آرین خان کیس: سمیر وانکھیڈے کو کس بات کا خوف ہے؟

یہاں تک کہ سمیر وانکھیڈے اپنے بچاؤ میں مذہب کا استعمال کرنے کی بھی کوشش کررہے ہیں۔ سمیر کا کہنا ہے کہ وہ ایک سیکولر فیملی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد ہندو ہیں جبکہ ان کی والدہ مسلمان۔

حیدرآباد: بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان کے فرزند آرین خان کی گرفتاری کا معاملہ اور عدالت میں جاری کیس میں اچانک ایک نیا موڑ آگیا ہے جس کے بعد نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) کے پسینے چھوٹ گئے ہیں۔ این سی بی ایک مرکزی تحقیقاتی ادارہ ہے جو ملک کے طول و عرض میں منشیات کی غیرقانونی تجارت، منتقلی اور استعمال وغیرہ پر نگرانی رکھنے کا کام کرتا ہے۔

آرین خان کی گرفتاری:

کنگ خان شاہ رخ خان کے 23 سالہ فرزند کو ممبئی کے ساحل سے دور ایک تفریحی سمندری جہاز پر دھاوا کرنے کے بعد این سی بی نے حراست میں لیا تھا۔ اس جہاز پر ہائی پروفائل پارٹی چل رہی تھی۔ یہ واقعہ 3 اکتوبر کا ہے۔ پہلے آرین خان کو پوچھ تاچھ کے لئے حراست میں لیا گیا اور اس کے بعد انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ تب سے وہ آرتھر روڈ جیل میں قید ہیں۔

آرین کو اب تک ضمانت کیوں نہیں ملی:

آرین خان کی ضمانت کے لئے 8 اکتوبر کو درخواست ضمانت درخواست داخل کی گئی۔ تاہم این ڈی پی ایس مجسٹریٹ کی عدالت نے یہ کہتے ہوئے آرین کی درخواست مسترد کردی کہ اس معاملہ کی سماعت اس کے دائرہ کار میں نہیں آتی۔ اس کے بعد این سی بی کی خصوصی عدالت میں درخواست ضمانت داخل کی گئی جہاں 20 اکتوبر کو شاہ رخ کے بیٹے کو ضمانت دینے کے انکار کردیا گیا۔ اب 26 اکتوبر کو ممبئی ہائی کورٹ میں درخواست ضمانت کی سماعت ہونی ہے۔

کیس اورتنازعات:

یہ کیس شروع سے ہی تنازعات میں گھرا ہوا ہے۔ آرین کی گرفتاری کے موقع پر ہی ایک غیرمتعلقہ شخص کی این سی بی دفتر میں موجودگی پر بحث شروع ہوگئی تھی۔ اس شخص کا نام کرن گوساوی بتایا جاتا ہے۔ میڈیا اور مہاراشٹرا پولیس کی توجہ مرکوز ہوتے ہی وہ غائب ہوگیا۔ مہاراشٹرا میں برسراقتدار محاذ کی حلیف جماعت این سی پی کے ترجمان اور ریاستی وزیر نواب ملک کئی سوال اٹھا چکے ہیں جس کے بعد این سی بی پریشان ہے۔ این سی بی کے عہدیدار مختلف عذر تراشیاں کرکے اپنا موقف صحیح ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

این سی بی زونل ہیڈ:

سمیر وانکھیڈے این سی بی زونل ہیڈ ہے۔ یعنی مہاراشٹرا زون کی سربراہی ان کے ذمہ ہے اور گذشتہ ایک سال سے وہ بالی ووڈ میں ڈرگس کا صفایہ کرنے کا عزم کئے ہوئے ہیں۔ تاہم بعض مواقع پر ان سے ایسی غلطیاں سرزد ہوئی ہیں جن سے سیاسی لیڈروں کو آرین کیس میں خامیوں کا پتہ چل گیا ہے اور بالخصوص نواب ملک، سمیر وانکھیڈے کو بے نقاب کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔ سشانت سنگھ راجپوت کے معاملہ کی تحقیقات بھی سمیر وانکھیڈے نے ہی کی تھی۔ اس کیس میں سشانت کی گرل فرینڈ ریہا چکروتی کو گرفتار کیا گیا تھا اور اسے ایک ماہ بعد ضمانت ملی تھی۔  

این سی پی لیڈر نواب ملک نے کئی مرتبہ پریس کانفرنس کرکے راست سمیر وانکھیڈے سے سوال پوچھے ہیں لیکن وہ ان کے مناسب جواب دینے میں اب تک ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ وہ صرف خود کو ایماندار عہدیدار بتاتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں وہ صرف اپنی ڈیوٹی کررہے ہیں۔ گجرات کی مندرا بندرگاہ پر پکڑی گئی ہزارہا کروڑ روپے کی ہیروئین کے معاملہ پر بھی اسرار کے پردے پڑے ہوئے ہیں اور لوگ سوشیل میڈڈیا پر بار بار یہ سوال کررہے ہیں کہ کیوں اس معاملہ کی تفصیلی تحقیقات نہیں کی جاتیں اور این سی بی کے علاوہ میڈیا آرین خان کے کیس میں ملی صرف 6 گرام ہیروئین کے پیچھے کیوں پڑا ہوا ہے؟

