متھرا میں سڑک کنارے مزارات کو منہدم کیا جائے

اکھل بھارت ہندو مہا سبھا نے متھرا میں سڑک کنارے واقع تمام مزارات کو منہدم کردینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس تنظیم کے ایک سینئر عہدیدار نے یہ بات بتائی۔

نئی دہلی: اکھل بھارت ہندو مہا سبھا نے متھرا میں سڑک کنارے واقع تمام مزارات کو منہدم کردینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس تنظیم کے ایک سینئر عہدیدار نے یہ بات بتائی۔ مہا سبھا کے قومی خازن دنیش شرما نے کہا کہ اس ضمن میں ضلع مجسٹریٹ کو ایک یادداشت پیش کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان مزاروں کی وجہ سے حادثات ہورہے ہیں کیونکہ ان میں سے بیشتر سڑک کنارے واقع ہیں۔ انہوں نے اسے ناجائز قبضہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ چیف منسٹر یوپی کے احکام کے مطابق ہر غیرقانونی تعمیر کو منہدم کردیا جانا چاہیے۔ یادداشت میں الزام عائد کیا گیا کہ ان مزاروں پر عملیات وغیرہ کے ذریعہ بھولے بھالے ہندوؤں کو دھوکہ دیا جارہا ہے۔

ضلع انتظامیہ سے درخواست کی گئی ہے کہ اس ضمن میں تیزی سے کارروائی کرے۔ اسی دوران سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز جمعیۃ علمائے ہند کی ایک درخواست کی سماعت 29 جون تک ملتوی کردی جس کے ذریعہ اترپردیش کے حکام کو یہ ہدایت دینے کی گزارش کی گئی تھی کہ ریاست میں قانونی عمل کی تکمیل کے بغیر مزید کوئی انہدامی کارروائی نہ کی جائے۔

جسٹس سی ٹی روی کمار اور جسٹس سدھانشو دھولیہ پر مشتمل تعطیلاتی بنچ نے سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن کے ذریعہ داخل کی گئی درخواست کی سماعت ملتوی کردی۔ حکومت ِ اترپردیش نے سپریم کورٹ کو مطلع کیا ہے کہ ریاست میں حالیہ انہدامی کارروائیاں مکمل قانونی عمل کی تکمیل کی بعد ہی کی گئی تھیں اور ان کا کوئی تعلق فساد ملزمین کے خلاف کارروائی سے نہیں ہے۔

حکومت نے درخواست گزار (جمعیۃ ِ علمائے ہند) پر الزام عائد کیا کہ اس نے پریاگ راج کے جاوید محمد کے کیس کو مثال بنایا ہے جبکہ اس معاملہ میں قانونی کارروائی فسادات رونما ہونے سے بہت پہلے شروع کردی گئی تھی۔

سپریم کورٹ نے گزشتہ ہفتہ داخل کردہ جمعیۃ علمائے ہند کی درخواستوں پر حکومت ِ اترپردیش سے جواب مانگا ہے اور ضلع انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ مبینہ غیرمجاز ڈھانچوں کے خلاف کارروائی کرنے سے قبل قانونی عمل کی تکمیل کرے۔

تبصرہ کریں

Back to top button