زرعی بورویلز کا خشک ہونا قصہ پارینہ: ہریش راؤ

حیدرآباد: ریاستی وزیر فینانس ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ موسم گرما کے درمیان میں سدی پیٹ کی اراضیات کو سیراب کرنے کے مقصد کے تحت گوداوری سے پانی لارہے ہیں-

جبکہ اس موسم میں ایک گھڑا پانی حاصل کرنا خواب سے کم نہیں ہے۔ ملناساگر پراجکٹ کے کنڈا پوچماں کنال سے کوڈا ویلی واگو میں گوداوری کا پانی چھوڑ نے کے عمل کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے ہریش راؤ نے یہ بات کہی۔

کالیشورم لفٹ اریگشن پراجکٹ کے حصہ کے طور پر توگٹہ منڈل کے موضع تکاپور میں ملنا ساگر پراجکٹ تعمیر کیا گیا ہے۔ وزیر فینانس ہریش راؤ نے کہا کہ وہ دن بیت گئے –

جب بورویلز کے خشک ہونے سے فصلیں مرجھا جاتی تھیں اب گوداوری کے پانی سے ندیوں اور کنالس میں پانی ہی پانی ہے۔

تلنگانہ کے اُن علاقوں میں جہاں پہلے آبپاشی کا نظم صحیح نہیں تھا اب وہاں ہر طرف سرسبز وشاداب کھیت لہراتے دکھائی دیتے ہیں، چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے گوداوری سے پانی لاتے ہوئے سدی پیٹ میں دو فصلوں کی کاشت کو یقینی بنایا۔

دریں اثنا انہوں نے کانگریس اور بی جے پی دونوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ گذشتہ چند برسوں سے تلنگانہ کی تیز رفتار ترقی، ان دونوں جماعتوں کو دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ ٹی آر ایس کے دور حکومت میں تلنگانہ نے تمام شعبہ جات میں ترقی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہلدی واگو اور کوڈاویلی واگو میں پانی چھوڑنے سے کسانوں کو اپنی فصلوں کو بچانے میں مدد ملے گی۔ قبل ازیں ہریش راؤ نے ملنا ساگر سے گنڈی چیرو میں پانی چھوڑنے کا افتتاح کیا۔

یہ چیرو (تالاب) ضلع یدادری بھونگیر میں واقع ہے۔ پروگرام میں ایم پی میدک کتہ پربھاکر ریڈی، صدرنشین ضلع پریشد روجا شرما اور دیگر شریک تھے۔

Back to top button