قادیانیت کی فریب کاریاں

اہل اسلام کی خدمت میں گذارش ہے کہ جناب مولوی مرزا غلام احمد صاحب کی کتاب ’’ازالۃ الاوہام‘‘ ایک مبسوط کتاب ہے، جس کے تقریباً ہزار صفحے ہیں، اگر اس کا جواب لکھا جائے تو کئی جلدوں میں ہوگا۔

شیخ الاسلام امام محمد انواراللہ فاروقیؒ
(بانی جامعہ نظامیہ۔حیدرآباد)

اہل اسلام کی خدمت میں گذارش ہے کہ جناب مولوی مرزا غلام احمد صاحب کی کتاب ’’ازالۃ الاوہام‘‘ ایک مبسوط کتاب ہے، جس کے تقریباً ہزار صفحے ہیں، اگر اس کا جواب لکھا جائے تو کئی جلدوں میں ہوگا۔ اس لئے تضییع اوقات کے لحاظ سے علماء نے اس طرف توجہ نہیں کی، اس عاجز نے ما لایدرک کلہ لا یترک کلہ پر عمل کرکے اُس کے چند ضروری قابل توجہ مباحث میں بحث کی ۔

سببِ اختلاف مذاہبِ اسلامیہ
مسلمانوں کا خیر خواہ محمد انواراللہ ابن مولانا مولوی حافظ ابومحمد شجاع الدین صاحب قندھاری دکنی اہل اسلام کی خدمت میں گزارش کرتا ہے کہ یہ امر پوشیدہ نہیں کہ جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس عالم میں تشریف فرما تھے، فیضان صحبت اور غلبۂ روحانیت کی وجہ سے تمام اہل اسلام عقائد دینیہ میں خودرائی سے مبّرا اور خودغرضی سے معرّاتھے اور اطاعت وانقیادکا مادّہ اُن میں ایسا متمکن اور راسخ تھا کہ مخالفت خدااور رسول کے خیال کو بھی وہاں گذرنہ تھا۔

پھر جب حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعد تکمیل دین تشریف فرمائے عالم جاودانی ہوئے بعض طبائع میں بمقتضائے جبلت (فطرت وطبیعت کے مطابق) خودسری (سرکشی، نافرمانی) کا خیال پیدا ہوا اور عقل خود پسند پر جو قوت ایمانی کا دبائو تھا کم ہونے لگا اور دوسری اقوام کے علوم اپنے سبز باغ مسلمانوں کو دکھلانے لگے اور ادھر امتداد زمانہ کی وجہ سے خلافت نبوت کی قوت میں بھی کسی قدر ضعف آگیا، جس سے وحدت قہری(اتحادی قوت)کا شیرازہ ٹوٹ گیا۔

یہ بھی پڑھیں

غرض اس قسم کے اسباب سے جدت پسند طبائع نے مخالفت کی بنیاد ڈالی۔ کسی نے اہل حق پر عدم تدین کاا لزام لگاکر کمال تقویٰ کی راہ اختیار کی جو صرف نمائش ہی نمائش تھی اور درحقیقت وہ کمال درجہ کا فسق تھا، جیسے خوارج کی جنگ باہمی وغیرہ شبہات کی وجہ سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور جملہ صحابہ کی تکفیر کرکے مسلمانوں کی جماعت سے علیحدہ ہوگئے اور بعضوں نے امامت کے مسئلہ پر زور دیکر اُس جماعت سے مخالفت کی جس سے اور ایک جدافریق قائم ہوگیا۔ کسی نے مسئلہ تنزیہ میں وہ غلو کیا کہ صفات الٰہیہ کا انکارہی کردیااور اُس جماعت سے علیحدگی اختیارکرکے ایک فرقہ بنام معتزلہ اپنے ساتھ کرلیا۔ بعضوں نے مسئلہ جبر وقدرمیں افراط و تفریط کرکے دو فرقے اُس جماعت سے علیحدہ بنالئے۔

