شیوسینا میں بغاوت، حکومت سازی کی تجویز پر غور کیاجائے گا: بی جے پی

“ پاٹل نے کہا کہ اگر بی جے پی کو شندے سے حکومت سازی کی کوئی تجویز ملتی ہے تو یقینا ہم اس پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔ آخر کار ہم نے پہلے بھی ساتھ کام کیا ہے اس لیے ان کے ساتھ کام کرنا اور حکومت چلانا کافی آسان ہوگا۔“

ممبئی: مہاراشٹرا میں حکمراں شیوسینا کے کچھ ارکان اسمبلی سے رابطہ نہ ہوپانے کے درمیان ریاستی بی جے پی کے صدر چندرکانت پاٹل نے کہا کہ ان کی پارٹی کا اس سیاسی واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حالانکہ پاٹل نے کہا کہ اگر مہاراشٹرا کے وزیر ایکناتھ شندے سے بی جے پی کو ریاست میں حکومت سازی کی کوئی تجویز ملتی ہے تو ہ ”یقینااس پر غور کریں گے۔

“ واضح رہے کہ مہاراشٹرا قانون ساز کونسل میں حکمراں مہاوکاس اگھاڑی (ایم وی اے) اتحاد کو زبردست جھٹکہ لگنے کے ایک دن بعد پارٹی کے ایک لیڈر نے منگل کو کہا تھا کہ شندے سے رابطہ نہیں ہوپارہا ہے۔ حالانکہ شیوسینا کے ایم پی سنجے راؤت نے بعد میں بتایا تھا کہ شندے ممبئی میں نہیں ہیں، لیکن ان سے رابطہ ہوگیا ہے۔

 شندے سمیت شیوسینا کے کچھ ارکان اسمبلی کے سورت کی ایک ہوٹل میں ہونے کی اطلاعات ہیں، لیکن اس کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ راؤت نے کہا کہ راجستھان اور مدھیہ پردیش کی طرح مہاراشٹرا میں ایم وی اے حکومت کو زوال پذیر کرنے کی بی جے پی کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔

 ایم وی اے میں شیوسینا، این سی پی اور کانگریس شامل ہیں۔ پاٹل نے اس  سلسلے میں رابطہ کرنے پر کہا کہ یہ شیوسینا کا داخلی معاملہ ہے۔ ہمیں پتا نہیں کہ شندے اپنے مددگاروں کے ساتھ سورت میں کیوں ہیں۔ ہمارا ان کے اس قدم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

“ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی کو شندے سے حکومت سازی کی کوئی تجویز ملتی ہے تو یقینا ہم اس پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔ آخر کار ہم نے پہلے بھی ساتھ کام کیا ہے اس لیے ان کے ساتھ کام کرنا اور حکومت چلانا کافی آسان ہوگا۔“ پاٹل نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ شیوسینا اور بی جے پی کے درمیان تعلقات بگڑنے کے لیے پوری طرح سے راؤت ذمہ دار ہیں۔

 بی جے پی لیڈر نے الزام عائد کیا کہ ”وہ (راؤت) ریاست کو بھی کافی نقصان پہنچارہے ہیں اور وہ کسی اور کے لیے ایسا کررہے ہیں۔“ چیف منسٹر عہدہ شیئر کرنے کے مسئلہ پر 2019 کے مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات کے بعد شیوسینا نے اپنی دیرینہ حلیف بی جے پی کے ساتھ اتحاد قطع کرلیا تھا۔

شیوسینا نے اس وقت این سی پی اور کانگریس کے ساتھ مل کر ریاست میں حکومت تشکیل دی تھی۔ اس پورے معاملے کے درمیان مہاراشٹرا سے تعلق رکھنے والے مرکزی وزیر نارائن رانے نے شندے کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ بہت خوب ایکناتھ جی۔ آپ نے مناسب وقت پر مناسب فیصلہ کیا ہے۔ ورنہ آپ کا بھی آنند دیگھے جیسا حشر ہوسکتا تھا۔

“ مہاراشٹرا کے تھانے ضلع سے تعلق رکھنے والے دیگھے شیوسینا کے اہم قائدین میں سے ایک تھے۔2001میں ان کی موت ہوگئی تھی۔ دریں اثناء کچھ بی جے پی قائدین نے دعویٰ کیا کہ وہ شیوسینا کے اندر بڑھتی بے چینی سے واقف تھے۔ سینئر بی جے پی لیڈر اور سابق ریاستی وزیر سدھیر منگنٹیوار نے کہا کہ ان کی پارٹی شیوسینا کے طرز حکومت پر مسلسل اعتراض کرتی رہی ہے۔

یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ کئی شیوسینا قائدین بھی حکومت سے ناخوش تھے۔ اس سوال پر کہ کیا بی جے پی شیوسینا کے باغی ارکان اسمبلی کی مدد سے حکومت تشکیل دینے کی کوشش کرے گی، منگنٹییوار نے کہا کہ وہ اس پر تبصرہ نہیں کریں گے کیو ں کہ انہوں نے ان واقعات پر اپنے پارٹی رفقاء سے بات نہیں کی۔

 پیر کو ایم ایل سی انتخابات میں بی جے پی 134 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی جس کا تکنیکی مطلب یہ ہے کہ حکومت سازی کا دعویٰ کرنے مہاراشٹرا کی 288رکن اسمبلی میں ہمارے پاس 11ووٹوں کم ہیں۔ تاہم کہنا آسان ہے کرنا مشکل ہے۔

“ بی جے پی کے سینئر لیڈر دیویندر پھڈنویس نے ریاست کے سیاسی حالات پر تبصرہ کے لیے بھیجے گئے پیغامات کا جواب نہیں دیا۔ دریں اثناء پاٹل نے بتایا کہ دیویندر پھڈنویس ہمار ے قائدین میں مٹھائی تقسیم کرنے دہلی گئے ہوئے ہیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button