مسلمانان ہند کی آزمائش کا آغاز ہوا چاہتا ہے

باطل پر قائم لوگ اس وقت تک حق سے ٹکرانے سے گریز کرتے ہیں اور گناہوں اور برائیوں میں ہی مگن رہتے ہیں جب تک کہ انہیں یہ نہ لگنے لگے کہ حق ان کے لئےخطرہ ثابت ہونے لگا ہے۔ یہ دور حق پر قائم لوگوں کے لئے بڑا ہی آزمائشی ہوتا ہے۔

اطہر معین

باطل پر قائم لوگ اس وقت تک حق سے ٹکرانے سے گریز کرتے ہیں اور گناہوں اور برائیوں میں ہی مگن رہتے ہیں جب تک کہ انہیں یہ نہ لگنے لگے کہ حق ان کے لئےخطرہ ثابت ہونے لگا ہے۔ یہ دور حق پر قائم لوگوں کے لئے بڑا ہی آزمائشی ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا مرحلہ ہوتا ہے جس میں حق پر قائم سمجھے جانے والوں کے ثبات کا خالق کائنات امتحان لیتا ہے اور ان لوگوں کی چھٹائی ہوجاتی ہے جو آزمائش کے مرحلہ سے گزرے بغیر ہی داخل جنت ہونے کی خوش فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں۔

مسلمانان ہند بھی اب اس مرحلہ میں داخل ہوچکے ہیں اور اب انہیں ایک نہیں بہت سی آزمائشوں سے گزرتے ہوئے ایمان پر اپنے ثبات کا عملی مظاہرہ کرنا ہوگا اور انہیں بڑی بڑی قربانیاں دیتے ہوئے اپنے ایمان کو بچانا ہوگا اور ساتھ ہی اپنوں میں چھپے منافقین کی شناخت کرنی ہوگی اور ان کے حربوں کا سدباب بھی کرنا ہوگا۔ یہ مرحلہ ایسا ہوتا ہے جس میں حق پر قائم لوگ ثابت قدم رہتے ہیں تو باطل کی شکست یقینی ہوتی ہے۔

دور حاضر کے مسلمانان ہند کو اپنے رب کا شکر بجا لانا چاہئے کہ اللہ رب العزت کو ان کی آزمائش مقصود ہے چونکہ اللہ رب العزت کی یہ سنت رہی ہے کہ وہ اپنے محبوب بندوں کو ہی آزمائش میں مبتلا کرتا ہے ۔ اللہ کی اس آزمائش سے ملائکہ اور ابلیس کو یہ جتانا بھی مقصود ہوتا ہے کہ انسان کو اپنا نائب یوں ہی نہیں بنایا ہے بلکہ انسان اپنے رب کی رضا کے لئے اپنی خواہشوں کو نہ صرف ترک کرتا ہے بلکہ اس کے لئے وہ مصائب بھی جھیل جاتا ہے۔ خالق کائنات کا یہ بڑا ہی فضل رہا ہے کہ وطن عزیز میں بسنے والے مسلمانوں میں دین داری کا عنصر بڑھا ہے۔

ایک طویل عرصہ تک بھارتی مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ روایتی اسلام پر کاربند تھا اور ایک مخصوص طبقہ ہی تقویٰ و پرہیزگاری اختیار کئے ہوئے تھا۔ عام مسلمانوں خاص کر دیہی مسلمانوں میں احکام اسلام کا نہ ہی ادراک تھا اور نہ ہی وہ دین کے احکام سے بخوبی واقف تھے مگر آج مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ نہ صرف احکام شریعت سے بخوبی واقف ہے بلکہ ان پرعمل پیرا بھی ہے۔ آج نہ صرف ملک میں مساجد کی تعداد بڑھی ہے بلکہ ان میں صلوٰۃ ادا کرنے والوں کی بھی تعداد بڑھی ہے۔ ایک وقت ایسا بھی تھا کہ دیہاتوں اور قریوں میں مساجد ویران رہا کرتی تھیں بلکہ امام و موذن تک نہیں ہوا کرتے تھے ۔ پورے گاؤں میں چند بزرگ اصحاب ہی مساجد آیا کرتے تھے۔

