غصے کا ’’اگنی پتھ‘‘

رویش کمار

بہار سمیت کئی مقامات پر حالات بے قابو ہوگئے۔ جس طرح سے دوسرے دن تشدد ہوا ہے، اس سے لگتا ہے کہ پہلے دن کے تشدد کے بعد بھی پولیس کی چوکسی کافی نہیں تھی بلکہ مظاہرہ کا پیمانہ اتنا وسیع ہوگیا کہ پولیس کم نظر آنے لگی۔ آج بھی حکومت اگنی پتھ اسکیم کے دفاع میں زور و شور سے اتری ہے۔ آج بھی اس کی مخالفت میں نوجوان بھیانک پُرتشدد ہوگئے۔ بہار میں کئی مقامات پر بی جے پی کے دفاتر اور قائدین کے مکانات پر حملے ہوئے ہیں، سڑک مسافرین سے لے کر ٹرین مسافرین آج بہار میں جگہ جگہ گھنٹوں پھنسے رہے۔ بہار میں بڑے پیمانے پر ٹرینوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق بہار میں آج 100سے زائد گاڑیوں کے روٹ بدل گئے ہیں اور 55 ٹرینوں کو منسوخ کردیا گیا۔ جس طرح سے ٹرینوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ لگتا نہیں کہ اس پر قابو پانا پولیس کے بس میں ہے۔
پٹنہ سے متصل دانا پور ریلوے اسٹیشن کا برا حال کردیاگیا ہے جبکہ یہاں بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات تھی۔ اس کے بعد بھی پلیٹ فارم پر پہنچ کر مظاہرین نے بے خوف توڑپھوڑ کی۔ مظاہرین نے چہرا ڈھنک لیا تھا۔ دانا پور میں فرکا ایکسپریس کو فسادیوں نے نذر آتش کردیا۔ یہاں پر دو انجنوں میں بھی آگ لگادی گئی اور توڑپھوڑ ہوئی ہے۔ دانا پور اسٹیشن پر جو بائیک کھڑی تھی، اس میں آگ لگادی۔ عام لوگو ںکی بائیک تک کو نہیں چھوڑا گیا۔ ریلوے حفاظتی پولیس کی چیک پوسٹ کو بھی نہیں چھوڑا۔ پولیس پر سنگباری تک کرنے لگے، پتھروں سے بچنے کے لیے پولیس ہی بھاگنے لگی۔ اور خبروں کے مطابق اے ایس پی کو جان بچانے کے لیے فائرنگ تک کرنی پڑی۔ اس کے بعد جب پٹنہ ایس پی اور کلکٹر حالات کو سنبھالنے کے لیے پہنچے تو ان پر بھی حملہ ہوگیا۔
سمستی پور میں بھی احتجاجیوں نے دربھنگہ نئی دہلی سمپرک کرانتی ایکسپریس کو پھونک دیا پولیس یہاں کچھ نہیں کرسکی، ٹرین میں سوار مسافرین جان بچاکر بھاگے۔ اس طرح ایک اچھی خاصی ٹرین آگ کے حوالے کردی گئی ۔ ٹرین میں لوٹ مار بھی ہوئی ہے۔ پینٹری کار کے اندر کچھ نہیں بچا ہے۔ سمستی پور اسٹیشن پر برہم ہجوم ہاتھ میں ڈنڈے لے کر پلیٹ فارم کو اپنے قبضے میں لے چکی تھا اور بے خوف گاڑیوں کے شیشے توڑرہا تھا۔ لکھی سرائے میں دو دو ٹرینوں میں آگ لگائی گئی۔ جن سیوا ایکسپریس اور وکرم شیلا ایکسپریس کی بوگیاں جلتی رہیں۔ برہم نوجوانوں نے اس ریلوے پر بھی حملہ کردیا جس میں بھرتی ہونے کا خواب دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ لکھی سرائے میں تشدد کے الزام میں بیس افراد گرفتار ہوئے ہیں۔ حاجی پور برونی ریل ٹرانسپورٹ کے محی الدین نگر میں بھی جموتوی گوہاٹی ایکسپریس کو آگ لگا دی گئی۔ ٹرین کی دوبوگیاں خاکستر ہوگئیں۔ محی الدین نگر سے کافی لوگ فوج میں جاتے ہیں۔ اس طرح بہار اور جھارکھنڈ کے کئی علاقے پُرتشدد اور جارحانہ مظاہروں کی بھینٹ چڑھ گئے۔