کیس میں آیا اچانک نیا موڑ:

اس کیس میں اتوار کے روز اس وقت اچانک ایک نیا موڑ آگیا جب ایک گواہ نے اچانک یو ٹرن لیتے ہوئے خود این سی بی کے زونل ہیڈ سمیر وانکھیڈے کو شکوک و شبہات کے گھیرے میں کھڑا کردیا جس کے بعد سمیر وانکھیڈے بہت خوفزدہ ہیں۔ گواہ کا نام پربھاکر سائل ہے اور وہ جہاز پر دھاوے کے وقت سمیر وانکھیڈے اور کرن گوساوی کے ساتھ موجود تھا۔ پربھاکر کا کہنا ہے کہ سارا معاملہ رشوت سے جڑا ہوا ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ شاہ رخ خان سے 25 کروڑ روپے اینٹھنے کے لئے آرین کو گرفتار کیا گیا۔ اس نے کرن گوساوی کو ایک شخص سام ڈیسوزا اور شاہ رخ خان کی مینیجر پوجا ڈڈلانی سے بات چیت کرتے ہوئے دیکھا اور سنا ہے جس میں 25 کروڑ روپے کے بارے میں ڈیل ہورہی تھی۔ یہ ڈیل پھر 18 کروڑ روپے پر آکر رک گئی جس کے بعد کرن گوساوی کہتا ہے کہ 8 کروڑ روپے سمیر وانکھیڈے کو دینے ہوں گے۔ پربھاکر کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے خود کیش سے بھرے دو بیاگ سام ڈیسوزا تک پہنچائے تھے جس میں 36 لاکھ روپے تھے۔

پربھاکر کے ان انکشافات کے بعد این سی بی کے پسینے چھوٹ گئے ہیں۔ بالخصوص سمیر وانکھیڈے کی حالت قابل دید ہوگئی ہے۔ دوسری طرف نواب ملک کے علاوہ شیوسینا کے قدآور لیڈر سنجے راوت این سی بی اور سمیر وانکھیڈے پر پریس کانفرنسوں اور سوشیل میڈیا کے ذریعہ مسلسل حملے کررہے ہیں۔ سنجے راوت نے اپنے ٹویٹر ہینڈل پر ایک ویڈیو شیئر کیا ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کرن گوساوی این سی بی کے دفتر میں آرین خان کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے اور اپنا فون آرین کے منہ کے قریب کرتا ہے اور آرین فون میں کچھ کہتا نظر آتا ہے۔

دوسری طرف نواب ملک نے سمیر وانکھیڈے پر جعلسازی کا بھی الزام لگایا ہے اور اس کا برتھ سرٹیفکیٹ ٹویٹ کیا ہے جس میں تاریخ تبدیل کی گئی ہے۔ ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ سمیر وانکھیڈے کا فرضی واڑہ یہاں سے شروع ہوتا ہے۔

ان حالات میں سمیر وانکھیڈے کو اپنا بچاؤ کرنا کافی مشکل نظر آرہا ہے۔ انہیں سمجھ نہیں آرہا ہے کہ وہ کیا کریں۔ سوشیل میڈیا پر مختلف لوگ مختلف باتیں کررہے ہیں۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ سمیر شاید اپنے سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے میں کچھ زیادہ ہی آگے نکل گیا اور اب معاملہ اس کے ہاتھ نکلتا جارہا ہے۔ سمیر وانکھیڈے کو مہاراشٹرا پولیس کی جانب سے اپنی گرفتاری کا بھی خوف ہے۔ انہوں نے ممبئی پولیس کمشنر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے انہیں گرفتاری سے تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ وہ اب بھی یہی دہائی دے رہے ہیں کہ وہ صرف اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔

یہاں تک کہ سمیر وانکھیڈے اپنے بچاؤ میں مذہب کا استعمال کرنے کی بھی کوشش کررہے ہیں۔ سمیر کا کہنا ہے کہ وہ ایک سیکولر فیملی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد ہندو ہیں جبکہ ان کی والدہ مسلمان۔ وہ دراصل نواب ملک کے ٹویٹس کی تاب نہیں لاپارہے ہیں۔ نواب ملک کے ٹویٹس کے بچاؤ میں وہ اپنے سیکولر خاندان کی دہائی دے رہے ہیں اور یہاں تک کہ وطن پرستی سے متعلق ٹویٹس کو ری ٹویٹس کرتے ہوئے صفائیاں پیش کرنے میں مصروف ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہوگا کہ ممبئی پولیس اس سلسلہ میں کب اور کیا قدم اٹھاتی ہے؟ شاید 26 اکتوبر کو آرین کی ضمانت کے بارے میں فیصلہ کے بعد ممبئی پولیس اپنا راستہ متعین کرے گی۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.