مسلم خواتین اگر برقع استعمال کرتی تھیں تو وہ لاشعوری میں ایسا کرتی تھیں مگر وہ حجاب کے شرعی اصولوں سے واقف نہیں تھیں۔ شہروں کا یہ حال تھا کہ مسلمانوں کا خوش حال طبقہ سماجی رتبہ کی خاطر احکام اسلام پر چلنے کو دقیانوسیت سمجھتا تھا۔ اللہ کا بڑا شکر ہے کہ مسلمانان ہند میں دینی شعور جاگا اور یہی ایک اہم سبب ہے کہ اب مسلمان دوسروں کی نظر میں کھٹکنے لگے ہیں چونکہ اسلام پر عمل پیرا ہونے کے اثرات معاشرہ میں محسوس ہونے لگے ہیں اور ایک عام آدمی جو دین اسلام کے بارے میں آگاہ نہیں تھا وہ اسلام کے وجود کو محسوس کرنے لگا اور اس میں یہ تجسس پیدا ہونے لگا ہے کہ یہ کیسے لوگ ہیں جو دنیاوی لذتوں اور آزادیوں کو ترک کرتے ہوئے مطمئن و شادماں ہیں۔

ان کا یہی تجسس انہیں اسلام کے قریب لے آرہا ہے چونکہ دنیا بھر کی آسائشیں میسر ہونے کے باوجود وہ سکون کی تلاش میں ہیں۔ معاشرہ میں آنے والی اس تبدیلی کو اہل اسلام محسوس کئے ہوں یا نہ کئے ہوں مگر باطل پرستوں کے اس طبقہ نے اس کو ضرور محسوس کرلیا ہے جس نے اپنے ہتھکنڈوں اور حربوں کے ذریعہ لوگوں کو بھلائی کی طرف جانے سے اب تک روکے رکھا تھا چونکہ اب وہ جان گیا ہے کہ حق غالب ہوکر رہے گا اور یہ تو ہونا ہی ہے کہ باطل ایسی ہی چیز ہے جو مٹنے والی ہے۔

جہاں تک باطل طاقتوں کا معاملہ ہے انہیں اب یہ ڈر ستانے لگا ہے کہ اب وہ مٹنے والے ہیں۔ دنیا بھر کی باطل طاقتیں اسی ڈر اور خوف کے باعث ایک دوسرے کے ساتھ تال میل کرتے ہوئے حق کے خلاف طاقت ور قوت بن کر ابھرنا چاہتی ہیں تاکہ وہ حق کو غالب آنے سے روک سکیں۔ اسی تگ و دو میں اسرائیل نے بھی یہ محسوس کیا کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھارت اس کا ایک بہترین معاون ثابت ہوسکتا ہے ۔

بھارت کے ایک طبقہ کو جو کبھی یہودیوں کے بدترین دشمن نازیوں کے ہیرو ہٹلر کا گرویدہ تھا اور اسے اپنا ہیرو مانتا تھا’ اس کو اپنا ہم نوا بنالیا۔ ایک دور تھا بھارت کا یہ طبقہ’ یہودیوں کے خلاف ہٹلر کی کارستانیوں کی کہانیاں سن کر بھارت میں بھی مسلمانوں کے خلاف ان کو دہرانا چاہتا تھا مگر ایسا لگتا ہے کہ صہیونیوں کے عالمی سربراہ اس طبقہ کو یہ باور کروانے میں کامیاب ہوگئے کہ ہٹلر کی زیادتیوں اور مظالم کی جو کہانیاں عام ہیں، ان میں کوئی صداقت نہیں اور یہ کہ ہٹلر ہمارا دشمن نہیں تھا بلکہ وہ تو ہمارا معاون تھا اور ہماری ہی ایماء پر وہ ایسا کردار نبھانے پر آمادہ ہوا تھا تاکہ داؤدی مملکت کے احیاء کی راہیں ہموار کی جاسکیں۔

شائد یہ بہت سے لوگوں کے لئے بعید از قیاس لگے ۔ ان لوگوں کے لئے بس اتنا ہی کہنا ہے کہ ’سواستک‘ کا نشان جو آج سے دو تین دہوں قبل تک ہندو مت کی ایک علامت کے طور پر استعمال ہوا کرتا تھا، اب اس کا استعمال ترک کیا جاچکا ہے۔ یاد رہے کہ ’سواستک‘ نشان کو ہٹلر بھی استعمال کرتا تھا۔ آج ہندوتوا کے حامی اس نشان کو استعمال کرتے نظر نہیں آرہے ہیں۔ یہ ہندتوا اور صہیونیت کے درمیان نئی دوستی کے آغاز کی علامت ہے۔

