شردپوار کو جان سے مارنے کی دھمکی

تشویش ظاہر کرتے ہوئے شیوسینا ترجمان منیشا کاینڈے نے کہا کہ شردپوار کو ہلاک کرنے کی دھمکیوں کے پیچھے کون ہے اس کا اندازہ لگانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہر کسی کو پتہ ہے کہ گوڈسے کی پوجا کون کرتا ہے۔

ممبئی: این سی پی صدر شردپوار کو 2 دن قبل سوشیل میڈیا پر جان سے مارنے کی مبینہ دھمکی پر مہاراشٹرا کی مہاوکاس اگھاڑی حکومت میں جمعہ کے دن ہلچل مچ گئی۔ این سی پی سربراہ کے حوالہ سے 11 مئی کو درپردہ دھمکی میں کہا گیا کہ بارہ متی کے ”گاندھی“ کا وقت آگیا ہے اور بارہ متی کے لئے وقت آگیا ہے کہ وہ ایک ناتھورام گوڈسے تیار کرے۔

 @NikhilBhamre8 کے ہینڈل سے پوسٹ ٹویٹ میں بارہ متی انکل سے معذرت بھی لکھا گیا۔ دھمکی کس تناظر میں دی گئی یہ واضح نہیں لیکن اس ٹویٹ کو گزشتہ 2دن میں کئی لوگوں نے لائک اور ٹویٹ کیا۔ سخت نوٹ لیتے ہوئے این سی پی کے وزیر امکنہ جتیندر اوہاڑ نے صورتِ حال کی ابتری پر افسوس ظاہر کیا اور پولیس سے کہا کہ وہ دھمکیاں ٹویٹ کرنے والے پاگل شخص کے خلاف سخت کارروائی کرے۔

انہوں نے مہاراشٹرا کے ڈائرکٹر جنرل پولیس (ڈی جی پی) اور ممبئی‘ تھانے اور پونے کے پولیس کمشنرس کی توجہ اس جانب مبذول کرائی۔ تشویش ظاہر کرتے ہوئے شیوسینا ترجمان منیشا کاینڈے نے کہا کہ شردپوار کو ہلاک کرنے کی دھمکیوں کے پیچھے کون ہے اس کا اندازہ لگانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہر کسی کو پتہ ہے کہ گوڈسے کی پوجا کون کرتا ہے۔

 انہوں نے وزیر داخلہ دلیپ ولسے پاٹل سے اس کا سخت نوٹ لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ قتل کی واضح دھمکی ہے اور دھمکی دینے والوں کی نظریاتی سطح کو دکھاتی ہے۔ دھمکی والوں سے سختی کے ساتھ نمٹا جانا چاہئے۔ سابق میں اسی ذہنیت کے عناصر نے ڈاکٹر نریندر دابھولکر‘ پروفیسر ایم ایم کلبرگی اور گووندپانسرے کا قتل کیا تھا۔

 کانگریس کے ریاستی جنرل سکریٹری سچن ساونت نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ عوام کو یہ احساس ہوجائے کہ بی جے پی اور سنگھ پریوار کی معاشرہ کو پرتشدد بنانے کی کوششوں نے ملک کو کہاں پہنچادیا ہے۔ آج نوجوان لوگوں کے ذہنوں میں نفرت گھولی جارہی ہے۔ انہیں مستقبل کے قاتل بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایسے بددماغوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہئے۔

شیوسینا کے مملکتی وزیر کشور تیواری نے کہا کہ ٹھیک ایک ماہ قبل (8  اپریل کو) شردپوار کے بنگلہ پر حملہ ہوا تھا۔ پولیس میں آج بھی ایسے لوگ ہیں جو بی جے پی کے وفادار ہیں۔ حالیہ واقعات کے پس منظر میں اس دھمکی کو ہلکے میں نہیں لینا چاہئے۔

مہاوکاس اگھاڑی حکومت کو شردپوار اور ان کے ارکان خاندان کی سیکوریٹی بڑھادینی چاہئے۔ برسراقتدارشیوسینا۔ این سی پی۔ کانگریس کے کئی دیگر سیاسی قائدین نے بھی 81 سالہ شردپوار کو سوشیل میڈیا نیٹ ورکس پر دھمکیوں کی مذمت کی۔  

تبصرہ کریں

Back to top button