الغرض اُس جماعت حقہ سے بہت سے لوگ علیحدہ ہوکر جداگانہ اسماء کے ساتھ موسوم ہوتے گئے، پھر جو جو فرقے علیحدہ ہوتے عقل سے کام لیکر نئے نئے مسائل تراشتے اور اُن کو اپنا مذہب قراردیتے گئے جس کی وجہ سے بکثرت مذاہب ہوگئے لیکن ان تمام انقلابات کے وقت وہ جماعت کثیرہ جو ابتدائے اسلام سے قائم ہوئی تھی انہی اعتقادات پر قائم رہی جو اُن کو وراثتاً آباء و اجداد سے پہنچے تھے، انہوں نے عقل کو نقل کے تابع کرکے قرآن و حدیث کو اپنا مقتدابنارکھا اور تمام اعتقادات میں قدم بقدم صحابہ کی پیروی کرتے رہے۔

اہلِ سنت و جماعت
یہ جماعت وہی ہے جو اہل سنت و جماعت کے نام سے اب تک مشہور ہے اور جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کے تفرقہ کا ذکر فرمایا وہاں اس جماعت کو اس خوبی اور خوش اسلوبی کے ساتھ یاد کیا کہ ہر شخص کو اُس میں شریک ہونے کی آرزو ہوتی ہے ،مگر صرف آرزو سے کیا ہوگا؟ وہاں تو یہ شرط لگی ہوئی ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اورصحابہ کے طریقے پر رہیں،چنانچہ ارشادہے: عن عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ ﷺ وتفترق أمتی علی ثلاث و سبعین ملۃ کلھم فی النار إلا ملۃ واحدۃ، قالوا: من ھی یا رسول اللہ؟ قال: ما أنا علیہ وأصحابی۔ رواہ الترمذی و فی روایۃ أحمد و أبی داود عن معاو یۃ: ثنتان و سبعو ن فی النار و واحدۃ فی الجنۃ۔ کذا فی المشکوۃ۔

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی ، وہ تمام جہنم میںہوں گے سوائے ایک جماعت کے، صحابہ کرام نے عرض کیا: وہ کونسی جماعت ہوگی؟ (جنت میں جانے والی)آپ نے فرمایا: میںاور میرے صحابہ جس پر ہیں۔(ترمذی)
اور احمد اور ابو دائود کی روایت میں بہتر فرقوں کا ذکر ہے۔ بہتّر (72) مذہب ناری ہیں اور ایک ناجی

مدعیانِ نبوت کا ذبہ کے پیرو اسلام ہی سے خارج ہیں
یوں تو ہر مذہب والے دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم بھی صحابہ کے پیرو ہیں اور احادیث ہمارے یہاں بھی موجود ہیں، مگر تحقیق کرنے سے یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ سوائے اہل سنت و جماعت کے یہ بات کسی کو حاصل نہیں، فن رجال کی صدہاکتابیں ہیں جن سے ظاہر ہے کہ علمائے اہل سنت نے جرح وتعدیل رواۃ اور تحقیق احادیث و آثارصحابہ میں کس قدر جانفشانیاں ،کیں جن کی وجہ سے کسی مفتری (بہتان لگانے والا) بے دین کی بات کو فروغ ہونے نہ پایا اور احادیث و آثار اُن کی سعی سے اب تک محفوظ رہے۔ اس امر کا اہتمام جس قدر علمائے اہل سنت وجماعت نے کیا ہے اُس کی نظیر نہ امم سابقہ میں مل سکتی ہے نہ کسی دوسرے مذہب میں یہ اہتمام اور خاص تو جہ بہ آواز بلند کہہ رہی ہے کہ سوائے اہل سنت و جماعت کے کوئی مذہب ناجی اور مصداق اس حدیث کا نہیں ہوسکتا۔

