علم ایک ایسی روشنی ہے جو تاریک دلوں کو روشن کرتی ہے

ہندوستان کے اکثر و بیش تر شہروں میں دینی مدارس، اسکولس، کالجس میں تعلیم کا آغاز ہو چکا ہے اور تمام اداروں میں داخلے جاری ہیں، ہر طرف علمی گہماگہمی ہے، علم پر ہی ملک، قوم و ملت کی ترقی منحصر ہے۔

مولانا حافظ و قاری سید صغیر احمد نقشبندی
شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ

ہندوستان کے اکثر و بیش تر شہروں میں دینی مدارس، اسکولس، کالجس میں تعلیم کا آغاز ہو چکا ہے اور تمام اداروں میں داخلے جاری ہیں، ہر طرف علمی گہماگہمی ہے، علم پر ہی ملک، قوم و ملت کی ترقی منحصر ہے۔ اس سے قوم وملت عروج کی منزلیں طے کرتی ہیں۔ جہالت انسان کو پستی، ناکامی، رسوائی کی طرف لے جاتی ہے۔ اسلام میں تعلیم کی بڑی اہمیت ہے۔ قرآن کریم وحدیث شریف میں جگہ جگہ تحصیل ِعلم کی ترغیب دی گئی۔ یہ حقیقت ہے کہ دورِحاضر میں علم ہی کے ذریعہ مسلمان ترقی کرسکتا ہے اور دشمنانِ اسلام کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکتا ہے۔

ہر ماں باپ پر لازم ہے کہ وہ اپنی اولاد کو زیور ِ علم سے آراستہ کرنے کی خاطر دینی مدارس یا اسکول، کالج، یونیورسٹی میں داخلے دلوائیں۔ یہ بھی سچ ھیکہ ہر کوئی اپنے نونہالوں کو قابل دیکھنا چاہتا ہے، اسی وجہ سے اکثر حضرات اپنے بچوں کو ڈاکٹر یا وکیل یا انجینیر یا عالم بنانا چاہتے ہیں یا اعلیٰ تعلیم دلانے کے خواہشمند رہتے ہیں۔ اس سے انکی غرض یہ رہتی ہے کہ ان کا بچہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد نوکری کر کے اپنی عیش و راحت والی زندگی گزارے اور ان کے لئے بھی سہارا بنے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ جب اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ہماری پرورش کا ذمہ لیا ہے تو وہ ہر صورت میں ضرورسب کو روزی روٹی فراہم کریگا۔

باری تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ الْحَمْدُ للّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن :تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو سارے عالموں کا پالنے والا ہے، مسلمان اگر اپنی نیتوں کو درست کرلیں تو انہیں اجر وثواب بھی ملے گا اور مقصودِ زندگی بھی حاصل ہوگا۔ علم حاصل کرنے والوں اور پڑھانے والوں کی نیت یہ ہوکہ پڑھ کر اسلام کی خدمت کرینگے تو انکی اس نیت کی وجہ سے رب العا لمین ان سے راضی ہوگااور انہیں دولت بھی عطا فرمائیگا۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے: انماالاعمال بالنیات (بخاری) تمام اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے۔ حصولِ تعلیم کی وجہ سے قابلیت پیدا ہوتی ہے اور نوکری، دولت بھی مل جاتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی کہاں سے حاصل ہوگی، اچھی نیت سے دونوں چیزیں حاصل ہوتی ہیں۔

حجۃ الاسلام حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کے واقعات میں سے ایک واقعہ ہے کہ آپ صبح کے وقت ایک مقام سے گزر رہے تھے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ اپنی کھڑکی کا دروازہ کھول رہا ہے آپؒ نے اس شخص سے سوال کیا: آپ کیا کر رہے ہیں؟ اس نے جواب دیا:کھڑکی کا دروازہ کھول رہا ہوں تاکہ یہاں سے دھوپ اور ہوا آجائے، آپؒ نے فرمایا: اے نادان !کاش تو یہ نیت کرتا کہ یہاں سے اذان کی آواز آئیگی تو تجھے اس نیت کی وجہ سے ثواب بھی ملتا اور دھوپ وہوا بھی حاصل ہوتی۔ ہمارے ارادے اچھے ہوں تو یقیناً ہماری دنیا و آخرت بہتر ہوگی۔

حسن نیت سے بندہ مومن کا مقام رب کریم کی بارگاہ میںبہت بلند ہوتاہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : من جاء ہ الموت وھویطلب العلم لیحیي بہ الاسلام فبینہ وبین النبیین درجۃ واحدۃ في الجنۃ (دارمی) رسولِ انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جسے موت اس حال میں آئے کہ وہ اسلام زندہ کرنے کیلئے علم سیکھ رہا ہو تو جنت میں ( اعلیٰ مقام میں ہوگا کہ) اس کے اور انبیاء کرام کے درمیان صرف ایک درجہ (کا فرق) رہیگا۔ہر ایک شخص پر اپنی اولاد کو عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم کا سکھانا لازم وضروری ہے اسکے بغیرشریعت پر عمل کرنا دشوار ہے ۔ ہر مسلمان کی اگر اسلامی فکر ہوجائے تو وہ ڈاکٹر، انجینیر، وکیل ہوتے ہوئے بھی اسلام کی اچھی طر ح خدمت کرسکتا ہے۔ اشاعتِ دین وتبلیغ اسلام کی ذمہ داری صرف علماء پر ہی لازم نہیں ہے بلکہ ہر مسلمان پر حسب صلاحیت لازم و ضروری ہے۔

