محاوروں کی دنیا

محمد اسد اللہ

محاوروں کی دنیا عجیب و غریب ہے،ہمارے شاعروں کی طرح جنھیں کہنا کچھ ہو تا ہے اور کہتے کچھ ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجئے،اس سوال میں وہ طلبا بری طرح فیل ہو تے ہیں جو عید کے چاند کو واقعی عید کا چاند سمجھتے ہیں ۔جب انھیں اس محاورے کا صحیح مفہوم معلو م ہوتا ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو کبھی کبھار یا ایک مدّت بعد دکھائی دے تو بیچارے حیران ہو کر اپنا سر اتنی دیر تک کھجاتے ہیں، کہ عیدکا چاند دکھائی دے جائے ۔
اسی قسم کا ایک اور محاورہ ہے ،سر آ نکھوں پر، اس کے معنی ہیں دل و جان سے یا بڑی خوشی سے۔اسی طرح سر آ نکھوں پر بٹھانا ،یہ محاورہ کسی کی آ ﺅ بھگت کرنے استعمال کیا جاتا ہے ۔اس محاورہ میں نہ سر سے سروکار ہے نہ آ نکھوں سے ۔ اگر کو ئی شخص یہ خوش خبری سنائے کہ وہ مہمان بن کر آ پ کے گھر آ رہا ہے تو بظاہر یہ کہنے کا رواج ہے۔ ضرور تشریف لا ئیے ،آپ کی آمد سر آ نکھوں پر یہ اور بات کہ آپ کا دل اندر ہی اندر درج ذیل تراکیب کا ورد کر رہا ہو گا ۔برے پھنسے،ہو گیا ستّیاناس ،گئے کام سے ،آ گئی شامت،بن گیا گھر والوں کا کچومر ،اب تو ہو گئے دیوالیہ ،یہ مصیبت میرے ہی گلے پڑنی تھی، جل تو جلال تو آ ئی بلا کو ٹال تو وغیرہ وغیرہ ۔ پھر آ پ کا ذہن اس بن بلا ئے مہمان سے بچنے کی تراکیب سوچنے لگے گا ۔
کل ہی کی بات لیجئے ،ہمارے دوست نقیب مجتبیٰ نے جب یہ خبر ہمیں سنائی کہ کو ئی صاحب آپ سے ملنے کے لیے آ رہے ہیں تو ہم نے کہا ،خوش آ مدید ،ان کا آ نا سر آ نکھوں پر ۔یہ سن کر انھوں نے یہ فقرہ چست کیا ، مگر وہ بیٹھیں گے کسی ایک ہی پر ۔
اب ہم انھیں کیسے سمجھائیں کہ وہ صاحب ہمارے کرایہ دار ہیں ہمارے گھر کی بالائی منزل پر (یعنی ہمارے سر پر ) کرائے سے رہتے ہیں ۔ اور ہم ہر ماہ کرایہ کے انتظار میں ان کی راہوں میں آنکھیں بچھائے رہتے ہیں۔سر آنکھوںپر ،کا ایک مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آ نے والے صاحب یا تو سر ہو کر رہیں گے یاآ نکھوں کی ٹھنڈک بنیں گے ۔
کسی کو آ نکھو ں پر بٹھانے یا اس کے راستے میں آنکھیں بچھانے کا خیال خالص شاعرانہ ہے۔ دیگر محاوروں کی طرح اسے بھی عملی شکل دینے کی کوشش کی گئی ،تو سارا مزہ کر کرا ہو جائے گا۔محاورے تو بس زبان کا چٹخارہ ہیں، مزہ لینے کے لیے ۔یہ صابن کے جھاگ سے بنے بلبوں کی طرح ہیں، اک ذرا چھوا اور غائب ۔ عام طور پر شادی کے دعوت ناموں پر یہ شعر لکھا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
اے بادِ صبا کچھ تو نے سنا مہمان جو آ نے والے ہیں
کلیاں نہ بچھانا راہوں میں ہم پلکیں بچھانے والے ہیں
کسی کو دیکھ کر مارے حیرت کے آنکھیں کتنی ہی کیوں نہ پھیل جائیں وہ اس قدر وسیع نہیں ہو سکتیں کہ ان پر کو ئی تشریف فرما ہو سکے ۔ سر آ نکھوں پر اس محاورہ کو عملی نقطہ نظر سے دیکھیں تو خالقِ حقیقی نے یہ کام پہلے ہی کر رکھا ہے ۔اس سے ظاہر ہے کہ سر کا مرتبہ آ نکھوں سے بلند ہے ۔آنکھیں دھوکہ کھا سکتی ہیں مگر عقل جس کا ٹھکانہ سر ہے، اس دھوکے کو بھانپ لیتی ہے اور اپنے بچاﺅ کا راستہ نکال لیتی ہے ۔
سر کی جگہ اگر آنکھیں ہو اکرتیں تو ہم دن میں آ سمان بادل پرندے اور دھنک دیکھا کرتے،رات میں ستارے گنتے ۔کسی سے ٹکراجانے کی صورت میں اگر وہ یہ کہتا( یا کہتی) کہ اندھے ہو کیا تو جواب میں کہ جا سکتا تھا کہ ہماری آ نکھیں تو سر پر ہیں تمہیں دکھائی نہیں دیتا؟ٹکرائیں گے نہیں تو اور کیا کریں گے ۔ اسی ٹکراﺅ کو ٹالنے کے لیے شاید قدرت نے آ نکھوں کو انسان کے سر پر نہیں بٹھایا۔
زندگی ایک سفر ہے اور انسان ٹھہرا مسافر۔ اسی لیے خدا نے آنکھیں ہمارے سر پر اس انداز سے فٹ کی ہیں کہ ہم منزلوں پر نظر جمائیں ،راستے کی اونچ نیچ پر نظر رکھیں اور چلتے رہیں۔آنکھیں سر کے پیچھے اس لیے نہیں لگائیں کہ جو گزر گیا اس کا ماتم فضول ہے۔ہرو قت اپنے ماضی میں کھوئے رہنا کو ئی اچّھی بات نہیں ہے ۔ گاہے بگاہے پیچھے مڑ کر دیکھ لینا مفید ثابت ہو سکتا ہے ۔اسی لیے گردن میں مڑنے کی صلاحیت رکھ دی گئی ہے ۔سر تسلیم خم کر دینا یعنی اپنے پورے وجود کو جھکا دینا ہے ۔سر جو پورے جسم کا کنٹرول روم ہے جھک جائے تو یہ بہت بڑی بات ہے۔ ہمارے سر کو جو بلند مرتبہ عطا کیا گیا ہے، اس کے پیشِ نظر اس کے لیے یہی مناسب ہے کہ وہ جھکے تو بس اپنے بنانے والے کے آ گے ۔ہر کس و ناکس کے آگے ماتھا ٹیکنے والے یوں بھی سب کی نظروں سے گر جاتے ہیں ،اسی لیے آن بان سے جینے والے خدا کے سوا کسی کے آ گے سر جھکانے کے بجائے اسے کٹانا پسند کرتے ہیں ۔ سر واقعی ہے ہی ایسی چیز!

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button