صدرنشین مائناریٹی کمیشن، اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری میں ناکام

 حالیہ دنوں شیواموگہ میں بجرنگ دل کارکن کے قتل کے بعد فرقہ پرست غنڈوں نے مسلم بستیو میں جاکر وہاں موٹر سائیکلوں، آٹوز و دیگر کو نذر آتش کیا اور املاک کو نقصان پہنچایا۔ ان تمام معاملات پر متعلقہ ضلع حکام سے جواب و تفصیلات طلب کرنے کا کمیشن کو پورا حق حاصل ہے۔ اس کے باوجود صدرنشین اقلیتی کمیشن خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

رائچور: کرناٹک اسٹیٹ مائناریٹیز کمیشن جسے سدارامیا کے دور اقتدار میں عدالتی اختیارات دیئے گئے لیکن کمیشن کے موجودہ صدر عبدالعظیم بحیثیت اسسٹنٹ کمشنر پولیس کے عہدہ پر سبکدوشی کے بعد جنتادل (ایس) ٹکٹ پر ایم ایل سی انتخابات میں جیت حاصل کرنے کے چند سال بعد بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی۔

 کانگریس۔جنتادل ایس حکومت کے زوال اور بی جے پی کے اقتدار پر آنے کے بعد عبدالعظیم کو اسٹیٹ مائناریٹیز کمیشن کا صدرنشین نامزد کیا۔ پچھلے ڈھائی سال سے وہ اس عہدہ پر فائز ہیں لیکن ان کی کارکردگی میں مکمل ناکام ثابت ہورہی ہے۔ کمیشن کا وجود اقلیتی طبقات کے جمہوری و دستوری حقوق کی پاسداری کے علاوہ ان کی جان، مال، عقیدہ و دیگر کا تحفظ کیلئے ہے لیکن چیرمین نے اس میں یکسر ناکام ثابت ہوئے ہیں۔

 حالیہ دنوں شیواموگہ میں بجرنگ دل کارکن کے قتل کے بعد فرقہ پرست غنڈوں نے مسلم بستیو میں جاکر وہاں موٹر سائیکلوں، آٹوز و دیگر کو نذر آتش کیا اور املاک کو نقصان پہنچایا۔ ان تمام معاملات پر متعلقہ ضلع حکام سے جواب و تفصیلات طلب کرنے کا کمیشن کو پورا حق حاصل ہے۔ اس کے باوجود صدرنشین اقلیتی کمیشن خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

اس سے قبل بھی نل گند میں مسلم نوجوان کے قتل پر اُس کے خاندان کو انصاف اور خاطیوں کو سزاء دلانے میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ چن پٹن ٹاؤن میں ایک مسجد پر حکام کی یلغار پر بھی وہ خاموش رہے۔ دستوری حقوق کی حفاظت تو دور اقلیتی طبقات کی جان، مال و ایمان کی حفاظت میں بُری طرح ناکام اس کرناٹک اسٹیٹ مائناریٹیز کمیشن کو ایک گوشہ کی جانب سے کرناٹک اسٹیٹ میوڈ کمیشن سے تعبیر کیا جارہا ہے۔بنگلورو میں قیام اور بیان بازی سے اپنے فرائض کی انجام دہی نہیں ہوتی بلکہ میدان عمل میں آکر حکام سے راست، دو ٹوک انداز سے جواب طلب کرنے کی ضرورت ہے۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button