صہیونیوں کے بڑے، ہندوتوا کے ٹھیکے داروں کو یہ باور کروانے میں کامیاب ہوگئے کہ اسلام اور یہودیت کے درمیان جو آخری معرکہ ہونے والا ہے، اس کا ایک حصہ بھارت بھی ہوگا چونکہ پیغمبر اسلام کی اس معرکہ کے بارے میں جو پیش گوئیاں ہیں، ان میں’غزوہ ہند‘ بھی شامل ہے۔ یہ اور بات ہے کہ غزوہ ہند کے بارے میں مسلمانوں کا مؤقف کچھ اور ہے۔ اس خصوص میں وارد احادیث کی صحت اور اس کی تاویل کے بارے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے مگر ان احادیث کو بنیاد بناکر دانائے صہیونیت نے ہندوتوا کے حامیوں کو اپنے ساتھ شامل کرلیا ہے۔

انہیں یہ باور کروانے میں کامیاب ہوگئے کہ غزوہ ہند کے تعلق سے کی گئی پیش گوئیوں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ بھارت کے حکمراں کو بیڑیوں میں باندھ کر شام لے جایا جائے گا۔ اس لئے آپ کا اور ہمارا مشترکہ دشمن اسلام اور مسلمان ہیں اور یہی بہتر ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہم کو متحد ہوکر لڑنا ہوگا۔ اگر بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کو اسلام سے دور کردیا جائے تو دونوں کی ہی بقاء ممکن ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب سے بھارت میں صہیونیت کے قدم پڑے ہیں’ بھارتی مسلمانوں کے خلاف ایک مہم چھیڑ دی گئی ہے۔ بھارتیوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کا عمل شروع کیا جاچکا ہے اور عام بھارتیوں کو مسلمانوں کے تئیں ڈرایا جانے لگا ہے کہ اگر مسلمانوں کو یوں ہی اپنے دین پر عمل پیرا ہونے کی کھلی چھوٹ دے دی جائے تو وہ غالب آجائیں گے اور تمہاری آزادیاں چھین لی جائیں گی اور تمہیں مجبور کیا جائے گا کہ اسلام کو قبول کرلیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت میں اب اسلام اور مسلمان کھٹکنے لگے ہیں۔ وہ لوگ جو دنیاوی عیش و عشرت میں پڑے رہنا چاہتے ہیں، وہ بھی ان طاقتوں کا اس لئے ساتھ دے رہے ہیں کہ انہیں بھی خدشہ لاحق ہوگیا ہے کہ کہیں ان سے دولت چھین لی نہ جائے ۔

حجاب کا تنازعہ بھی اسی کی ایک کڑی ہے۔ پڑوسی ریاست کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں ڈریس کوڈ کے نام پر حجاب کے استعمال پر امتناع عائد کردیا گیا ہے اور یہ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب بھارت کی چند ریاستوں بشمول اترپردیش میں اسمبلی انتخابات جاری ہیں۔ الکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعہ رائے دہی کی شدید مخالفت کے باوجود ہنوز انتخابات اسی کے ذریعہ کروائے جارہے ہیں۔

اترپردیش میں آدتیہ ناتھ کی زیر قیادت بی جے پی حکومت سے اگرچہ وہاں کے عوام بدظن نظر آرہے ہیں اور ایسے میں دوبارہ بی جے پی کو اقتدار حاصل ہوجائے تو ایک بار پھر الکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر شکوک و شبہات پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس لئے غیر مرئی طاقتوں نے عوام کی شدید مخالفت کے باوجود بی جے پی کی کامیابی کو جواز دینے کے لئے جنوبی ہند کی ایک ریاست کا انتخاب کیا جہاں پر بی جے پی کی حکومت ہے اور انتخابی ماحول کے گرم ہونے سے ایک ماہ قبل حجاب پر امتناع عائد کروایا تاکہ اس مسئلہ پر ایک ہنگامہ پیدا ہوجائے تاکہ اس کے سہارے شمالی ہند کی ریاستوں کے انتخابی ماحول کو گرمادیا جائے اور ایک تاویل یہ پیش کی جاسکے کہ انتخابات میں حجاب کا مسئلہ غالب رہا اور رائے دہندوں نے جذبات میں مغلوب ہوکر بی جے پی کے حق میں ووٹ دے دیا۔

