لکھنو کا نام لکشمن پوری رکھے جانے کی قیاس آرائیاں

وزیراعظم نریندر مودی کے لکھنؤ میں استقبال کے لئے 16 مئی کو کئے گئے ٹوئٹ میں اسے ”لکشمن کا شہر“ قرار دیاگیاتھا جس پر ریاستی دارالحکومت کے نام کو تبدیل کرتے ہوئے لکشمن پوری رکھنے کی افواہیں گردش کرنے لگی ہیں۔

لکھنؤ: چیف منسٹر اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ کی جانب سے وزیراعظم نریندر مودی کے لکھنؤ میں استقبال کے لئے 16 مئی کو کئے گئے ٹوئٹ میں اسے ”لکشمن کا شہر“ قرار دیاگیاتھا جس پر ریاستی دارالحکومت کے نام کو تبدیل کرتے ہوئے لکشمن پوری رکھنے کی افواہیں گردش کرنے لگی ہیں۔

یوگی نے اپنی اور گورنر آنندی بین پٹیل کی مودی کے ساتھ تصویر ٹوئٹ کرتے ہوئے نیچے لکھا تھا ”شیش اوتار بھگوان شری لکشمن جی کی پاون نگری لکھنؤ میں آپ کا سواگت اور ابھینندن ہے“۔

باضابطہ طور پر لکھنؤ کے نام کی تبدیلی کی کوئی تجویز نہیں تاہم لکھنؤ میونسپل کارپوریشن کے میئر نے تین دن پہلے دریائے گومتی کے کنارے لکشمن کا 151 فیٹ بلند مجسمہ نصب کرنے کی بات کی تھی۔

میئر سمیوکت بھاٹیہ اور بی جے پی قائدین کا کہنا ہے کہ لکشمن کے ساتھ لکھنؤ کے قدیم تعلق کو دوبارہ قائم کیا جانا چاہئے۔ آنجہانی بی جے پی لیڈر لال جی ٹنڈن نے 2018 میں ایک کتاب ”ان کہا لکھنؤ“ تحریر کی تھی جس میں انہوں نے افسوس ظاہر کیا تھا کہ بھگوان رام کے بھائی کے ساتھ لکھنو کا تعلق ٹوٹ چکا ہے۔

اس کتاب کے بعد سے لکھنو کا نام تبدیل کرنے کی قیاس آرائیاں شروع ہوگئی تھی۔ لال جی ٹنڈن نے مزید لکھا تھا کہ اب اس شہر کا تعلق صرف تاریخی ٹیلہ کے ساتھ رہ گیا ہے جس پر اورنگ زیب کے دور حکومت میں مغل گورنر نے ٹیلہ والی مسجد تعمیر کروائی تھی۔

اس کتاب کی اشاعت کے بعد نگرنگم کے بی جے پی کارپوریٹرس نے ٹیلہ والی مسجد کے قریب لکشمن کا مجسمہ تعمیر کرنے کی تجویز پیش کی تھی‘ اس کے فوری بعد بزرگ بی جے پی قائد کل راج مشرا اور راجستھان کے موجودہ گورنر نے کہا ہے کہ اگرتمام لوگ اتفاق کریں تو لکھنؤ کا نام بدل کر لکشمن پوری رکھنے میں کوئی ہرج نہیں ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button