شہباز شریف کے خلاف چارج شیٹ داخل

ایف آئی اے نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف دائر چالان میں انہیں مرکزی ملزم نامزد کردیا اور ان کی جانب سے جمع کرایے گئے 7 جلدوں کا چالان 4 ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ہے جس میں 100 گواہوں کی لسٹ بھی جمع کرا دی۔

اسلام آباد: پاکستان کی وفاقی جانچ ایجنسی (ایف آئی اے)نے پیر کو پی ایم ایل(این) کے صدر شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کے خلاف 16 ارب روپے کے چینی گھپلہ میں مبینہ طورپر ملوث ہونے کے الزام میں ایک خصوصی عدالت میں چارج شیٹ داخل کی۔پاکستان کے روزنامہ ڈان کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف دائر چالان میں انہیں مرکزی ملزم نامزد کردیا اور کی جانب سے جمع کرایے گئے 7 جلدوں کا چالان 4 ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ہے جس میں 100 گواہوں کی لسٹ بھی جمع کرا دی۔پیش کردہ چالان میں کہا گیا کہ تحقیقاتی ٹیم نے 28 بے نامی بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا جو 2008 سے 2018 تک شہباز شریف فیملی کے چپراسیوں / کلرکوں کے ناموں پر لاہور اور چنیوٹ کے مختلف بینکوں میں چلائے گئے۔

ایف آئی اے کے مطابق 28بے نامی اکاؤنٹس میں 16 ارب روپے‘ 17 ہزار سے زیادہ کریڈٹ ٹرانزیکشنز کی منی ٹریل کا تجزیہ کیا اور ان اکاؤنٹس میں بھاری رقم چھپائی گئی جو شوگر کے کاروبار سے مکمل طور پر غیر متعلق ہیں اور اس میں وہ رقم شامل ہے جو ذاتی حیثیت میں شہباز شریف کو نذرانہ کی گئی۔چالان کے مطابق اس سے قبل شہباز شریف (چیف منسٹر پنجاب 1998) 50 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد کی منی لانڈرنگ میں براہ راست ملوث تھے۔ انہوں نے بیرون ملک ترسیلات (جعلی ٹی ٹی) کا انتظام بحرین کی ایک خاتون صادقہ سید کے نام اس وقت کے وفاقی وزیر اسحق ڈار کی مد سے کیا۔ایف آئی اے کے مطابق یہ چالان شہباز شریف اور حمزہ شہباز (دونوں ضمانت قبل از گرفتاری پر) اور سلیمان شہباز (اشتہاری) کو مرکزی ملزم ٹھہراتا ہے جبکہ 14 بے نامی کھاتے دار اور 6 سہولت کاروں کو معاونت جرم کی بنیاد پر شریک ملزم ٹھہراتا ہے۔

اس میں کہا گیا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز دونوں ہی 2018 سے 2008 عوامیہ عہدوں پر براجمان رہے تھے۔واضح رہے کہ خصوصی عدالت نے ایف آئی اے پنجاب کے ڈائرکٹر زون ون ڈاکٹر رضوان احمد کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز پر سے متعلق منی لانڈرنگ اور شوگر اسکینڈل کی انکوائری میں چالان جمع نہ کرانے پر وجہ نمائی نوٹس جاری کردیا۔سماعت میں عدالت نے تحقیقاتی رپورٹ جمع کرانے میں مزید تاخیر کی صورت میں ایف آئی اے کی پراسیکیوشن ٹیم کو وارننگ دیتے ہوئے آخری موقع دیا تھا۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button