نالندا میں بھی ہٹیا۔اسلام پور ٹرین کی بوگیوں کو پھونک دیا گیا۔ پالی گھر میں بس جلادی گئی۔ پولیس کی گاڑی جلادی گئی، کہیں ریل روٹ جام کیا گیا تو کہیں پر سڑک۔ برونی سے لے کر بیگوسرائے تک کئی علاقوں میں مظاہرے ہوئے۔ آرا میں پہلے دن اسٹیشن پر بھاری تباہی مچانے کے بعد آج سڑک پر مظاہرہ ہوا۔ سوپول بیہیا، ارول، بکسر، ڈومرائو میں بھی ریلوے ٹریک کو جام کیا گیا۔ آرا کے کولہڑیا میں ساسارام پیاسنجر ٹرین میں آگ لگادی گئی۔ دو بوگیاں جل کر خاک ہوگئیں۔ ساسارام میں کومہوئو اسٹیشن کے پاس ڈوریاو گومٹی پر ریلوے کے سگنل سسٹم میں بھی آگ لگادی گئی۔ یہاں کی سڑکوں پر طلباء پُش اپ کرکے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے رہے۔ ساسارام سے یہ بھی خبر ہے کہ پولیس پر بھی گولی چلی ہے۔ شیوساگر پولیس اسٹیشن کے ایک جوان دیپک کمار سنگھ کے پیر میں گولی لگی ہے۔ پلامو، جموئی، لوہردگا اور بوکارو میں بھی مظاہرہ ہوا اور ریل سڑک جام کیا گیا۔
بہار آج بے قابو ہوگیا۔16جون کے تشدد سے ہی اشارے مل گئے تھے پھر بھی جس طرح سے پولیس بے بس نظر آئی، اس سے یہی لگتا ہے کہ فوج میں بھرتی کے خواہشمند نوجوانوں پر سختی کرنے سے بچاجارہا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ فیصلہ ہوسکتا ہے لیکن ان کی ناراضگی بتارہی ہے کہ حکومت ان کے غصے کو کم سمجھ رہی ہے۔ اب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ نوجوان اگنی پتھ نام کی عظیم اسکیم کو نہیں سمجھے ہیں۔ کسان احتجاج کے وقت کہا گیا کہ کسان نہیں سمجھ رہے ہیں، اگنی پتھ کے وقت بھی کہا جارہا ہے کہ نوجوان نہیں سمجھ رہے ہیں جبکہ نوجوان اور کسان دونوں ہی نوٹ بندی کافی اچھی طرح سمجھ گئے تھے۔ جو سماج نوٹ بندی سمجھ سکتا ہے وہ اگنی پتھ نہیں سمجھ پارہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سمجھانے کی کوششوں میں کچھ کمی ہے۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے بتایا تھا کہ 24سال کی عمر میں 12لاکھ ہوں گے لیکن اب بی جے پی ایم پی راجیہ وردھن راٹھوڑ کہہ رہے ہیں کہ 20لاکھ ہوں گے بہت خوبصورت فرق ہے، جن کی ملازمت چار سال یا چار سے زائد کی ہوچکی ہے اور جن کے کھاتے میں 12یا 20لاکھ جمع ہوچکے ہیں اس ویڈیو کو سنتے ہی ’’سابق‘‘ ہونے کا عدیم النظیر شرف حاصل کرسکتے ہیں، استعفیٰ دے سکتے ہیں۔ حکومت نے ایسی دلیلوں سے لیس تشہیری مواد ٹوئٹر سمیت سوشل میڈیا پر پھیلادیا ہے۔ اگنی پتھ کے لانچ ہونے کے تاریخی دن 14جون کو وزیرداخلہ امیت شاہ نے چار ٹوئٹ کرکے اسے انقلابی پہل بتایا تھا۔ امیت شاہ نے اس انقلابی اسکیم کے لیے مودی جی کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔ اگر ٹرین کی پٹریوں پر مظاہرہ کررہے ان نوجوانوں کو کسی طرح ٹوئٹر پر لایا جائے تو یہاں موجود مواد سے انہیں اگنی پتھ کے فوائد کا ضرور پتا چل جائے گا۔ اگنی پتھ کے فائدے بتانے میں گودی میڈیا بھی محنت کررہا، لیکن احتجاجی سڑک پر ہونے کی وجہ سے نہیں دیکھ پارہے ہوں گے ۔(سلسلہ صفحہ ۷)
ایک بار دیکھ لیں گے انہیں اپنے کیے پچھتاوا ہوگا کہ ایسی شاندار اسکیم کو سمجھنے کا موقع گنواکر وہ احتجاج کررہے ہیں، اپنی ہی ریل گاڑی جلاتے رہے۔
