ضلع جج کو تربیت کیلئے اکیڈیمی روانہ کردیا گیا:کرناٹک ہائی کورٹ کا اقدام

نچلی عدالت ایک گھناؤنے جرم کو نہیں دیکھ سکی جس میں کس طرح ایک خاتون جس کی شادی 2020 میں ہوئی تھی اندرون ایک سال جھلس کر فوت ہوگئی اور اس کے سسرال والوں نے اس پر کس طرح ظلم کیا۔ نچلی عدالت کو واردات کے دن متوفی خاتون کی جانب سے بھیجے گئے پیغام کو نظرانداز کرنے پر بھی سرزنش کی گئی کیونکہ یہ اقرار بوقت ِ مرگ سے کم نہیں تھا۔ بنچ نے 4 فروری کو یہ احکام صادر کیے۔

بنگلورو: کرناٹک ہائیکورٹ نے اس ماہ کے اوائل میں اپنے احکام میں میسور کے پانچویں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو عدالتی اختیار تمیزی کے استعمال کی تربیت کیلئے عدالتی اکیڈیمی کو روانہ کرنے کی ہدایت دی۔ جج نے جہیز کیلئے موت کے کیس میں تین ملزمین کو ان کے خلاف ٹھوس دلائل اور ثبوتوں کے باوجود ضمانت عطا کی تھی۔

ہائی کورٹ کی بنچ نے تینوں کی ضمانت منسوخ کردی۔ جسٹس ایچ پی سندیش کی بنچ نے کہا کہ نچلی عدالت عدالتی اختیار تمیزی کو بروئے کار لانے میں ناکام رہی اور خود سر اور متلون مزاج فیصلہ صادر کیا چونکہ یہ احکام خودسر اور متلون مزاج ہیں، اس عدالت کی مداخلت کے متقاضی ہیں۔

نچلی عدالت ایک گھناؤنے جرم کو نہیں دیکھ سکی جس میں کس طرح ایک خاتون جس کی شادی 2020 میں ہوئی تھی اندرون ایک سال جھلس کر فوت ہوگئی اور اس کے سسرال والوں نے اس پر کس طرح ظلم کیا۔ نچلی عدالت کو واردات کے دن متوفی خاتون کی جانب سے بھیجے گئے پیغام کو نظرانداز کرنے پر بھی سرزنش کی گئی کیونکہ یہ اقرار بوقت ِ مرگ سے کم نہیں تھا۔ بنچ نے 4 فروری کو یہ احکام صادر کیے۔

وہ میسور ضلع کے پیریا پٹنہ کے ساکن سنیل کمار کی عرضی پر سماعت کررہی تھی۔ سنیل نے اپنی بہن کے شوہر منجو، اس کے خسر راجنا اور ساس شیوماں کو ضمانت قبل از گرفتاری اور عام ضمانت عطا کیے جانے کے خلاف عرضی داخل کی تھی۔ ملزم نے سنیتا سے 2020میں شادی کی تھی۔ سنیتا کے والدین نے شادی کے وقت طلائی زیورات اور 3.5 لاکھ روپئے نقد رقم کا تحفہ دیا تھا۔

منجو نے مکان کی تعمیر کیلئے اپنی اہلیہ سے 6لاکھ روپئے کا مطالبہ شروع کردیا اور اسے مائیکے واپس بھیج دیا۔ اس کے والدین‘نئے مکان کیلئے ٹائلس لگوانے رقم دینے تیار ہوگئے اور اپنی بیٹی کو واپس بھیج دیا۔ تاہم فصل کے نقصان کی وجہ سے وہ اپنا وعدہ نہیں نبھاسکے۔ منجو نے سنیتا کو ذہنی اور جسمانی طورپر ہراساں کرنا شروع کردیا۔

دریں اثناء سنیتا 14فروری 2020 کو جھلس کر فوت ہوگئی۔ پیریاپٹنہ پولیس نے حادثاتی موت کا کیس درج کرلیا۔ بعد ازاں سنیتا کے والدین کو پیغام وصول ہوا جو ان کی بیٹی نے اپنے شوہر منجو کے موبائیل سے بھیجا تھا۔ پیغام میں اس نے کہا کہ اگر اس کے ساتھ کچھ بھی برا ہوا تو اس کے ذمہ دار اس کا شوہر اور سسرال والے ہوں گے۔

 درخواست گزار سنیل نے ملزمین کے خلا ف کیس درج کیا تھا۔ پولیس نے جہیز ہراسانی اور جہیز کی وجہ سے موت کا کیس درج کیا گیا۔ پانچویں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے 23/ مارچ2021،4/ اپریل 2021اور 17/ اپریل 2021 کو ملزمین کو ضمانت قبل از گرفتاری اور عام ضمانتیں عطا کی تھیں۔ ضمانت عطا کرتے وقت عدالت نے کہا کہ ملزمین کے خلاف الزامات کی نوعیت ایسی نہیں جس سے انہیں عمر قید یا موت کی سزا ہوسکے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button