عوام پر مزید قرضوں کا بوجھ ڈال دیا گیا، سدارامیا کا ردعمل

 اگلے سال مارچ تک یہ ہندسہ بڑھ کر 5,18,000کروڑ ہوجائے گا۔2017-18ء میں قرضوں پر سود 13ہزار کروڑ تھا مگر اب یہ 29ہزار کروڑ ہے۔ گزشتہ چار سالوں میں بی جے پی حکومت  نے 2,66,000کروڑ روپئے قرض لیا۔ کونسل کے اپوزیشن لیڈر بی کے ہری پرساد نے کہا کہ بسواراج بومئی نے تمام شعبوں کو رقومات مختص کرکے سب کو خوش کرنے والے بجٹ کا اعلان کیا۔

منگلورو:قائد اپوزیشن سدارامیا نے بجٹ کو ڈینگیں مارنے کا عمل قرار دے کر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ کافی غلط معلومات ہیں۔گزشتہ چند سالوں سے انہوں نے لوگوں پر مزید قرضوں کا بوجھ ڈال دیا ہے۔ یہ ان کی عظیم حصولیابی ہے۔“ سدارامیا نے مزید کہا ”آزادی سے 2018-19تک ریاست کا قرض2,42,000کروڑ تھا۔

 اگلے سال مارچ تک یہ ہندسہ بڑھ کر 5,18,000کروڑ ہوجائے گا۔2017-18ء میں قرضوں پر سود 13ہزار کروڑ تھا مگر اب یہ 29ہزار کروڑ ہے۔ گزشتہ چار سالوں میں بی جے پی حکومت  نے 2,66,000کروڑ روپئے قرض لیا۔ کونسل کے اپوزیشن لیڈر بی کے ہری پرساد نے کہا کہ بسواراج بومئی نے تمام شعبوں کو رقومات مختص کرکے سب کو خوش کرنے والے بجٹ کا اعلان کیا۔

تاہم وسائل کا انتظام کیسے ہوگا، اس کا کوئی منصوبہ پیش نہیں کیا گیا۔ ریاست کی مالی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان میں سے کسی بھی اعلان پر عمل آوری کا امکان نہیں۔“ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ بجٹ آئندہ انتخابات کو ذہن میں رکھ کر پیش کیا جارہا ہے۔ ان بڑے اعلانات کے لیے وسائل کہاں سے آئیں گے؟اگر مرکز رقومات فراہم نہیں کرتی ہے تو ان منصوبوں کو مالیہ فراہم کرنا مشکل ہوگا اور اعلانات صرف کاغذ تک محدود ہوجائیں گے۔

جے ڈی ایس لیڈر ایچ ڈی کماراسوامی نے بھی حکومت پر یہ کہتے ہوئے تنقید کی کہ مرکزی آبی کمیشن کی جانب سے منظوریو ں کی عدم فراہمی کی وجہ سے میکے داتو پراجکٹ میں تاخیر ہوئی ہے۔ بجٹ میں 1ہزار کروڑ روپئے مختص کرنا فریب نظر ہے۔ لازمی منظوریوں کے بغیر وہ اس پر کیسے عمل کرسکتے ہیں؟

“ اُدھر عوامی نقل و حمل کی وکالت کرنے والے گروپ بنگلورو بس پریانیکرا ویدیکے (بی بی پی وی) نے بھی بجٹ میں بی بی ایم ٹی کو فنڈس مختص نہ کرنے اور خاتون  مسافرین کو مفت سفر فراہم کرنے کے اس کے مطالبہ کو حاشیہ بردار کرنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اپنے بیان میں گروپ نے کہا کہ بجٹ سے عام آدمی خود کو ٹھگا ہوا محسوس کررہا ہے۔

عام شہریوں اور حمل و نقل سے متعلق ان کی تشویش پر حکومت نے صحیح توجہ نہیں دی۔ بس ٹرانسپورٹ کا کوئی تذکرہ نہیں،(شہر کی شہ رگ) بی ایم ٹی سی کے لیے رقومات کی عدم تخصیص اور عام آدمی کے لیے کرایوں میں عدم کمی، خواتین اور دیگر کمزور طبقات کے لیے مفت سفر فراہم نہیں کیا گیا۔ بی بی پی وی نے بجٹ سے قبل حکومت سے بی ایم ٹی سی کو سالانہ 1ہزار کروڑ روپئے مختص کرنے کی درخواست کی تھی۔

ذریعہ
منصف ویب ڈیسک

تبصرہ کریں

Back to top button