کورونا کی وجہ سے دو سال سے فوج میں بھرتیاں بند تھیں مگر کورونا کی وجہ سے دو سال میں کئی سو انتخابی ریالیاں ہوتی رہیں۔ یو پی انتخابات کے وقت مرکزی وزیر سنجیو بلیان نے مکتوب تک تحریر کیا کہ تقررات کا عمل شروع کیا جائے اور جن نوجوانو ںکی عمر ہوچکی ہے انہیں ایک دو مواقع دیے جائیں ۔ گونڈا کی ریالی میں راجناتھ سنگھ نے جب تیقن دے دیا تھا تب اسے پورا کرنے میں تاخیر کیوں کی گئی؟
یوپی الیکشن میں ان نوجوانوں نے بی جے پی کو خوب ووٹ کیا لیکن تب بھی ان کی مانگ تسلیم نہیں کی گئی کیا یہ عجیب نہیں ہے کہ جو فیصلہ وزارت دفاع کو کرنا چاہیے تھا یا ابھی تک کرلینا چاہیے تھا، اس فیصلے کے لیے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ تین تین ٹوئٹ کرکے وزیراعظم کو مبارکباد دے رہے ہیں، لکھ رہے ہیں کہ وزیراعظم کی ہدایت پر اگنی ویر کی بھرتی میں اس بار کے لیے عمر کی حد 23سال کی جارہی ہے۔ یہ رعایت ان کے لیے ہے جو بھرتی بند ہونے کے سبب اوور ایج ہوگئے تھے۔ ایک سال سے ملک بھر میں عمر کی حد میں رعایت کو لے کر نوجوان مظاہرہ کررہے ہیں تب فیصلہ کیوں نہیں ہوا۔دینک بھاسکر نے کچھ ماہ پہلے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ صرف سیکر اور جھنجھنو میں تیاری کرنے والے ایک لاکھ سے زائد طلباء اوور ایج ہوگئے ہیں۔ اب جاکر پُرتشدد احتجاج کے بعد حکومت نے فوری ان کا مطالبہ قبول کرلیا۔ نئی اگنی ویر بھرتی میں عمر کی حد میں رعایت دی جارہی ہے۔ ایک بار کے لیے 21سے بڑھا کر 23سال کی جارہی ہے۔
کمال ہے، تاخیر سے لیا گیا فیصلہ بھی حساس فیصلہ کہلاتا ہے تو پھر بے حس فیصلہ کی اصطلاح کیا ہوگی۔ کیا اسی طرح کی رعایت یو پی ایس سی کا امتحان دینے والے طلباء کو ملے گی جو اپنے اس مطالبہ پر عدالت گئے، کئی بار ان طلباء نے بھی مظاہرہ کیا، تب کیا مان لیا جائے کہ وزیراعظم نے ہدایت نہیں دی، اس لیے رعایت نہیں ملی، ان کے معاملے میں تو وزارت پرسونل پر پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی نے بھی ایک موقع دینے کا مشورہ دیا تھا تب بھی حکومت نے یو پی ایس سی کے امیدواروں کو ایک اور موقع نہیں دیا۔ حکومت کو لگا تھا کہ اگنی ویر اسکیم میں ایک بار کے لیے 23سال تک عمر بڑھادینے سے تحریک ختم ہوجائے گی لیکن آج تو یہ اور بھی پُرتشدد ہوگئی۔ بہار میں ریل اور بسیں ہی نہیں بلکہ بی جے پی قائدین کے مکان اور پارٹی دفتر کو بھی نوجوانوں نے نشانے پر لے لیا۔
دو دنوں سے تشدد ہورہا ہے ۔حکومت ٹوئٹر کے ذریعہ نوجوانوں سے بات کررہی ہے۔ نوجوانوں کو سمجھنا چاہیے کہ زرعی قوانین کووزیراعظم نے پریس کانفرنس پر لانچ نہیں کیا تھا۔ ان کا اعلان کیا گیا تھا ۔ پہلے آرڈننس آیا تھا تب جاکر کسانوں کو پتا چلا تھا۔زرعی قوانین کی طرح اگنی پتھ اسکیم کا واپس لیا جانا آسان نہیں ہوگا۔ حکومت پر الزام عائد ہوگا کہ بغیر سوچے سمجھے ایک منصوبہ بنایا اور اسے فوجی سربراہوں کے ہاتھوں لانچ کرادیا۔ جس طرح سے وزراء اگنی پتھ کے لیے وزیراعظم کو مبارکباد دے رہے ہیں بعد میں نہیں کہہ سکتے کہ فیصلہ صرف فوجی سربراہوں کا تھا۔
