شہباز احمد کو والد انجینئر بنانا چاہتے تھے

ایک متوسط گھرانے کے سربراہ کی طرح وہ بھی چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا سول انجینئر کے طورپر کام کرے اور گھر کا خرچ چلائے۔ چنانچہ انہوں نے گاؤں چھوڑ دیا اور ہاتھین میں رہنے لگے تاکہ بچوں کو اچھی تعلیم مل سکے۔

ممبئی: آر سی بی کی جیت کے ہیرو شہباز احمد میوات ضلع کے سکراوا گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ ان کے والد احمد جان پلوال میں ایس ڈی ایم کے ریڈر ہیں۔

ایک متوسط گھرانے کے سربراہ کی طرح وہ بھی چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا سول انجینئر کے طورپر کام کرے اور گھر کا خرچ چلائے۔ چنانچہ انہوں نے گاؤں چھوڑ دیا اور ہاتھین میں رہنے لگے تاکہ بچوں کو اچھی تعلیم مل سکے۔

12 ویں کرنے کے بعد 2011 میں والد احمد نے شہباز کو فریدآباد کی مانو رچنا انٹرنیشنل یونیورسٹی میں داخلہ دلایا تاکہ وہ انجینئر بن سکیں، لیکن شہباز کو 3 سالہ ڈگری مکمل کرنے میں 11 سال لگے۔

احمد جان کا کہناہے کہ سول انجینئرنگ کی ڈگری 3 سال یعنی 2015 میں مکمل ہونی چاہیے تھی لیکن کرکٹ کی وجہ سے 2022 میں مکمل ہوئی۔ شہباز نے 2022 میں پیپر دیکر کلیئر کردیا۔ وہ بھی والدہ کے کہنے پر ڈگری حاصل کی۔

وہ ہمیشہ اپنی ماں سے کہتا تھاکہ ڈگری کی فکر نہ کرو یونیورسٹی والے تمہیں بلائیں گے۔ بالکل ایسا ہی ہوا۔ والد کہتے ہیں کہ ہمیں اس سال جنوری میں یونیورسٹی کی طرف سے کانووکیشن میں خصوصی طورپر بلایا گیاتھا، لیکن شہباز کرکٹ کی وجہ سے نہیں پہنچے، اس لیے ہم ان کی ڈگری لینے گئے۔

ہمیں وہ عزت ملی شاید وہ کرکٹر نہ بنتا تو نہ ملتی۔ اب ہمیں اس کے فیصلے پر کوئی افسوس نہیں ہے۔ احمد جان نے مزید کہا کہ وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کا بیٹا فرید آباد میں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ شہباز کرکٹ کھیلنے کیلئے کلاس بنک کر رہے تھے۔ انہیں اس بات کا علم اس وقت ہوا جب انہیں یونیورسٹی سے پیغام بھیجا گیاکہ ان کا بیٹا کلاس نہیں لے رہا۔

احمد جان بتاتے ہیں کہ پھر انہوں نے شہباز سے کہاکہ وہ پڑھائی یا کرکٹ میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں لیکن وہ جس کا انتخاب کریں اس پر توجہ دیں۔ پھر شہباز نے کرکٹ کا انتخاب کیا اور اس پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد وہ گڑگاؤں کے ٹہری میں واقع کرکٹ اکیڈمی جانے لگے۔

وہاں کوچ منصور علی نے انہیں تربیت دی۔ شہباز کے والد نے بتایاکہ گریجویشن کے بعد ان کا دوست پرمود چندیلا انہیں کرکٹ کھیلنے بنگال لے گیا۔

حالانکہ انہیں متحدہ عرب امارات میں صرف 2 میچ کھیلنے کا موقع ملا۔ 2021 میں بھی وہ آر سی بی ٹیم کا حصہ تھے۔ احمد جان بتاتے ہیں کہ ان کے والد بھی کرکٹ کھیلتے تھے۔ شہباز کو بھی دادا کی طرح کرکٹ کھیلنا پسند تھا۔

ان کا گاؤں میوات ضلع تعلیم کیلئے جانا جاتاہے۔ گاؤں میں بہت سے انجینئر اور ڈاکٹر ہیں۔ اس لیے وہ چاہتے تھے کہ شہباز بھی انجینئر بنے۔ شہباز کی چھوٹی بہن فرحین بھی ڈاکٹر ہے۔کوہلی نے بھی شہباز کی پرزور ستائش کی۔

تبصرہ کریں

Back to top button