مدھیہ پردیش میں حجاب پر امتناع کی کوئی تجویز نہیں :اندرسنگھ پرمار

ریاستی وزیر تعلیم اندرسنگھ پرمار نے جنہوں نے حجاب پر امتناع کی تائید کی تھی اور اسکولوں میں ڈریس کوڈ تجویز کیا تھا‘ کہا کہ ان کے بیان کی غلط تشریح کی گئی ہے۔ مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ نروتم مشرا نے جو ریاستی حکومت کے ترجمان بھی ہیں‘ اخباری نمائندوں سے کہا کہ مدھیہ پردیش میں حجاب پر کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ حجاب پر امتناع کے تعلق سے کوئی تجویز ریاستی حکومت کے زیرغور نہیں ہے لہٰذا اس سلسلہ میں کوئی الجھن نہیں ہونی چاہئے۔ کرناٹک میں حجاب کی تائید اور مخالفت میں مظاہروں کے بارے میں پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ کرناٹک کا ہے جو وہاں کی ہائی کورٹ میں زیرالتوا ہے۔ کرناٹک کے بعض علاقوں میں کیمپس بے چینی پر بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری کیلاش وجئے ورگیہ نے جو اندور سے تعلق رکھتے ہیں‘ چہارشنبہ کے دن کہا کہ اسکول گیان حاصل کرنے کی جگہ ہیں‘ مذہبی جنون پھیلانے کے لئے نہیں ہیں۔ کرناٹک کے اسکولوں میں حجاب پر زور دے کر مذہبی ہسٹیریا پھیلانے کی کوشش مناسب نہیں ہے۔ اسکول کا اپنا ڈریس کوڈ ہوتا ہے جس پر سختی سے عمل کرنا چاہئے۔ اسی دوران اندرسنگھ پرمار نے ایک ویڈیو پیام جاری کیا کہ اسکولوں میں یونیفارم کے تعلق سے ان کے ریمارکس یکسانیت‘ ڈسپلن اور اسکولوں کی پہچان کے تعلق سے ہیں۔ ایک دن قبل انہوں نے کہا تھا کہ حجاب چونکہ یونیفارم کا حصہ نہیں ہے‘ میرے خیال میں اسے ممنوع قراردینا چاہئے۔ چہارشنبہ کے دن انہوں نے کہا کہ میرے ریمارکس کی بعض لوگوں نے غلط تشریح کی ہے۔ میں اس کی تردید کرتا ہوں۔ ہم نیا یونیفارم کوڈ لاگو کرنے والے نہیں ہیں۔ اس سمت کوئی کام نہیں ہورہا ہے۔ اسکولوں میں یونیفارم کا موجودہ نظام برقرار رہے گا۔ بھوپال (سنٹرل) کے کانگریس رکن اسمبلی عارف مسعود نے کہا تھا کہ وہ مدھیہ پردیش میں حجاب پر امتناع کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کریں گے۔

بھوپال۔ مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت نے چہارشنبہ کے دن کہا کہ ریاست کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر امتناع کی کوئی تجویز زیرغور نہیں ہے۔

ریاستی وزیر تعلیم اندرسنگھ پرمار نے جنہوں نے حجاب پر امتناع کی تائید کی تھی اور اسکولوں میں ڈریس کوڈ تجویز کیا تھا‘ کہا کہ ان کے بیان کی غلط تشریح کی گئی ہے۔

مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ نروتم مشرا نے جو ریاستی حکومت کے ترجمان بھی ہیں‘ اخباری نمائندوں سے کہا کہ مدھیہ پردیش میں حجاب پر کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ حجاب پر امتناع کے تعلق سے کوئی تجویز ریاستی حکومت کے زیرغور نہیں ہے لہٰذا اس سلسلہ میں کوئی الجھن نہیں ہونی چاہئے۔

 کرناٹک میں حجاب کی تائید اور مخالفت میں مظاہروں کے بارے میں پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ کرناٹک کا ہے جو وہاں کی ہائی کورٹ میں زیرالتوا ہے۔ کرناٹک کے بعض علاقوں میں کیمپس بے چینی پر بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری کیلاش وجئے ورگیہ نے جو اندور سے تعلق رکھتے ہیں‘ چہارشنبہ کے دن کہا کہ اسکول گیان حاصل کرنے کی جگہ ہیں‘ مذہبی جنون پھیلانے کے لئے نہیں ہیں۔

کرناٹک کے اسکولوں میں حجاب پر زور دے کر مذہبی ہسٹیریا پھیلانے کی کوشش مناسب نہیں ہے۔ اسکول کا اپنا ڈریس کوڈ ہوتا ہے جس پر سختی سے عمل کرنا چاہئے۔ اسی دوران اندرسنگھ پرمار نے ایک ویڈیو پیام جاری کیا کہ اسکولوں میں یونیفارم کے تعلق سے ان کے ریمارکس یکسانیت‘ ڈسپلن اور اسکولوں کی پہچان کے تعلق سے ہیں۔

 ایک دن قبل انہوں نے کہا تھا کہ حجاب چونکہ یونیفارم کا حصہ نہیں ہے‘ میرے خیال میں اسے ممنوع قراردینا چاہئے۔ چہارشنبہ کے دن انہوں نے کہا کہ میرے ریمارکس کی بعض لوگوں نے غلط تشریح کی ہے۔ میں اس کی تردید کرتا ہوں۔ ہم نیا یونیفارم کوڈ لاگو کرنے والے نہیں ہیں۔ اس سمت کوئی کام نہیں ہورہا ہے۔ اسکولوں میں یونیفارم کا موجودہ نظام برقرار رہے گا۔ بھوپال (سنٹرل) کے کانگریس رکن اسمبلی عارف مسعود نے کہا تھا کہ وہ مدھیہ پردیش میں حجاب پر امتناع کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کریں گے۔

تبصرہ کریں

Back to top button