یہاں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اہل سنت و جماعت کے سواگوتمام فرق اسلامیہ نے مسائل اعتقاد یہ میں عقل کو دخل دیکر بہت سی نصوص میں اس قدر تاویلیں کیں کہ اُن کو بیکار ٹھیرادیا مگر اُن میں کسی مقتدائے مذہب نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ سب اپنے آپ کو صرف امتی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کہتے رہے۔ اسی وجہ سے کل مذاہب حضرتؐ ہی کی امت میں شمار کئے جاتے ہیں، چنانچہ حضرتؐ نے بھی امتی کا لفظ ان کی نسبت فرمادیا ہے۔ بخلاف اُن کے بعض لوگ ایسے بھی پیدا ہوئے کہ اُن کی غرض صرف مقتدابننے کی رہی ہر چند آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کو بھی تسلیم کرتے تھے۔مگر اس کے ساتھ اپنی نبوت کو بھی لگادیا کرتے۔ چنانچہ مسیلمہ کذاب وغیرہ باوجودیکہ حضرت کی نبوت کے قائل تھے جیسا کہ کتب احادیث و تواریخ سے ظاہر ہے مگر خودبھی نبوت کا دعوی کرتے تھے اور چونکہ نصوص قطعیہ سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا اس وجہ سے وہ کذاب کے نام سے موسوم ہوئے۔

اور صحابہ وغیر ہم نے اُن سے جہادکر کے اُن کو مخذول (رسوا) کیا اور اُن کا یہ دعویٰ کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کرتے ہیں کچھ مفید نہیں ہوا، جب اس قسم کے لوگوں کی ابتداحضرت ہی کے زمانہ سے ہوچکی تو پھر کیونکر ہوسکتا تھا کہ وہ سلسلہ منقطع ہو،اس لئے کہ جو ں جوں حضرت کے زمانہ سے دوری ہوتی ہے خرابیاں اور بڑھتی جاتی ہیں جیسا کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ اس لئے حضرت نے پہلے ہی فرمادیا کہ قیامت تک اس نبوت کا ذبہ کا سلسلہ جاری رہے گا اور اس کے ساتھ یہ بھی ارشاد فرما دیا کہ جو لوگ نبوت کا دعویٰ کریں گے فی الحقیقت وہ دجال جھوٹے ہیں ،ان کو نبوت سے کوئی تعلق نہیں، جیسا کہ بخاری شریف کی اس روایت سے ظاہر ہے: عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ ﷺلا تقوم الساعۃ حتی یبعث دجالون کذابون قریب من ثلاثین کلھم یز عم انہ رسول اللہ۔

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تیس (30) کے قریب جھوٹے،دجال پیدا ہوں گے ، وہ تمام کے تمام اللہ کے رسول ہونے کا دعوی کریںگے ۔(بخاری)

اس سے ظاہر ہے کہ اُن تیس دجالوں کے امتی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی نہیں ہوسکتے کیونکہ دجالوں کا امتی ہونا قرین قیاس نہیں پھر جب نبی ان کے حضرتؐ کے امتی نہ ہوں تو اُن کے امتی حضرتؐ کے امتی کیونکر ہوسکیں؟۔

غرض جو مذہب نیا نکلتا ہے اس میں داخل ہونے کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتیوں کو اتنا تو پیش نظر رکھنا چاہیے کہ بہتر مذہب سے خارج نہ ہوں جن پر حضرتؐ کے امتی ہونیکا اطلاق کیا گیا ہے کیونکہ یہ مذاہب گو ناریہ (جہنمی) ہوں مگر مخلدفی النار نہیں (ہمیشہ جہنم میں نہیں رہیںگے)ا ور جو اُن سے بھی خارج ہواس میںداخل ہونا تو ابدالآباد کے لئے اپنی تباہی اور ہلاکت کا سامان کرنا ہے۔