پیغام صاف اور سخت ہے۔ اگنی پتھ اسکیم واپس نہیں ہوگی۔ نیا دور آگیا ہے۔ نوجوانوں نے ایک غلطی کی ہے۔ تشدد سے بچنا چاہیے تھا۔ تشدد کا پیمانہ اتنا وسیع تھا کہ بہت مشکل سے پولیس نے حالات کو سنبھالا ہے۔ بے شک پولیس کم پڑگئی۔ پولیس کی کارروائی سے لگتا ہے کہ آج بہت تحمل اور دانشمندی سے کام لیا گیا ہے۔
یمنا ایکسپریس وے پر علی گڑھ کے پاس ٹپل میں بڑی تعداد میں مظاہرین پہنچ گئے۔ پولیس کی موجودگی کے بعد بھی یمنا ایکسپریس وے پر روڈ ویز کی چار چار بسوں کو تباہ کردیا۔ کیا ان نوجوانوں میں یوگی کی پولیس کا ڈر ختم ہوگیا ہے۔ متھرا میں پُرتشدد مظاہرہے ہوئے۔ ایسا لگتا ہی نہیں کہ انہیں بلڈزور کا کوئی خوف ہے۔ کیا یو پی پولیس دو دنوں کے اندر اس طرح تشد دکرنے والوں کے گھر پر بلڈزور لے کر جائے گی، ان کی تصاویر کے پوسٹر شہروںمیں لگائے گی، آخر یہ کیسے ہیں کہ ان نوجوانوں میں تشدد کو لے کر کوئی خوف نہیں ہے۔ تشدد کرنے والوں کے ہجوم میں دوسرے لوگ بھی ہوسکتے ہیں لیکن اس سے یہ وہم نہیں ہونا چاہیے کہ تشدد کی آگ دوسرے لوگوں سے پھیلی ہے۔ جو اپوزیشن اپنے مظاہروں میں پانچ سو لوگوں کو جمع نہیں کرپاتی، اس کے سرسازش کا سہرا باندھنے سے پہلے نوجوانوں سے بات کرنا چاہیے۔
ہریانہ میں آج کسانوں کے لیڈر گرونام سنگھ نے نوجوانوں کی تحریک کی حمایت کردی ہے۔ روہتک میں دفعہ 144 نافذ ہے، اس کے بعد بھی ٹریکٹروں میں سوار ہو کر مظاہرین نے بی جے پی کے دفتر کو گھیر لیا۔شمالی ہند کے ساتھ اگنی پتھ کی مخالفت تلنگانہ میں پہنچ گئی ہے۔ وہاں بھی ٹرین جلادی گئی۔ مدھیہ پردیش میں بھی گوالیار اور اندور میں مظاہرے ہوئے۔
گزشتہ جمعہ کو مظاہروں کے دوران جو تشدد ہوا اور اس جمعہ کو جو تشدد اور آگ زنی ہوئی دونوں کے کوریج میں اگر آپ گودی میڈیا اور نصف گودی میڈیا کی زبان دیکھیں تو کافی فرق نظر آئے گا۔ گزشتہ جمعہ کو تشدد اور سنگباری کے واقعہ کی خبر آتے ہی فوری دہشت گرد سے لے کر عسکریت پسند کا استعمال کیاجانے لگا۔ اس جمعہ کو کافی سنبھل کر فسادی کا استعمال ہوا۔ زیادہ ترمقامات پر احتجاجیوں اور مظاہرین (الفاظ) کا استعمال ہوا۔
ایک فرقہ کے تعلق سے گودی میڈیا کتنی آسانی سے دہشت گرد سے عسکریت پسند لکھ ڈالتا ہے لیکن اس طرح کے تشدد میں ایک فرقہ کے لیے ان الفاظ کا استعمال نہیں کرتا، دہشت گرد کی جگہ آگ زنی اور ہنگامہ کا استعمال کرتا ہے۔ واقعی یہ جمعہ زبان میں جمہوریت اور فراخدلی کا جمعہ ہے۔
اگنی پتھ اسکیم آچکی ہے اور رہے گی۔ نوجوانوں کو تشدد کا راستہ ترک کرنا پڑے گا۔ ابھی تک کسی نے ان کی شناخت کرکے ان کے گھر پر بلڈوزر چلانے کی بات نہیں کی ہے۔ یہ کم بڑی بات نہیں ہے۔ بلکہ پولیس افسر کہہ رہے ہیں کہ اپنے ہی بچے ہیں۔ اتنے تشدد کے بعد آپ کو اتنا پیار مل رہا ہے یہ کافی ہے کہ آپ تشدد ترک کردیں۔

یہ بھی پڑھیں

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button