عصر حاضر میں ہندوستان کے مسلمانوں کی یہ فکر ہو رہی ہیں کہ ہمیں نوکریاں ہی نہیں ملتی تو پڑھ کر کیا فائدہ ؟ یہ سونچ بالکل غلط ہے نوکریوں کے لئے تعلیم حاصل نہیں کی جاتی بلکہ اپنی زندگی کو بہتر بنانے اور راہ راست پر چلنے دوسروں کو سیدھا راستہ دکھانے اور دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کی خاطر علوم حاصل کئے جاتے ہیں۔ یقیناً علم حاصل کرنے والے اشخاص سعادت مند ہوتے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :من خرج في طلب العلم فھو في سبیل اللہ حتیٰ یرجع۔ رسول ِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص تلاشِ علم میں نکلتا ہے تو وہ (اپنے گھر) لوٹنے تک اللہ کی راہ میں ہوتا ہے۔ یعنی اللہ اسے اجر و ثواب عطا کرتا ہے۔

چند لوگ اپنے بچوں کو مدارس یا اسکولس ، کالجس میں داخلہ اس لئے نہیں دلواتے کہ سب سے پہلے تعلیم کو غیر اہم سمجھتے ہیں۔ دوسری وجہ معاشی کمزوری کا اظہار کرتے ہیں۔ تعلیم اتنی اہم ہے کہ مسجد نبوی میں ایک چبوترہ ہے جسے صفہ کہتے ہیں اس چبوترے پر بیٹھ کر صحابہ کرام تعلیم حاصل کرتے ۔ ان صحابہ کرام کے پاس کھانے کے لئے کچھ نہیں ہوتا، زیادہ تر انکی غذاء کھجورہوتی، کبھی تو کھجور بھی میسر نہ ہوتے، وہ اسی طرح بھوکے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ صفہ مدرسہ کے طالب علم ہیں، وہ فرماتے ہیں : ہمیں کھانے کے لئے کچھ نہیں ہوتا ، یہاں تک بھوک کی وجہ سے میں بے ہوش پڑا رہتا، لوگ مجھے دیوانہ سمجھ کر چلے جاتے۔

تعلیم کی بڑی اہمیت ہے وہ بھوکے رھکر تعلیم حاصل کرتے۔ دور حاضر میں سرکاری اسکولس ہیں دینی مدارس ہیں ان تمام میں فیس نہیں لی جاتی اور کمانے کے ہزاروں وسائل موجود ہیں اسکے باوجود بھی بعض حضرات معاشی تنگ دستی کا بہانہ کرتے ہوئے اپنی نئی نسل کو اتنی عظیم نعمت سے محروم کر رہے ہیں۔ اور انکی زندگیوں کو تاریکی میں ڈھکیل رہے ہیں۔دورِ حاضر میں لڑکیاں تعلیمی میدان میں لڑکوں سے آگے ہیں۔ اسلام نے عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے سے منع نہیں کیا بلکہ حصولِ تعلیم کے لئے ترغیب دلائی ۔

لڑکوں کے ساتھ لڑکیوں کو بھی زیور تعلیم سے آراستہ کیا جانا چاہئے۔ شریعت مطھرہ نے ابتداء سے ان کی تعلیم کا نظم کیا، صحابیات نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا حصول ِ تعلیم کے حق دار صرف مرد حضرات ہیں؟ ہمیں بھی علوم اسلامیہ سے آراستہ کیجئے۔ آقا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی تعلیم کی خاطر ایک دن متعین کیا انکی علمی مجلس الگ منعقد ہوتی اور انہیں صبر کی تعلیم دی جاتی۔

آپؐ نے فرمایا: جس خاتون کے تین بچے بچپن میں انتقال کرجائے اور وہ اس پر صبر کرلے تو اس صبر کی وجہ سے وہ جنت میں داخل ہوگی۔ پھر صحابیات نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن کے دوبچے انتقال کرجائے تو آپ ؐ نے فرمایا: ہاں دو بچوں کی وجہ سے بھی جنت میں داخل ہوں گی (ترمذی)۔ اس حدیث شریف سے واضح ہے کہ عورتوں کی تعلیم کا علیحدہ انتظام تھا جن میں صرف عورتیں ہی شریک رہتی تھیں۔ موجودہ دور تو انتہائی فتنہ کا دور ہے ایسے پر آشوب ماحول میں اپنی لڑکیوں کو ایسے کالجس میں اڈمیشن دلوائیں جن میں صرف لڑلیاں ہی تعلیم حاصل کرتی ہوںیا لڑکیوں کے لئے علیحدہ تعلیم کا نظم ہو۔

