’شوہر چاہئے یا مٹن‘: گوشت خور بیوی سے شوہر کا سوال

کوئی بھی پیار کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے مگر غذاء کے بغیر نہیں۔ آپ اندازہ کیجئے۔ اس تراشہ پر سوشیل میڈیا میں جم کر بحث چل رہی ہے۔

حیدرآباد: ان دنوں سوشیل میڈیا اور کچھ ٹیلی ویژن چیانلس پر غذائی عادتوں پر جنگ چھڑی رہتی ہے جس کا اثر اب ازدواجی تعلقات پر پڑنے لگا ہے۔ اخبارات میں قارئین کے استفسار ات کے ایک کالم میں جب ایک سبزی خور نے اپنا مسئلہ پیش کرتے ہوئے لکھا کہ اس کی اہلیہ گوشت خوری چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہے اور اس نے اپنی بیوی سے یہ کہہ دیاکہ اب اسے گوشت یا شوہر دونوں میں سے کسی ایک کو منتخب کرنا ہوگا تب سے نیٹی زنس میں تائید اور مخالفت میں بٹ گئے ہیں۔

سوشیل میڈیا پر ایک اخبار کی کلپ وائرل ہوگئی ہے، جس میں ایک شخص اپنی کیفیت بیان کرتا ہے کہ وہ ایک خالص سبزی خور ہے، اس نے ایک ایسی ذات کی لڑکی سے شادی کی وہ بھی سبزی خور ہے لیکن اس کی بیوی نے شادی سے قبل یہ اقرار کیا تھا کہ وہ گوشت بہت پسند کرتی ہے اور باہر کھاتی بھی ہیں، چونکہ وہ بہت خوبصورت تھی، اس شرط پر اس سے شادی کے لئے راضی ہوگیا کہ وہ کہیں بھی دوبارہ مٹن نہیں کھائے گی۔

حال میں اسے پتہ چلا کہ وہ ہنوز گھر کے باہر خفیہ طور پر مٹن کھاتی ہے۔ اب وہ کہتی ہے کہ وہ مٹن پسند کرتی ہے اور اس کے بغیر رہ نہیں سکتی۔ وہ اب بھی اسے ایک مرتبہ معاف کرنے تیار ہے اور اسے یہ الٹی میٹم دے دیا ہے کہ اسے مٹن چاہئے یا وہ، کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا مگر اب وہ ڈرتا ہے کہ وہ مٹن کو ہی پسند کرے گی۔

اس نے یہ سوال کیا کہ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ وہ کس کا انتخاب کرے گی۔

اخبار نے اپنے اس قاری کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ مبارک ہو، تم نے ایک نیار یکارڈ قائم کیا ہے۔ یہ محبت کا پہلا مثلث ہے جس میں ایک لڑکی کو ایک آدمی اور ایک بکری میں کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ جہاں تک وہ کس کا انتخاب کرے گی۔۔۔

کوئی بھی پیار کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے مگر غذاء کے بغیر نہیں۔ آپ اندازہ کیجئے۔ اس تراشہ پر سوشیل میڈیا میں جم کر بحث چل رہی ہے۔

کئی نیٹی زنس نے یہ تبصرہ کیا کہ اس سے اخبارات کے اس طرح کے کالم میں شائع ہونے والے اس طرح کے سوالات سے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا استفسار کرنے والے حقیقی قاری ہوتے ہیں یا یہ سوالات ہی فرضی ہوتے ہیں۔

ذریعہ
منصف ویب ڈیسک

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.