افسوس کہ ہم میں بھی نیم دانشوروں کا ایک ایسا طبقہ ہے جو یہ مانتا ہے کہ عین انتخابات سے قبل اس طرح کے تنازعات کھڑے کئے جاتے ہیں تاکہ رائے دہندوں کی تقطیب ہو۔ اگر مسلمان دانش مندی کا ثبوت نہ دیتے ہوئے اس میں الجھ جائے تو وہ خود ہی ہندو رائے دہندوں کو بی جے پی کے قریب کرنے کا قصوروار ہوگا۔ اس لئے عقل کا یہ تقاضا ہے کہ مسلمان، ایسے مسائل میں الجھ کر ہندوتوا طاقتوں کو ابھرنے کا موقع نہ دیں ۔

مگر وہ یہ بھی بھول جاتا ہے کہ اگر مسلمان یوں ہی ہندوتوا طاقتوں کو اقتدار سے باز رکھنے کی خاطر اسلام اور شریعت کے ایک ایک ستون کو ترک کرتا جائے گا تو وہ مسلمان ہی باقی نہیں رہے گا اور جب وہ مسلمان ہی باقی نہیں رہا تو اس کا باطل سے نبرد آزما ہونا ممکن ہی نہیں رہے گا اور اس کا شمار بھی باطل میں ہی ہونے لگے گا۔ مسلمانوں میں ایک طبقہ ہمیشہ سے موجود رہا ہے جو مسلمانوں کو سمجھوتے پر آمادہ کرتا رہتا ہے تاکہ وہ آزمائش میں مبتلا نہ ہو۔ یہی تو منافقت ہے اور ہم کو منافقت کی باریکیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہم ایسے اسلام پر کاربند ہوں جس سے دوسروں کو تکلیف نہ پہنچے تو وہ غلط ہے۔

اگر مخصوص اوقات پر ایک مخصوص انداز میں عبادات کرنا اور ایک مخصوص مقدار میں اپنی آمدنی کو خیرات کرنا ہی ہوتا تو کفاران مکہ کو اسلام اور پیغمبر اسلام دونوں ہی قبول تھے مگر وہ جانتے تھے کہ اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کرتے ہوئے کلمہ پڑھنے کا مطلب یہ ہوگا کہ اب ان کی مرضی نہیں چلے گی بلکہ اپنی مرضی کو خالق کائنات کے احکام کے تابع بنانا ہوگا۔ اس لئے وہ لوگ جو اس خوش فہمی میں ہیں کہ ہم تو انفرادی طور پر ایک اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اس کی راہ میں خیرات بھی کرتے ہیں، روزہ بھی رہتے ہیں اور حج بھی ادا کرتے ہیں تو جان لو کہ اللہ کو اتنا ہی مقصود نہیں ہے۔ ہمیں اپنے عیش و آرام کو اس کی راہ میں ترک کرنا ہوگا جس کے لئے ہمیں صعوبتیں بھی برداشت کرنی ہوں گی۔

ان ناموافق حالات میں مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ احکام شریعت پر عمل پیرا نظر آتا ہے مگر ہمارا نیم دانش ور طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ راسخ العقیدگی نئی مشکلات کھڑی کرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ کرناٹک میں جب سے مسلم طالبات، حجاب استعمال کرنے کے اپنے حق کا دفاع کررہی ہیں، یہ طبقہ انہیں باور کروانے کی کوشش کررہا ہے کہ وہ حالات کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے حجاب کے استعمال پر اصرار نہ کریں اور ڈریس کوڈ کو خاموشی سے قبول کرتے ہوئے حجاب کو مسئلہ بننے نہ دیں۔ یہ بھی اطلاعات موصول ہوئیں کہ چند ملی تنظیموں کے قائدین نے بھی یہ کوشش کی ہے اور یہاں تک کہہ دیا تھا کہ طالبات کا اقدام مسلمانوں کے حق میں بہتر نہیں ہے۔

