شیواجی مہاراج‘ ہندوستان کی عزت نفس کی علامت

 یہ کارپوریشن نومبر2020میں قائم کیا گیا تھا۔ شیوجینتی تقاریب کے افتتاح کے بعد چیف منسٹر بومئی نے کہا کہ ہم نے ماروتی راؤ کو کارپوریشن کا چیرمین مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بومئی نے کہا کہ حکومت تعلیم، ملازمتوں اور ترقی کے پروگرامس کے لیے کارپوریشن کو مالی اور انتظامی مدد فراہم کرے گی۔

بنگلورو: چیف منسٹر بسواراج بومئی نے مراٹھا جنگجو چھترپتی شیواجی کو ہندوستان کی عزت نفس کی علامت قرار دیا۔ کرناٹک مراٹھا ویلفیئر اسوسی ایشن کی جانب سے سداشیونگر میں منعقدہ شیوجینتی تقاریب میں شرکت کرتے ہوئے چیف منسٹر نے چھترپتی شیواجی کے مجسمہ پر گلہائے عقیدت پیش کیے۔

مغل سلطنت کے خلاف شیواجی کے بہادرانہ کارناموں کو یاد کرتے ہوئے بومئی نے انہیں بہادرجنگجو قرار دیا جنہوں نے پورے ملک کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ شیواجی مہاراج ہندوستان کی عزت نفس کی علامت ہیں۔ وہ ہندوستان کے اتحاد و یکجہتی کی نمائندگی کرتے ہیں۔

 ان کی شجاعت کی وجہ سے ہی ہندوتوا ہندوستان میں باقی رہ سکا۔ ان کا تعلق پورے ملک اور سماج کے تمام طبقات سے ہے۔“ چیف منسٹر نے کہا ریاست کے عوام میں شیواجی کے نظریات کو مستحکم کرنے اقدامات کیے جائیں گے۔“ چیف منسٹر بسواراج بومئی نے سابق رکن اسمبلی ماروتی راؤ مولے کو مراٹھا ڈیولپمنٹ کارپوریشن کا پہلا چیرمین نامزد کیا ہے۔

 یہ کارپوریشن نومبر2020میں قائم کیا گیا تھا۔ شیوجینتی تقاریب کے افتتاح کے بعد چیف منسٹر بومئی نے کہا کہ ہم نے ماروتی راؤ کو کارپوریشن کا چیرمین مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بومئی نے کہا کہ حکومت تعلیم، ملازمتوں اور ترقی کے پروگرامس کے لیے کارپوریشن کو مالی اور انتظامی مدد فراہم کرے گی۔

“ کارپوریشن کا قیام‘ گزشتہ سال اپریل میں منعقدہ بسواکلیان کے ضمنی انتخاب میں مراٹھا طبقہ کو رجھانے بی جے پی کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا تھا۔ مولے جو بسواکلیان اسمبلی حلقہ کی نمائندگی کرچکے ہیں پہلے کانگریس، جنتادل (سیکولر) اور بی ایس آر کانگریس سے وابستہ رہ چکے ہیں۔بسواکلیان ضمنی الیکشن کے دوران طاقتور مراٹھا قائد مولے نے این سی پی امیدوار کی حیثیت سے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق بی جے پی نے  مراٹھا طبقہ کے مطالبات کی تکمیل کا وعدہ کرکے انہیں منایا تھا۔ان مطالبات میں کارپوریشن کے لیے چیرپرسن کا تقرر اور طبقہ کی تحفظات کے 2Aزمرہ میں شمولیت شامل ہے۔بومئی نے کہا کہ کئی بورڈس اور کارپوریشنز ہیں جن کے پروگرامس ان طبقات تک پوری طرح نہیں پہنچے جن کے لیے یہ قائم کیے گئے۔ حکومت اس پر توجہ دے گی۔

ذریعہ
آئی اے این ایس/منصف ویب ڈیسک

تبصرہ کریں

Back to top button