صدر بائیڈن کا مجوزہ دورہ اسرائیل

مسعود ابدالی

امریکی صدر جو بائیڈن اگلے ماہ اسرائیل کا دورہ کریں گے۔ یہ دورہ اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ امریکی معیشت سخت دباﺅ میں ہے، مہنگائی نے عام شہریو ںکی زندگی اجیرن کررکھی ہے اور بڑھتی ہوئی شرح سود سے بازار حصص بھی بدترین مندی کا شکار ہے۔ حصص کی قیمتیں زمین پر لگ جانے کی بناءپر ایمزون، گوگل، ایپل، فیس بک سمیت بڑی بڑی کارپوریشنوں کے راس المال (Capital) کئی کھرب سکڑگئے ہیں۔ یوکرین کے معاملے پر امریکہ کو سفارتی تنہائی کا سامنا ہے۔ صدر بائیڈن نے یوکرین کے لیے ریڈار اور دور مارتوپوں کی نئی کھیپ بھیجنے کی منظوری دے دی ہے۔ امداد کی مالیت پندرہ کروڑ ڈالر ہے۔ جنگ کے آغاز سے اب تک واشنگٹن یوکرین کو تین ارب 80کروڑ ڈالر کا اسلحہ دے چکا ہے۔ افغانستان میں چچا سام کا خرچہ 70ارب ڈالر سالانہ تھا،لیکن یوکرین کو تیز ترین اسلحہ فراہم کرنے والا امریکہ اپنے نونہالوں کے لیے بروقت دودھ فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ یہ قیامت اچانک نہیں ٹوٹی۔ گزشتہ سال ستمبر سے فروخت کنندہ مال بروقت نہ آنے کی شکایت کررہے تھے۔ اس وقت سرکار کا موقف تھا کہ کورونا کی وجہ سے زنجیر فراہمی (Supply Chain) میں جو خلل آیا ،یہ اسی کا نتیجہ ہے۔ ساتھ ہی دلاسہ بھی کہ زنجیر فراہمی کو لاحق یہ عارضہ عارضی ہے اور جلد ہی قلت پر قابو پالیا جائے گا، لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ اب CVSاور Walgreensسمیت بڑی بڑی دکانوں کے شیلف خالی پڑے ہیں۔ اس موقع کو سنگدل‘ پیسے کمانے کے لیے بھی استعمال کررہے ہیں۔ دکانوں سے بچا کھچا مال خرید کر سوشل میڈیا پر اسے سونے کے بھاﺅ بیچا جارہا ہے۔ ظالموں نے ملاوٹ اور جعل سازی کا کاروبار بھی شروع کررکھا ہے۔ یہ سب کچھ حکمرانوں کی شوق کشور کشائی اور دنیا پر اپنی چودھراہٹ مسلط کرنے کے ہونکے میں غلط ترجیحات کا شاخسانہ ہے۔ معصوم بچوں کے پیٹ خالی اور سرکار کا سارا زور پوٹن کو نیچا دکھانے پر۔
دوسری طرف رمضان میں مسجد اقصیٰ کی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں تسلسل سے بے حرمتی، غزہ پر تباہ کن بمباری اور اب مقبوضہ عرب علاقوں میںاسرائیلی بستیوں کے قیام کے جارحانہ منصوبے پر عرب عوام شدید اضطراف کا شکار ہیں۔ ذرائع ابلاغ پر بدترین پابندیوں کے باوجود سماجی رابطے کے ذریعہ اصل حقائق عام لوگوں تک پہنچنے کے ساتھ، عوامی اشتعال کی حرارت سلاطین، امرا اور شیوخ کو بھی محسوس ہورہی ہے۔
خبر گرم ہے کہ القدس شریف کی پامالی پر عرب عوام کے جذبات سے امریکی صدر کو آگاہ کرنے اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم اگلے چند دنوں میںواشنگٹن پہنچ رہے ہیں۔ یہودی القدس کو ہر ہدایت (عبرانی تلفظ ) کہتے ہیں جس کا مطلب ہے بلندی پر خدا کا گھر جو انگریزی میں Temple Mountکہلاتا ہے۔ اسرائیل کے قیام سے پہلے تک القدس شریف کے مغربی حصے کی دیوار ِ گریہ اور اس سے ملحقہ علاقہ کو یہودی اپنا متبرک و مقدس علاقہ کہتے تھے جبکہ مشرقی حصہ حرم القدس الشریف تھا۔
مغربی حصے میں بلا اجازت غیر یہودی کا داخلہ منع تھا اور حرم میں غیر مسلموں کی بلا اجازت آمد پر پابندی تھی، لیکن اب اسرائیلی انتہاپسند مسجد اقصیٰ کو بھی ٹمپل ماﺅنٹ کا حصہ کہتے ہیں۔ اگرچہ سرکاری سطح پر اسرائیل اب بھی القدس شریف کو مسلمانوں کا حصہ قرار دیتا ہے، لیکن اسرائیلی انتہاپسند گاہے بگاہے اس کی حرمت پامال کرتے رہتے ہیں۔ رمضان میں اسرائیلی فوج کئی بار جوتوں سمیت مسجد اقصیٰ میں گھسی اور نمازیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں سینکڑوں نمازی زخمی اور کئی درجن فلسطینی بچے اور بچیاں مسجد سے گرفتار کیے گئے۔