شائد انہیں یہ ڈر ہے کہ یہ مسئلہ اگر طول پکڑ جائے تو انہیں بھی مجبوراً اپنی ساکھ بچانے اور اپنی قیادت و سیادت کا ثبوت دینے کے لئے اپنے اے سی کمروں کو چھوڑ کر میدان میں اترنا پڑے گا اور بالآخر جب ایک باحجاب طالبہ نے جرأت مندی کا مظاہرہ کیا اور طاغوتی بھیڑیوں کا تنہا ہی سامنا کرلیا اور جئے شری رام کے نعروں کا جواب اللہ اکبر سے دیا تو ساری دنیا میں اس کی پذیرائی ہونے لگی اور حجاب سارے بھارت میں ایک موضوع بحث بن گیا۔ یاد رہے کہ اللہ اکبر کا نعرہ کافروں پر جتنا بھاری ہوتا ہے اتنا ہی بھاری منافقین پر بھی ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہم میں موجود منافقین اس صنف نازک کی جرأت مندی سے خائف ہوگئے چونکہ وہ کچھ کرنا نہیں چاہتے، اس لئے اب اس واقعہ کو ایک ڈرامہ ثابت کرنے کوشاں ہیں۔ یہ باور کروانے کی کوشش کررہے ہیں کہ یہ سب کچھ ڈرامہ تھا وگرنہ یہ بے ساختہ معاملہ ہوا ہوتا تو وہاں پہلے سے کیمرے والے کیوں موجود تھے؟ ہمارے کچھ سادہ لوح مسلمان بھی اب شک میں پڑچکے ہیں کہ کہیں یہ سب کچھ ایک ڈرامہ تو نہیں تھا کہ ہندوتوا کو پنپنے کا موقع دیا جائے۔ شائد وہ بھول گئے کہ کرناٹک میں ایک ماہ سے حجاب ایک موضوع بنا ہوا ہے اور جگہ جگہ حجاب کے مخالفین اپنی طاقت کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔

میڈیا کے نمائندے بہت سے تعلیمی اداروں کے باہر کئے جانے والے مظاہروں کے کوریج کے لئے وہاں پہلے سے موجود تھے۔ اس لڑکی کی بہادری پر جو شک پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ہم ان سے بس اتنا ہی کہنا چاہتے ہیں کہ اگر اس لڑکی کو پہلے سے ہی معلوم تھا کہ وہاں میڈیا والے موجود ہیں اور وہ ایسا کچھ کرتے ہوئے راتوں رات شہرت پالے گی تو بھی ہم اس کی جرأت کو سلام کرتے ہیں۔ وہی بتائیں کہ اگر انہیں پہلے سے معلوم ہو کہ آج اس کالج کے سامنے جہاں ان کی بیٹی یا بہن تعلیم پارہی ہیں، وہاں ہندوتوا کے حامی نوجوان مظاہرہ کررہے ہیں تو کیا وہ اپنی بچی کو کالج بھیجنے کی بھی جسارت کرپاتے؟

ملت اسلامیہ کے اکابرین و مشاہرین کے لئے یہ آزمائش کا وقت ہے کہ وہ اپنی بزدلی پر مصلحت کی چادر نہ اڑھائیں اور حجاب کا شہری کی انفرادی پسند کے دستوری حق کے طور پر دفاع نہ کریں بلکہ اس کو احکام اسلامی کی اطاعت کے اپنے فریضہ کے طور پر پیش کریں اور اس کو حاصل کرکے رہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مولانا ابوالحسن علی ندوی علیہ الرحمہ جیسی دینی حمیت کا مظاہرہ کیا جائے۔

۰۰۰٭٭٭۰۰۰

ایک تبصرہ

  1. السلام علیکم
    ہوشمندوں نے کہی ہر بزدلی کو مصلحت
    جانب مقتل گئے تو صرف دیوانے گئے
    ملت اور بلخصوص ملی تنظیموں میں موجود بزدلوں ، منافقوں کے تعلق سے اطہر معین کی تحریر حقیقت کا اظہار ہے جناب اطہر معین کے اس مضمون میں تحریر تمام خیالات سے اتفاق نہیں ہے لیکن اس کے باوجود بہترین تحریر ہے جس کے لئے انہیں مبارکباد ہے
    الله زور قلم اور زیادہ دے

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button
%d bloggers like this: