عمران خان کے 50 وزرا‘ سیاسی محاذ سے غائب

فیصلہ کن تحریک ِ عدم اعتماد کی تاریخ قریب آتی جارہی ہے۔ سیاسی غیریقینی برقرار ہے ایسے میں برسراقتدار پاکستان تحریک ِ انصاف (پی ٹی آئی) کے کم ازکم 50 وزرا ”سیاسی محاذ سے غائب“ ہوچکے ہیں۔

اسلام آباد: فیصلہ کن تحریک ِ عدم اعتماد کی تاریخ قریب آتی جارہی ہے۔ سیاسی غیریقینی برقرار ہے ایسے میں برسراقتدار پاکستان تحریک ِ انصاف (پی ٹی آئی) کے کم ازکم 50 وزرا ”سیاسی محاذ سے غائب“ ہوچکے ہیں۔ دی ایکسپریس ٹریبون نے یہ اطلاع دی۔

اپوزیشن نے جب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف مہم تیز کردی ہے‘ 50 سے زائد وفاقی اور صوبائی وزرا پبلک میں دکھائی نہیں دیئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان وزرا میں 25 وفاقی اور صوبائی مشیر اور معاونین ِ خصوصی ہیں جبکہ 4 مملکتی وزرا ہیں۔ 4 مشیر اور 19 معاونین ِ خصوصی ہیں۔

یہ پیشرفت ایسے وقت ہوئی ہے جب پی ٹی آئی کے کئی وزرا نے معنی خیز خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ وزرا دیگر آپشنس پر غور کررہے ہیں اور صحیح وقت کے منتظر ہیں۔ وفاقی سطح پر وزیراعظم کو زبردست تائید حاصل ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی‘ وزیر اطلاعات فواد چودھری‘ وزیر توانائی حماد اظہر‘ وزیر دفاع پرویز خٹک اور وزیر داخلہ شیخ رشید پوری قوت سے حکومت کے بیانیہ پر زور دے رہے ہیں۔

وہ عمران خان کے دفاع میں پیش پیش ہیں تاہم کئی وفاقی اور صوبائی وزرامشکل کی اس گھڑی میں غائب ہیں۔

اسی دوران وزیر داخلہ شیخ رشید نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ انہو ں نے وزیراعظم عمران خان کو تجویز کیا ہے کہ وہ بجٹ کے بعد الیکشن کرادیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی تحریک ِ عدم اعتماد کی وجہ سے عمران خان کی مقبولیت بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے عمران خان سے کہہ دیا ہے کہ اچھا بجٹ پیش کرنے کے بعد الیکشن کرادیا جائے کیونکہ یہی نااہل اپوزیشن ہمیں دوبارہ جیتنے کا موقع دے گی۔ پاکستانی قوم اپنے اپوزیشن قائدین کے اصل چہرے دیکھ لے گی۔ وہ انہیں وفاداریاں بدلتا دیکھ لے گی۔

اپوزیشن پی ایم ایل این قائد شہباز شریف پر طنز کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ یہ وہی شہباز شریف ہے جو کہتا ہے کہ نواز شریف‘ فوجی سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ اور فوج کا بڑا احترام کرتا ہے۔ ”ووٹ کو عزت دو“ کہاں گیا۔ ووٹ دکانوں میں بک رہا ہے۔

شیخ رشید نے یاددلایا کہ نواز شریف نے ہی ملک کی فوجی اسٹابلشمنٹ کو موردِ الزام ٹھہرایا تھا کہ اسے نے اسے بے دخل کیا تھا۔ شیخ رشید نے یہ بھی کہا کہ تحریک عدم اعتماد 3 یا 4 اپریل کو پیش ہوسکتی ہے۔

یو این آئی کے بموجب پاکستانی وزیر داخلہ شیخ رشید احمدنے ہفتہ کے دن کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک ِ عدم اعتماد پر 3 یا 4 اپریل کو ووٹنگ ہوسکتی ہے۔ انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا کہ تحریک ِ عدم اعتماد لاکر اپوزیشن نے اصل میں عمران خان کی مدد کی ہے جس کی شہرت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔

پاکستانی پارلیمنٹ میں اپوزیشن ارکان کی تعداد 162 ہے۔ برسراقتدار محاذ کو 179 ارکان کی تائید حاصل ہے جو تحریک ِعدم اعتماد کو شکست دینے کے لئے درکار تعداد (172) سے کچھ زیادہ ہے۔

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button