اس کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی کہ جب کوئی نیا مذہب نکلتا ہے تو لوگ اسکی طرف فقط مائل ہی نہیں بلکہ صدق دل سے اس کے گرویدہ ہوجاتے ہیں۔مسیلمہ کذاب نے جب نبوت کا دعویٰ کیا تو تھوڑی مدت میں ایک لاکھ سے زیادہ آدمی فراہم ہوگئے۔اور اس خوش اعتقادی کے ساتھ کہ جان دینے پر مستعد ،چنانچہ لڑائیوں میں بہت سے مارے بھی گئے، حالانکہ سوائے طلاقت لسانی (چرب زـبانی)کے جو کچھ فقرے گھڑلیتا تھا کوئی دلیل نبوت کی اس کے نزدیک نہ تھی بلکہ معجزے کی غرض سے جو کچھ کرتا اس کا خلاف ظہور میں آتا، مگر وہ کورباطن (ناسمجھ)اُسی کا کلمہ پڑھتے اور باوجودیکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہزارہا معجزات اظہر من الشمس تھے۔مگر ان کے اعتقادوں کو کوئی جنبش نہ ہوتی۔اسی طرح اب تک یہی کیفیت دیکھی جاتی ہے کہ نئی بات نئے مذہب کی طرف طبیعتیں بہت مائل ہیں۔چنانچہ فی زماننا بھی ایک نیا مذہب نکلا ہے جس کو مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے ایجاد کیا ہے اور لوگ اُس کی طرف مائل ہوئے جاتے ہیں۔

ایک زمانہ تک مرزاصاحب کی نسبت مختلف افواہیں سنی گئیں: کوئی کہتا تھا کہ ان کو مجددیت کا دعویٰ ہے، کوئی کہتا تھا کہ مہدویت کا بھی دعویٰ ہے ، کوئی کہتا تھا عیسیٰ موعود بھی اپنے آپ کو کہتے ہیں۔ان پر یشان خبروں سے طبیعت کو کسی قدرپریشانی تو تھی مگر اس وجہ سے کہ آخری زمانے کا مقتضی یہی ہے کہ اس قسم کی نئی نئی باتیں پیداہوں طبیعت اس کی تحقیق کی طرف مائل نہ تھی؛ یہاں تک کہ ایک شخص نے بطور ابلاغ پیام ایک اشتہار مجھ کو دکھلایا جس میں اُن کو نہ ماننے والوں کی تکفیر تک تھی، اس وقت یہ خیال پیدا ہواکہ آخر اس مذہب کی حقیقت کیا ہے ،اُن کی کسی کتاب سے معلوم کرنا چاہئیے۔چنانچہ تلاش کرنے سے مرزاصاحب کی تصنیف ’’ازالۃ الاوہام‘‘ ملی اور سرسری طور پر اُس کو دیکھا مگر مرزاصاحب کے فحوائے کلام (گفتگو کا انداز) سے معلوم ہواکہ جب تک یہ کتاب پوری نہ دیکھی جائے ان کے مذہب کی حقیقت اور اُن کا مقصود معلوم نہ ہوگا۔ اس لئے اول سے آخرتک اُس کو دیکھا ،اُس سے کئی باتیں معلوم ہوئیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ مرزاصاحب بڑے عالی خاندان شخص ہیں۔

مرزا صاحب کے ابتدائی حالات
مختصر حال اُن کے خاندان کا یہ ہے کہ اُن کے جداعلیٰ بابربادشاہ کے وقت جو چغتائی سلطنت کا مورث اعلیٰ تھا سمرقند سے ایک جماعت کثیرہ لیکر دہلی آئے اور بہت سے دیہات بطور جاگیر اُن کو دئے گئے، آپ نے وہاں بہت بڑا قلعہ تیارکیا اور ایک ہزار فوج سوار اور پیادے کے ساتھ وہاں رہتے تھے۔جب چغتائی سلطنت کمزور ہوئی آپ نے ایک ملک پر قبضہ کرلیا اور توپخانہ وغیرہ فراہم کرکے بطور طوائف الملوک مستقل رئیس ہوگئے۔مرزاگل محمد صاحب جو مرزاصاحب کے پرداداہیں انہوں نے سکھوں سے بڑے بڑے مقابلے کئے اور تن تنہا ہزار ہزار سکھوں کے مقابلہ میں کامیاب ہوئے مگر مسلمانوں کی بدقسمتی تھی کہ باوجودیکہ انہوں نے بہت کچھ کوششیں کیں کہ ایک وسیع ملک فتح کرکے اُس کو دارالاسلام بنادیں مگر نہ ہوسکا۔

