متنازعہ زرعی قوانین کی تنسیخ بل پر اپوزیشن کی مشترکہ حکمت عملی

۔ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سے قبل 11 اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈر راجیہ سبھا میں قائد اپوزیشن ملک ارجن کھرگے کے اجلاس میں ملاقات کیے، تاہم ترنمول کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے لیڈر موجود نہیں تھے۔

نئی دہلی: کئی اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈر نے آج پارلیمنٹ ہاؤز کامپلکس میں ملاقات کی اور متنازعہ تین زرعی قوانین کو منسوخ کرنے اور کسانوں کے لیے اقل ترین رعایتی قیمت کو قانونی حیثیت دینے کے لیے قانون مدوّن کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے ایک مشترکہ حکمت عملی پر گفتگو کی۔ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سے قبل 11 اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈر راجیہ سبھا میں قائد اپوزیشن ملک ارجن کھرگے کے اجلاس میں ملاقات کیے، تاہم ترنمول کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے لیڈر موجود نہیں تھے۔ انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ وہ اس ملاقات میں شرکت نہیں کریں گے۔

 شرکت کرنے والے لیڈروں میں کانگریس، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی)، دراویڈا منیترا کازگم (ڈی ایم کے)، راشٹریہ جنتا دل، انڈین یونین مسلم لیگ، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا و سی پی آئی۔ ایم، آر ایس پی، لوک تانترک جنتا دل، نیشنل کانفرنس (این سی) اور ایم ڈی ایم کے کے لیڈر شامل تھے۔ چند اپوزیشن لیڈروں نے دہلی کی سرحد پر ایک سال سے زیادہ طویل عرصہ کے احتجاج کے دوران مہلوک 700 سے زیادہ کسانوں کے خاندانوں کو معاوضہ ادا کرنے پر دباؤ ڈالنے کے لیے مطالبہ کرنے کی تجویز پیش کی۔

اجلاس میں ملک ارجن کھرگے ادھیر رنجن چودھری، مانکم ٹیگور، کے سریش، گورو گوگوئی (کانگریس رکن)، ڈی ایم کے کے تروچی سیوا اور ٹی آر بالو، آر جے ڈی کے منوج جھا، این سی پی قائدین وندنا چاوان، فوزیہ اور سوپریا سولے، سی پی آئی ایم کے ایلامارم کریم اور سی پی آئی کے بنوئے وشیم، آئی ایم یو ایل ایل کے محمد بشیر اور عبدالوہاب، لوک جنتا دل کے ایم وی شریوم کمار ایم ڈی ایم کے کے وائیکو، نیشنل کانفرنس کے حسنین مسعودی اور آر ایس پی کے لیڈر این کے پریم چندرن نے شرکت کی۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button