لاؤڈ اسپیکر پر اذاں، ممبئی میں 2 افراد کے خلاف مقدمات

ممبئی کے مغربی مضافاتی علاقوں باندرہ اور سانتاکروز میں پولیس نے صبح 6 بجے سے پہلے لاؤڈاسپیکر کے ذریعہ اذاں دینے کے الزام میں 2 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی ہے۔

ممبئی: ممبئی کے مغربی مضافاتی علاقوں باندرہ اور سانتاکروز میں پولیس نے صبح 6 بجے سے پہلے لاؤڈاسپیکر کے ذریعہ اذاں دینے کے الزام میں 2 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی ہے۔

پہلے کیس میں باندرہ پولیس اسٹیشن کے ایک آن ڈیوٹی کانسٹیبل نے شکایت کی کہ اسے جمعرات کے روز صبح 5:15 پر لاؤڈاسپیکر پر اذاں کی آواز سنائی دی۔

باندرہ (ویسٹ) میں بازار روڈ پر واقع نورانی مسجد سے یہ اذاں دی گئی تھی۔ کانسٹیبل نے کہا کہ مسجد کمیٹی کے ایک رکن ذاکر خان نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پولیس نے انہیں لاؤڈاسپیکرس کے ذریعہ اذاں دینے کے اوقات کے بارے میں پیشگی اطلاع دی تھی۔

28 سالہ انور شاہ کے خلاف تعزیرات ہند اور مہاراشٹرا پولیس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اُن پر سپریم کورٹ کے رہنمایانہ خطوط اور صوتی آلودگی قواعد 2000 کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔

دوسرے کیس میں سانتاکروز پولیس کے ایک سب انسپکٹر نے شکایت درج کرائی ہے، وہ ڈیوٹی انجام دے رہا تھا اور صبح 5:45 پر اسے لاؤڈاسپیکر کے ذریعہ اذاں دینے کی آواز سنائی دی، وہ فوری سانتاکروز (ویسٹ) میں لنکینگ روڈ پر مسلم قبرستان مسجد پہنچا۔

مسجد کمیٹی کے صدر عارف صدیقی نے 30 اپریل کو لاؤڈاسپیکر کے استعمال کی اجازت طلب کی تھی اور انہیں پیر کے روز صبح 6 تارات 10 بجے کے دوران لاؤڈاسپیکر کے استعمال کی اجازت دی گئی تھی۔

مسجد کے امام 30 سالہ شعیب شیخ کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے جنہوں نے لاؤڈاسپیکر کے ذریعہ اذاں دی تھی۔ ان کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 188 اور 34 کے علاوہ 131، 33 اور مہاراشٹرا پولیس ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت کیس درج کرلیا گیا ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button