سری لنکا میں پٹرول 420 روپئے لیٹر

حکام کی جانب سے اس بات کی کوشش کی جارہی ہے کہ بیرونی زر تبادلہ کے ذخائر میں کمی کی وجہ پیدا شدہ معاشی بحران سے ملک کو بعجلت ممکنہ نکالنے کی راہ ہموار کی جاسکے کیونکہ صورتحال دن بدن بگڑتی جارہی ہے۔

 کولمبو: سری لنکا میں شدید معاشی بحران کی وجہ سے عوام کو ناقابل بیان مسائل اور مشکلات کا سامنا کرناپڑرہاہے۔ بتایاجاتاہے کہ پٹرول کی قیمت 420 روپئے فی لیٹر ہوگئی ہے جبکہ ڈیزل 400 روپئے فی لیٹر فروخت کیاجارہاہے۔ ایندھن کے حصول کے لیے اسٹیشنوں پر طویل قطاریں دیکھی جارہی ہیں۔ کابینہ کے اجلاس میں مختلف امور کا جائزہ لیاگیا۔

حکام کی جانب سے اس بات کی کوشش کی جارہی ہے کہ بیرونی زر تبادلہ کے ذخائر میں کمی کی وجہ پیدا شدہ معاشی بحران سے ملک کو بعجلت ممکنہ نکالنے کی راہ ہموار کی جاسکے کیونکہ صورتحال دن بدن بگڑتی جارہی ہے۔ فیول کی قیمتوں پر آج تین مرتبہ نظر ثانی کی گئی۔

یہ بات وزیر برقی وتوانائی نے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ حمل و نقل سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیاجارہاہے کیونکہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کہیں زیادہ اضافہ نہ صرف عوام کو مشکلات پیش آرہی ہیں بلکہ ٹرانسپورٹ کا مسئلہ بھی پیدا ہوتاجارہاہے۔

 آٹو ڈرائیورں نے کہاہے کہ اب جبکہ پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوگیاہے ہم بھی کرایوں میں اضافہ کرنے کے لیے مجبور ہوتے جارہے ہیں۔ آٹو ڈرائیوروں کا کہناہے کہ پہلے فی کیلو میٹر پر ہم نے 90 روپئے اضافہ کا فیصلہ کیاہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم کرایہ میں اضافہ کرنے کے لیے مجبور ہوتے جارہے ہیں۔

 ملک میں بحران کا اثر نہ صرف محدود اداروں تک ہے بلکہ اس کے اثرات دوسرے ادارہ جات پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔1948 ء میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد اس ملک میں مسائل اور مشکلات کا سلسلہ بتدریج جاری ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوتاجارہاہے۔ پکوان گیس کا حصول ایک مسئلہ بن گیاہے۔

 غذائی اشیاء کی قیمتوں میں کہیں زیادہ ہوتا جارہاہے۔ کئی علاقوں میں برقی کی سربراہی کا مسئلہ بھی توجہ طلب ہے۔ افراط زر میں 40 فیصد تک اضافہ ہوگیاہے۔ کئی اداروں اور دکانات میں غذائی اشیاء کے علاوہ ادویات کی قیمتوں میں ناقابل بیان حد تک اضافہ کردیاگیاہے جبکہ کئی دکانات میں ادویات اور غذائی اشیاء ختم ہوچکی ہیں۔ درآمدات کے تعلق سے بھی حکام خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button