غداری قانون‘ چدمبرم اور رجیجو میں نوک جھونک

وزیر قانون نے جمعہ کے دن لوک سبھا میں کہا تھا کہ وزرات داخلہ کے پاس ایسی کوئی تجویز نہیں ہے کہ غداری سے متعلق انڈین پینل کوڈ (آئی پی سی/ تعزیرات ہند) کی دفعہ 124A برخاست کردی جائے۔

نئی دہلی: سینئر کانگریس قائد پی چدمبرم نے ہفتہ کے دن وزیر قانون کرن رجیجو کے اس بیان پر طنز کیا کہ غداری قانون کی تنسیخ وزارت داخلہ کے زیرغور نہیں ہے۔ چدمبرم نے کہا کہ رجیجو نے یہ نہیں کہا کہ وزارت داخلہ کئی بے قصور افراد کے خلاف اس قانون کے تحت معاملہ درج کرنے کی تجویز رکھتی ہے۔ رجیجو نے چدمبرم پر پلٹ وار کرتے ہوئے پوچھا کہ کانگریس دور میں کتنے ہزار غداری کیسس درج ہوئے تھے۔

وزیر قانون نے جمعہ کے دن لوک سبھا میں کہا تھا کہ وزرات داخلہ کے پاس ایسی کوئی تجویز نہیں ہے کہ غداری سے متعلق انڈین پینل کوڈ (آئی پی سی/ تعزیرات ہند) کی دفعہ 124A برخاست کردی جائے۔ آسام کے رکن پارلیمنٹ بدرالدین اجمل (مولانا بدرالدین اجمل قاسمی) کے اس سوال پر کہ سپریم کورٹ حال میں غداری قانون کو سامراجی قراردے چکی ہے اور یہ بھی کہہ چکی ہے کہ اس کا بے جا استعمال ہورہا ہے‘ کرن رجیجو نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ کے کسی بھی فیصلہ یا حکم میں ایسا کوئی تبصرہ نہیں پایا گیا۔

لوک سبھا میں کرن رجیجو کے تحریری جواب پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چدمبرم نے ٹویٹ کیا کہ وزیر قانون نے کہا ہے کہ مرکزی وزارت داخلہ نے انہیں بتایا ہے کہ غداری قانون رد کرنے کی کوئی تجویز نہیں ہے۔ وزیر قانون نے یہ نہیں کہا کہ وزارت داخلہ اس قانون کے تحت کئی بے قصور افراد کو بک کرنے کی تجویز رکھتی ہے۔ سپریم کورٹ کی رائے کے تعلق سے چدمبرم نے کہا کہ وزیر قانون نے یہ نہیں کہا کہ وہ اخبارات میں سپریم کورٹ کی کارروائی سے متعلق رپورٹس نہیں پڑھتے۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button