پھر اُن کے فرزندمرزا عطا محمد صاحب کے عہد ریاست میں سوائے قادیان اور چنددیہات کے تمام ملک قبضے سے نکل گیا اور آخر سکھوں کے جبر وتعدی سے اپنا مستقر بھی اُن کو چھوڑنا پڑا کئی، روز کے بعد مرزا غلام مرتضیٰ صاحب مرزاصاحب کے والد دوبارہ قادیان میں جابسے اور گورنمنٹ برطانیہ کی جانب سے حصہ جدی سے قادیان اور تین گائوں ان کو ملے اور گورنری کے دربار میں اُن کی نہایت عزت تھی چنانچہ اُن کو کرسی ملتی تھی اور غدر میں پچاس گھوڑے اپنی ذات سے خرید کر کے اور اچھے اچھے سوار مہیا کرکے پچاس سوار سے گورنمنٹ کی مدد کی اور گورنمنٹ کے اعلی حکام بلکہ صاحبان ڈپٹی کمشنر اور کمشنر اُن کے مکان پر آتے تھے۔ پھر اُن تاریخی واقعات کو بیان کرکے مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ اس تمام تقریر سے ظاہر ہے کہ یہ خاندان ایک معززخاندان ہے، جو شاہان سلف کے زمانہ سے آج تک کیسی قدر عزت موجود رکھتا ہے۔

اس تقریر سے واضح ہے کہ مرزاصاحب ایک اولوالعزم شخص خاندان سلطنت سے ہیں۔اور صرف ایک ہی پشت گذری ہے جو یہ دولت ہاتھ سے جاتی رہی جس کی کمال درجہ کی حسرت ہونی ایک لازمہ بشری ہے چونکہ مقتضی فطانت ذاتی(ذاتی ہوشیاری ) کایہی تھا کہ مجد موثل(خاندانی مقام ومرتبہ) کی تجدید ہو،اس لئے ایک نئی سلطنت کی انہوں نے بنیاد ڈالی۔

یہ بات قابل تسلیم ہے کہ شاہی خاندان کے خیالات خصوصاً ایسی حالت میں کہ طبیعت بھی وقاد(بہت تیز) ہو اور ذہن کی رسائی بھی ضرورت سے زیادہ ہوکبھی گوارانہیں کرسکتی کہ آدمی حالت موجودہ پر قناعت کرے۔بخاری شریف میں مروی ہے کہ جب ہدایت نامہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہرقل بادشاہ روم کو پہونچا اُس نے ابوسفیان وغیرہ کو جو وہاں موجود تھے بلاکر حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بہت سے حالات دریافت کئے، منجملہ اُن کے ایک یہ بھی سوال تھا کہ آپ کے اجداد میں کوئی بادشاہ بھی گزراہے ؟انہوں نے کہا :نہیں ،تو اُس نے کہا: میں یقین کرتا ہوں کہ وہ نبی ہیں؛ کیوں کہ اگر اُن کے اجدادمیں کوئی بادشاہ ہوتا تو یہ خیال کیا جاتا کہ اسلاف کی زائل شدہ دولت کے وہ طالب ہیں۔ یہ روایت بخاری میں کئی جگہ مذکور ہے۔

’’ازالۃ الاوہام‘‘ جو ہزاروں صفحوں میں لکھی گئی ہے اس میں صرف ایک ہی بحث ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور یہ خدمت میرے اتباع خصوصاً اولاد میں ہمیشہ رہے گی اور کل مباحث اس میں صرف اسی دعویٰ کے تمہیدات ولوازم ورفع موانع میں ہیں۔ اس کتاب کے دیکھنے سے ظاہر ہے کہ مرزاصاحب کی پر زور طولانی تقریروں کا اثر بعض کمزور خوش اعتقادوں کی طبیعتوں پر ضرور پڑے گا۔اس لئے مناسب سمجھاگیا کہ چند مباحث جس پر مرزا صاحب کی عیسویت کا مدار ہے لکھی جائیں تاکہ اہل اسلام پر یہ منکشف ہوجائے کہ اس بات میں مرزاصاحب نہ صرف مسلمانوں سے بلکہ اسلام سے مخالفت کررہے ہیں۔
(جاری)

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button