شیولنگ والے مقام کا تحفظ کیاجائے: سپریم کورٹ

سینئر وکیل حذیفہ احمدی نے انجمن کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ تحت کی عدالت کا وضو خانہ کو مہربند کردینے کا حکم دینا ٹھیک نہیں۔ انہوں نے 1991 کے پلیسس آف ورشپ ایکٹ کا حوالہ دیا اور کہا کہ جوں کا توں موقف بدلا گیا ہے۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کے دن کہا کہ گیان واپی مسجد کے اندر اُس علاقہ کا تحفظ کرنے کی ضرورت ہے جہاں شیولنگ پایا گیا لیکن نماز کی ادائیگی کے لئے مسلمانوں کے مسجد میں داخل ہونے پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہئے۔ جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس پی ایس نرسمہا پر مشتمل بنچ نے انجمن انتظامیہ مسجد وارانسی کی درخواست پر نوٹس جاری کی۔

انجمن نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے احکام کو چیلنج کیا تھا جس نے اس کی درخواست خارج کردی تھی۔انجمن نے گیان واپی مسجد کامپلکس کے معائنہ کے لئے ایک ایڈوکیٹ کو کورٹ کمشنر مقرر کرنے کے وارانسی کی عدالت کے احکام کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ امکان ہے کہ سپریم کورٹ معاملہ کی مزید سماعت جاریہ ہفتہ کرے گی۔

سینئر وکیل حذیفہ احمدی نے انجمن کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ تحت کی عدالت کا وضو خانہ کو مہربند کردینے کا حکم دینا ٹھیک نہیں۔ انہوں نے 1991 کے پلیسس آف ورشپ ایکٹ کا حوالہ دیا اور کہا کہ جوں کا توں موقف بدلا گیا ہے۔ وضو خانہ عرصہ دراز سے زیراستعمال ہے۔ انہوں نے اس کے استعمال کی اجازت مانگی اور کہا کہ نماز سے قبل اس کا استعمال لازمی ہے۔

سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے حکومت اترپردیش کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ وضو کے دوران کسی کا پیر شیو لنگ پر پڑگیا تو نظم و ضبط کا مسئلہ پیدا ہوگا۔ انہوں نے ملک کی سب سے بڑی عدالت سے گزارش کی کہ اس علاقہ کو مہربند کردیا جائے۔ بحث کی سماعت کے بعد عدالت نے علاقہ کو مہربند کردینے کا حکم دیا۔

پی ٹی آئی کے بموجب سپریم کورٹ‘ انجمن انتظامیہ کی درخواست کی آئندہ سماعت 19مئی کو کرے گی۔ یو این آئی کے بموجب سپریم کورٹ نے منگل کے دن شمالی ہند کی ایک ہائی پروفائل مسجد میں مسلمانوں کے داخلہ پر امتناع کے مقامی عدالت کے احکام کو رد کردیا۔ عدالت نے کہا کہ مسلمانوں کے حق عبادت میں خلل نہ ڈالا جائے۔

تبصرہ کریں

Back to top button