بچیوں کی عصمت کی حفاظت تعلیم سے کہیںبڑھ کر ہے۔ والدین اپنے بچیوں پر بھروسہ کرکے انہیں آزاد چھوڑ دیتے ہیں، اس آزادی سے جو نتائج برآمد ہوتے ہیں اسکی انہیں فکر نہیں ہوتی۔ بعد میں جب کسی غلطی کا ظہور ہوتا ہے تو اس وقت بہت افسوس کرتے ہیں۔اس وقت افسوس کرنا بے فیض رہتا ہے۔

یہ حق ہے کہ مرد وعورت میں نفسانی خواہشات ہوتے ہیں اسکو کنٹرول میں رکھنا دشوار ہوتا ہے۔ بہت کم لوگ اپنے نفس کو قابو میں رکھنے والے ہوتے ہیں۔ شیطان ہمارا ازلی دشمن ہے، وہ ہمیشہ بہکانے اور غلط راہ پر لیجانے کی کوشش کرتا رہتاہے۔ آج ہمارے معاشرے میں اکثر طلاق کے واقعات پیش آرہے ہیں ان میں سے اکثر شادی سے پہلے لڑکی یا لڑکے کے غلط تعلقات قائم ہونے کی وجہ سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔

شریعت مطھرہ میں آنکھ، کان، زبان کا بھی زنا ہے۔ غلط نگاہ سے دیکھنا آنکھ کا زنا ہے، زبان سے زنا کی باتیں کرنا زبان کا زنا ہے، زنا کی باتیں سننا کان کا زنا ہے۔ ان کو زنا کیوں قرار دیا گیا؟ زنا ایک بہت بڑا جرم ہے اگر انسان ان اعضاء کی حفاظت کیا تو وہ بڑے زنا سے محفوظ ہوجائیگا۔ مخلوط تعلیم کی وجہ سے بڑی خرابیاں نوجوان نسل میں پیدا ہو رہی ہیں۔ اولیاء طلباء پر لازم ہے کہ اس کاہر طرح سے سدِ باب کریں ورنہ ہمارے لئے ہر جگہ دنیا و آخرت میں ذلت ورسوائی ہوگی۔

مسلمانوں میں تعلیمی انحطاط، دین سے عدم دلچسپی، آپسی اتحادی کمزوری کی وجہ سے اہل باطل مسلمانوں کو مسلسل نشانہ بنارہے ہیں۔ یہ ہر اسانی در اصل ان کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف جہاد ہے۔ یہ جنگ علم کے ذریعہ جیتی جاسکتی ہے ہمارے اسلاف ہمارے لئے نمونہ ہیں، انہوں نے اس سرزمین پراسلامی تعلیمات اور علوم وفنون کی ترویج کے ذریعہ بڑی کامیابی حاصل کی ہے: حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے تعلیمات اسلامیہ اور حسن سلوک،اخلاص نیت، جذبہ اشاعتِ دین کے ذریعہ لاکھوں غیر مسلموں کو دائرہِ اسلام میں داخل کیا۔

آپؒ نے ہند کی سر زمین پر علوم اسلامیہ کے ذریعہ فتح حاصل کی ۔آپؒ ہتھیار وفوج کے ساتھ ہندوستان تشریف نہیں لائے بلکہ اللہ و رسول پر بھروسہ کرتے ہوئے ایسے کفرستان میں داخل ہوئے جو اہل اسلام کے سخت مخالف تھے ۔اور یہاںاسلامی تعلیمات کو عام کیا آج نئی نسل پر لازم ہے کہ ان کی سیرت کو اچھی طرح پڑھیں اور ان کے طریقہ کو اپنائیںتو ضرور انہیں کامیابی حاصل ہوگی۔

اسی طرح ایک دور مسلمانانِ ہند کے لئے بڑا کٹھن دور گزرا۔ مسلمانوں کے لئے اس وقت اپنے ایمان کی حفاظت کرنا بہت دشوار تھا۔ چونکہ اکبر بادشاہ نے اسلام کی شبیہ بدل دی تھی اور ایک نیا مذہب (دینِ الٰہی کے نام سے) قائم کیا تھا۔ اس دینِ الٰہی کو حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی فاروقی رحمۃ اللہ علیہ نے علم ،مصلحت ،حکمت کے ذریعہ ختم کیا ۔ علم ایک ایسا ہتھیار ہے جو دکھائی نہیں دیتا لیکن اس کا واربہت مضبوط اور سخت ہوتا ہے۔ کئی لوگوں کے دلوں کو باطل سے نکال کر حق کی طرف لے آتا ہے۔ وہ ایک ایسی روشنی ہے جو تاریک دلوں کو روشن کرتی ہے۔ یہ اسلاف ہمارے لئے مقتدا ہیں، اگر ہم ان کی پیروی کریں گے تو ہمیں ضرور ہند کی زمین پر فتح حاصل ہوگی۔

اللہ کی بارگاہ میں دعاء ہے کہ ہمیں علوم اسلامیہ کی نعمت سے سرفراز فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلینؐ۔
٭٭٭

تبصرہ کریں

Back to top button