اسی کے ساتھ اسرائیلی حکومت نے غرب اردن کے علاقہ سے فلسطینیوں کو بے گھر کرکے ان کی زمینوں پر اسرائیلیوں کے لیے 4ہزار مکانات تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اسرائیلی حکومت نے دریائے اردن کے مغربی کنارے پر فلسطینی بستیاں مسمار کرکے 4ہزار کے قریب نئے گھر تعمیر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ صرف ”یہودیوں کے لیے“ بنیاد پر پہلے مرحلے میں 2536 اور اس کے ایک سال بعد مزید 1452 مکانات تعمیر کیے جائیں گے۔ یہاں صدیوں سے آباد ہزاروں فلسطینیوں کو خیموں میں منتقل کردیا جائے گا۔
امریکی حکومت کو اس اعلان پر ”سخت تشویش“ ہے۔ معلوم نہیں واشنگٹن لاچار ہے یا مکار، اسرائیل بائیڈن انتظامیہ کے بیانات کو پرکاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں دیتا۔ گزشتہ سال اکتوبر میں جب 3000 اسرائیلی مکانات کی تعمیر کی منظوری دی گئی تو امریکی وزارت خارجہ نے اس پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”فلسطینی اراضی پر اسرائیلی بستیوں کا قیام، کشیدگی میں کمی اور بحالی امن کے لیے کی جاری کوششوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اشک شوئی کے لیے اسرائیل نے تعمیر کا کام وقتی طور پر موخر کیا اور چند ماہ بعد منصوبہ مکمل کرلیا گیا۔
صدر بائیڈن اگلے ماہ سرکاری دورے پر اسرائیل جارہے ہیں اور ان کی ترجمان نے کہا تھا کہ بستیوں کی تعمیر پر پابندی اسرائیلی دورہ کی ایک شرط ہے۔ خیال ہے کہ نوکرشاہی کے حیلوں سے تعمیر کا کام موخر کرکے امریکی صدر کو شرمندگی سے بچنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔اس لیے کہ سوپر پاور کے سوپر رہنما میں دورہ اسرائیل منسوخ کرنے کی ہمت نہیں۔ چنانچہ اسرائیل، تعمیرات چند دن موخر کرکے خود ہی خیالِ خاطر ِ احباب کا اہتمام کررہا ہے۔
امریکہ کے ردعمل پر سخت اشتعال کا اظہار کرتے ہوئے حکمراں جماعت کے رکن ِ پارلیمنٹ نیراورباش (Nir Orbach) نے کہا کہ جو لوگ یہودا والسامرة (Judea and Samaria) کو اسرائیل کا حصہ نہیں مانتے انہیں یہاں آنے کی ضرورت نہیں۔ انتہاپسند اسرائیل، غرب اردن کو مقبوضہ علاقہ نہیں مانتے بلکہ اسے یہودا والسامرہ کہتے ہیں جو ان کے خیال میں سلطنت سلیمان ؑ کا حصہ تھا۔ اسی لہجے میں بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ ایلٹ شیکڈ نے کہا کہ یہودا اور سامرہ میں یہودیوں کی آباد کاری ہماری فطری ضرورت اور بنیادی حق ہے جس پر بات چیت کی کوئی ضرورت نہیں۔ غرب اردن سے فلسطینیوں کو بے دخل کرکے تعمیر کی جانے والی 250 بستیوں میں ساڑھے سات لاکھ اسرائیلیوں کو بسایا گیا ہے۔ ان کالونیوں کو فلسطینی آبادی سے الگ رکھنے کے لیے درمیان میں کنکریٹ کی بلند و بالا دیوار کھڑی کی گئی ہے جسے امریکہ کے سابق صدر apartheid wallکہتے ہیں۔
لاکھوں لوگوں کو ان کے آبائی گھروں سے نکال کر بھیڑ بکریوں کی طرح خیموں کی طرف ہنکا دینا آزاد انسانوں کو غلام بنادینے کے برابر ہے۔ جس پر دنیا کی خاموشی تو غیر متوقع نہیں کہ مہنگائی کے اس دور میں سب سے سستا بلکہ بے وقعت خون اور آبروئے مسلم ہے لیکن حیرت ان روشن خیال مسلمانوں پر ہوتی ہے جو سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ فلسطینیوں کی انتہاپسندی کا نتیجہ ہے۔
اقوام متحدہ سے منظور ہونے والی قراردادوں کی پاسداری میں (بیانات کی حد تک) امریکہ نئی اسرائیلی بستیوں کی مخالفت کرتا ہے۔ اسرائیلی کابینہ کے حالیہ فیصلے کی بھی بائیڈن انتظامیہ نے مذمت کی ہے۔ اپنے بیان میں صدر بائیڈن کی ترجمان جین ساکی نے کہا کہ نئی اسرائیلی بستیوں کے قیام سے علاقہ میں امن کی کوششوں پر منفی اثر پڑے گا۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ نئی بستیوں کے قیام پر پابندی صدر بائیڈن کے دورے کی پیشگی شرط ہے۔
