قطب مینار کمپلیکس میں ہنومان چالیسا پڑھنے کی کوشش، چالیس افراد حراست میں

دہلی پولیس نے انہیں وہاں پہنچنے سے پہلے ہی حراست میں لے لیا اور بسوں میں بٹھا کر لے گئی۔ اس کے بعد قطب مینار کمپلیکس میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی اور وہاں سکیورٹی سخت کر دی گئی۔

نئی دہلی: ہندو وادی تنظیموں کی منگل کو دہلی میں واقع قطب مینار کمپلیکس میں ہنومان چالیسا پڑھنے کی اپیل پر وہاں جا رہے تقریباً تیس چالیس لوگوں کو پولیس نے روک کر حراست میں لے لیا۔

مظاہرین ہاتھوں میں بینرز لے کر ہندو اور جین مورتیوں کی پوجا کرنے کی اجازت مانگ رہے تھے۔

تیس سے چالیس افراد کے ایک گروپ نے آج قطب مینار کمپلیکس کی طرف مارچ کیا۔ دہلی پولیس نے انہیں وہاں پہنچنے سے پہلے ہی حراست میں لے لیا اور بسوں میں بٹھا کر لے گئی۔ اس کے بعد قطب مینار کمپلیکس میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی اور وہاں سکیورٹی سخت کر دی گئی۔

یونائیٹڈ ہندو فرنٹ کی اپیل پر ہندو وادی تنظیمیں قطب مینار کمپلیکس میں واقع مسجد قوۃ الاسلام میں پوجا کرنے کی اجازت دینے کی مانگ کررہی ہیں۔ مظاہرین ہاتھوں میں بینرز لے کر ہندو اور جین مورتیوں کی پوجا کرنے کی اجازت مانگ رہے تھے۔

مظاہرین نے کچھ پوسٹر اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ قطب مینار دراصل وشنو استمبھ تھا۔

قطب مینار اینٹ سے بنی دنیا کی سب سے اونچی مینار ہے، اس کی اونچائی 72.5 میٹر ہے۔ دہلی کے محکمہ سیاحت کی ویب سائٹ کے مطابق قطب مینار کو قطب الدین ایبک نے 1193 میں دہلی کی آخری ہندو سلطنت کو شکست دینے کے بعد بنوایا تھا۔

قطب مینار کمپلیکس میں قوۃ الاسلام (اسلام کی روشنی) مسجد 1193 اور 1197 میں تعمیر کی گئی تھی۔

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button