لاؤڈ اسپیکر تنازعہ، زمینی سطح پر کام کیاجارہا ہے: چیف منسٹر بومئی

بومئی نے کہاکہ عدالتوں نے ہم (حکومت) سے سوال کیا ہے کہ ان کے احکامات پر عمل کیوں نہیں کیا گیا۔انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے کہا کہ ہم اسے مرحلہ وار کریں گے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس پر سب کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔

بنگلورو: کرناٹک کے چیف منسٹر بسواراج بومئی نے منگل کو مساجد سے لاؤڈ اسپیکر کی آواز کو روکنے کیلئے طاقت کا استعمال کرنے سے انکار کردیا۔ تاہم انہوں نے سب کو اعتماد میں لے کر مسئلہ حل کرنے پر اصرار کیا۔ بومئی نے نامہ نگاروں کو بتایاکہ ماضی میں مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے خلاف عدالتوں کی طرف سے کئی احکامات آئے ہیں۔

 عدالتوں نے ہم (حکومت) سے سوال کیا ہے کہ ان کے احکامات پر عمل کیوں نہیں کیا گیا۔انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے کہا کہ ہم اسے مرحلہ وار کریں گے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس پر سب کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔ اس میں طاقت کے استعمال کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے حل کیلئے زمینی سطح پر کام کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اس سلسلے میں کئی تنظیموں کے ساتھ میٹنگز کی ہیں۔ اس کا مناسب حل تلاش کرنے کے لیے ہم مستقبل میں بھی ایسی میٹنگز کا انعقاد جاری رکھیں گے۔ بومئی نے کہا کہ یہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے اور نہ ہی حکومت نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کوئی نیا حکم جاری کیا ہے۔

 عدالت اس معاملے پر پہلے ہی احکامات دے چکی ہے۔ حکومت قیام امن کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔  بومئی نے کہا کہ عدالت نے واضح طور پر مساجد سے لاؤڈ سپیکر بجانے کا معیار مقرر کیا ہے۔ عدالتوں نے لاؤڈ سپیکر کا ڈیسیبل لیول طے کر دیا ہے۔ اور ڈیسیبل میٹر خریدنے کا بھی حکم دیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ چیف منسٹر رام سینا اور دیگر ہندو تنظیموں کی طرف سے مساجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کے مطالبے سے متعلق سوالات کا جواب دے رہے تھے۔درحقیقت مہاراشٹر نونرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے کی طرز پر شری رام سینا نے مساجد سے لاؤڈ اسپیکر کے خلاف احتجاج میں صبح پانچ بجے بھجن اور اومکارہ گانے کی دھمکی دی تھی۔

اس سے پہلے ہفتے کے روزٹھاکرے نے مساجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا اور دھمکی دی تھی کہ اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں تو وہ مساجد کے باہر ہنومان چالیسہ بجائیں گے۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button