سعودی تیل پلانٹ پر حوثی حملے، تیل کی قیمتوں میں اچھال

یمن کے حوثی باغیوں نے جمعہ کو سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی ارامکو کے جدہ واقع تیل ڈیپو پر ڈرول اور میزائلوں سے کئے گئے حملے کی ذمہ داری لے لی ہے۔

نیویارک: عرب واقع تیل ڈیپو اور پلانٹس پر یمن کے حوثی باغیوں کے حملے بعد تیل کی سپلائی میں رخنہ آنے کے خدشات کے درمیان تیل کی قیمتوں میں اچھال آیا ہے۔ حملے کے بعد نیویارک مرکینڈائز ایکسچینج پر جمعہ کو ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیئٹ (خام تیل کی ایک قسم) کی قیمتیں 1.56 کے اچھال کے ساتھ فی بیرل 113.4 ڈالر پر پہنچ گئی۔

لندن آئی سی آئی فیوچر ایکسچینج میں برینٹ کروڈ کی مئی ڈلیوری کی قیمتیں 1.62 کے اچھال کے ساتھ 120.65 ڈالر فی بیرل پر آگئیں۔ یمن کے حوثی باغیوں نے جمعہ کو سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی ارامکو کے جدہ واقع تیل ڈیپو پر ڈرول اور میزائلوں سے کئے گئے حملے کی ذمہ داری لے لی ہے۔واضح رہے کہ ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں سرحد کے اندر یہ اس طرح کا تیسرا حملہ ہے۔

حوثی فوجی ترجمان یحیٰ سارا نے ان کے ذریعہ چلائے جارہے المسيرة ٹی وی پر نشر ایک بیان میں کہا ہے ،’’بم سے لدے کئی ڈرون کی مدد سے راس تنورا اور رابغ میں تیل ریفائنریوں کے ساتھ ساتھ ججان اور نظران میں ارامکو کے تیل ڈیپو کو نشانہ بنایا گیا۔ اسکے علاوہ ،ونگ میزائلوں کے ایک بیراج نے جدہ اور سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ارامکو تیل ڈیپو کو بھی اپنا نشانہ بنایا۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے ایگزیکیوٹو ڈائریکٹر فتح بیرول نے جمعرات کو کہا،’’یوکرین اور روس کے درمیان جاری تنازعے کی وجہ سے تیل کی منڈیوں میں صورتحال پہلے ہی گرم ہے اور اب اس خبر نے آگ میں مزید تیل کا کام کیا ہے۔ ‘‘انہوں نے ضرورت پڑنے پر آئی ای اے کی ہنگامی ذخائر سے تیل جاری کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ اس کے ساتھ ہی مسٹر بیرول نے کہا کہ آئی ای اے کے رکن ممالک روس سے تیل اور گیس کی درآمد کو کم کرنے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں
ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button