط تک وہ اپنا سفر مکمل کر لیں گی۔

زارا نے سفری مشن کا آغاز بلجیم کےKortrijk-Wevelgem ہوائی اڈے سے کیا تھا۔ وہ اپنے ہلکے وزن کے Shark UL طیارے کے ساتھ مجموعی طور پر 51 ہزار کلو میٹر کا سفر طے کریں گی۔

زارا متحدہ عرب امارات سے سعودی عرب پہنچیں تو ان کا استقبال مملکت میں بلجیم کی خاتون سفیر ڈومینک مینور نے کیا۔ اس موقع پر ریاض ایئرپورٹس کمپنی اور سعودی ایوی ایشن کلب کے متعدد ذمے داران بھی موجود تھے۔ زارا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "یہ پرواز میری توقعات سے بڑھ کر رہی جس کوبھلایا نہیں جا سکتا .. میں مملکت کے اوپر پرواز کرتے ہوئے شان دار مناظر سے لطف اندوز ہوئی۔ اس دوران میں ہر لمحہ میرے لیے غیر معمولی تجربے کا حامل تھا”۔

زارا کے پاس بلجیم اور برطانیہ دونوں ممالک کی شہریت ہے۔ زارا کے مطابق وہ انفرادی پرواز میں دنیا کے گرد چکر لگانے والی کم عمر ترین خاتون بننا چاہتی ہیں تا کہ ان کا نام "گینز ورلڈ ریکارڈز” میں درج ہو جائے۔

سعودی عرب کا مقصد ہے کہ زارا ردرفورڈ کی میزبانی کے ذریعے ہوابازی کے سیکٹر میں خواتین کے کردار پر روشنی ڈالی جائے۔ اس سلسلے میں سعودی ایوی ایشن کلب اور سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے بیچ رابطہ کاری کو عمل میں لایا گیا ہے۔ سعودی عرب میں خواتین کو ہوابازی کے میدان میں با اختیار بنانے کی کوششیں جارہی ہیں۔ اس مقصد کو ویژن 2030 پروگرام کے مطابق پورا کیا جا رہا ہے۔

۰۰۰٭٭٭۰۰۰

ذریعہ
منصف ویب ڈیسک

تبصرہ کریں

Back to top button