جیسے کہ عرض کیا کہ صدر بائیڈن میں اسرائیل کا دورہ منسوخ کرنے کی تو ہمت نہیں لیکن کہا جارہا ہے کہ فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے امریکی صدر مشرقی بیت المقدس بھی جائیں گے۔ دیوار گریہ کی زیارت امریکی قائدین کا معمول ہے۔ دیوار کی درزوں میں زائرین دعا سے لکھی پرچیاں ٹھونستے ہیں۔ گزشتہ دورے میں سابق صدر ٹرمپ نے بھی دعائیہ پرچی وہاں رکھی تھی لیکن آج تک کوئی امریکی صدر مشرقی بیت المقدس نہیں گیا جہاں مسجد اقصیٰ واقع ہے۔
پہلے کہا جارہا تھا کہ صدر بائیڈن مسجد اقصیٰ اور وہاں نصب منبر ایوبی کی زیارت کریں گے۔ اس عظیم الشان منبر کو1969 میں آتشزدگی سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
صدر بائیڈن کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام نے صدر بائیڈن سے مسجد اقصیٰ نہ جانے کی سفارش کی ہے۔ اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کے اسرائیلی حفاظتی دستے کی مسجد آمد فلسطینیوں کے لیے ناقابل برداشت ہوگی جبکہ صرف فلسطینی پولیس کی معیت میں امریکی صدر کا مسجد جانا حفاظتی نقطہ نظر سے مناسب نہیں۔
خیال ہے کہ صدر بائیڈن مسجد جانے کی بجائے مشرقی یروشلم کے المقاصد اسپتال کا دورہ کریں گے۔ فلسطینیوں کا یہ اسپتال جامعہ القدس کے کلیہ طب کا حصہ ہے۔
فلسطینیوں کی حالت ِ زار کے ساتھ اسرائیلی حکومت کا اپنا حال بھی ذرا پتلا ہے۔ گزشتہ دو سال کے دوران اسرائیل میں چار انتخابات ہوچکے ہیں جس میں کوئی بھی جماعت واضح اکثریت نہ حاصل کرسکی۔ آخری انتخابات گزشتہ سال مارچ میں ہوئے جس کے بعد بائیں بازو، لبرل اور قوم پرستوں نے اخوانی فکر کی حامل رعم پارٹی کی حمایت سے حکومت قائم کرلی اور طے یہ پایا کہ آدھی مدت یمینیہ (دایاں) کے نفتالی بینیٹ وزیراعظم ہوں گے اور اگست 2023 میں شمع ِ اقتدار Yesh Atid یا مستقبل پارٹی کے یار لیپڈ (Yair Lepid) کے سامنے رکھ دی جائے گی۔ بھان منی کے اس کنبے کو 120کے ایوان میں 61 ارکان کی حمایت حاصل تھی۔ بھان متی اس لیے کہ اتحاد میں ربائی (ملا) مخالف اسرائیل مادر وطنِ پارٹی، بائیں بازو کی لیبر اور دائیں بازو کی یمینیہ کے ساتھ عربو ںکی رعم بھی شامل ہے۔ یمینیہ عربوں کی صورت دیکھنے کی روادار نہیں لیکن نتن یاہو کی مخالفت میں سب ایک پرچم تلے آگئے۔
گزشتہ ماہ اتحاد میں شامل مذہبی اور سیکولر گروہوں کے درمیان سیاسی کشیدگی پیدا ہوگئی اور معاملہ اتنا آگے بڑھا کہ یمینیہ کی اہم رہنما اور برسراقتدار اتحاد کی پارلیمانی قائد عیدت سلمان نے اتحاد سے علاحدگی اختیار کرلی۔
اب صورت حال یہ ہے کہ 120 کے ایوان میں وزیراعظم کے ووٹ 60 ہوگئے ہیں۔ اکثریت کے لیے 61 ووٹ درکار ہیں۔ قائد حزب اختلاف بنجامن نتن یاہو اصرار کررہے ہیں کہ وزیراعظم اعتماد کا ووٹ لیں جبکہ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ مجھے ایوان کا اعتماد حاصل ہے، اگر حزب اختلاف کو شک ہے تو وہ عدم اعتماد کی تحریک لائے۔ عیدت سلمان نے اعلان کیا ہے کہ اگر اعتماد کا مرحلہ آیا تو وہ حکومت کی حمایت نہیں کریں گی، لیکن عدم اعتماد کی تحریک میں وہ غیرجانبدار رہیں گی۔
غیرمستحکم و مخدوش اسرائیلی حکومت، فلسطینیوں میں اشتعال اور امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں صدر بائیڈن کو شکست کا خطرہ غیر یقینی لیکن دلچسپ پسند منظر میں امریکی صدر کا دورہ اسرائیل نشستند، گفتند، برخاستند سے زیادہ کچھ نہ ہوگا۔

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button