مارکیٹ میں پیسے کا بہاؤ اس سال سے آہستہ آہستہ کم ہو جائے گا: آر بی آئی گورنر شکتی کانت داس

داس نے بتایاکہ ریزرو بینک کے پاس تمام پالیسی تیار ہیں۔ جس چیز کی ضرورت ہوگی جب ضرورت ہوگی استعمال کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت معاشی سرگرمیاں بمشکل پری کووڈ کی سطح پر پہنچی ہیں لیکن ان میں بہتری نظر آرہی ہے۔

ممبئی، 8 اپریل (یو این آئی) آر بی آئی کے گورنر شکتی کانت داس نے جمعہ کو کہا کہ مرکزی بینک اس سال سے بینکنگ سسٹم میں فنڈز کی اضافی آمد کو بتدریج کم کرے گا اور یہ عمل کئی سالوں میں مکمل ہو جائے گا۔ ایک اندازے کے مطابق کووڈ وبا کے دوران معیشت کو سنبھالنے کے لیے قرض کی سہولیات میں اضافے کے اقدامات کی وجہ سے اس وقت مارکیٹ میں نقدی کا بہاؤ ضرورت سے تقریباً 8.5 لاکھ کروڑ روپے زیادہ ہے۔

داس نے یہاں مانیٹری پالیسی کے دو ماہانہ جائزے کے نتائج کا اعلان کیا، پالیسی کی شرحوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی لیکن بینکوں کے لیے 3.75 فیصد کی شرح سود پر اضافی نقد رقم جمع کرنے کے لیے ایک مستقل سہولت (ایس ڈی ایف) متعارف کرائی گئی۔ مرکزی بینک نے لیکویڈیٹی ایڈجسٹمنٹ سہولت کی راہداری کو بحال کر دیا ہے اور کیش کی مارجنل اسٹینڈنگ فیسیلٹی (ایس ایس ایف) پر شرح سود کو 4.25 فیصد پر رکھا ہے۔

 بعد میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے داس نے بتایاکہ ’’ریزرو بینک کے پاس تمام پالیسی تیار ہیں۔ جس چیز کی ضرورت ہوگی جب ضرورت ہوگی استعمال کی جائے گی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس وقت معاشی سرگرمیاں بمشکل پری کوویڈ کی سطح پر پہنچی ہیں لیکن ان میں بہتری نظر آرہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی بینک کئی سالوں میں بتدریج 8.5 لاکھ کروڑ روپے کی ضرورت سے زیادہ نقد رقم نکالنے کے لیے کام کرے گا جو فی الحال بینکنگ سسٹم میں بہاؤ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل اس سال سے شروع کیا جائے گا اور اس میں دو سے تین سال لگ سکتے ہیں۔ اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حالات آگے کیسے ہیں۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button