مسلم اور بین الاقوامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کرلیں

حسن آخند نے چہارشنبہ کو بتایا کہ وہ تمام حکومتوں بالخصوص اسلامی ممالک سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ طالبان حکومت کو تسلیم کرلیں۔ وہ پہلی مرتبہ ستمبر میں عہدہ کا جائزہ لینے کے بعد عوام سے ٹی وی پر خطا ب کررہے تھے۔

کابل: افغانستان کے کار گذار وزیراعظم ملا حسن آخند بین الاقوامی حکومتوں سے اپیل کررہے ہیں کہ وہ ملک کی طالبان حکومت کو سرکاری طور پر تسلیم کرلیں۔ انہوں نے کابل میں ایک پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے بتایا کہ تمام شرائط کی تکمیل کرلی گئی ہے۔

حسن آخند نے چہارشنبہ کو بتایا کہ وہ تمام حکومتوں بالخصوص اسلامی ممالک سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ طالبان حکومت کو تسلیم کرلیں۔ وہ پہلی مرتبہ ستمبر میں عہدہ کا جائزہ لینے کے بعد عوام سے ٹی وی پر خطا ب کررہے تھے۔

بیرونی طاقتیں طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے راضی نہیں ہیں جبکہ اگست میں طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیاتھا۔ امریکہ کی زیر قیادت مغربی ممالک نے افغان بینک کاری اثاثے جن کی مالیت کئی بلین ڈالر تھی انہیں منجمد کردیا اور ترقیاتی سرمایہ کاری کو بھی منقطع کردیا جو ماضی میں افغانستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی جیسی تھی۔

آخند اور دیگر طالبان حکومت کے عہدیداروں نیوز کانفرنس میں اپیل کی جس میں اقوام متحدہ کے عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔انہوں نے ملک میں پیسے کے بہاؤ پر عائد تحدیدات میں نرمی کی اپیل کرتے ہوئے فنڈس کے انجماد کو موجودہ بڑھتے ہوئے معاشی بحران کا ذمہ دار قرار دیا۔

علحدہ موصولہ اطلاع کے بموجب افغانستان کے قائم مقام وزیراعظم ملا محمد حسن آخند نے کابل میں چہارشنبہ کو ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ تمام شرائط مکمل کردی گئی ہیں اور اب بین الاقوامی برادری ملک میں طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں۔آخند نے مزید کہا، ”میں خاص طور پر اسلامی ممالک سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ آگے بڑھیں اور ہمیں تسلیم کریں۔”

انہیں امید ہے کہ اس کے بعد ملک تیزی سے ترقی کر سکے گا۔ملا حسن محمد آخوند نے یہ بات ملک میں شدید معاشی بحران سے نمٹنے کے حوالے سے کہی۔ گزشتہ برس ستمبر میں وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ان کی یہ افغان قومی نشریاتی ادارے پر نشر کی گئی پہلی گفتگو تھی۔

طالبان نے پچھلے سال اگست سے کابل کا کنٹرول سنبھالا ہوا ہے تاہم بین الاقوامی برادری نے طالبان کی حکومت کو ابھی تک تسلیم نہیں کیا ہے۔ امریکہ کی سربراہی میں مغربی ممالک نے افغانستان کے بینکوں کے اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد کرنے کے ساتھ ساتھ ترقیاتی فنڈ بھی روک رکھے ہیں۔

طالبان حکومت کے حکام اور وزیراعظم آخوند نے نیوز کانفرنس کے دوران مطالبہ کیا کہ امداد کی فراہمی پر عائد پابندی میں نرمی کی جائے کیونکہ پابندی کے نتیجے میں ملک میں معاشی بحران زور پکڑ رہا ہے۔آخوند کے بقول، ”قلیل مدتی امداد حل نہیں ہے، ہمیں بنیادی طور پر مسائل کو حل کرنے کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

"بین الاقوامی برادری نے افغانستان میں بحرانی صورتحال سے فوری طور پر نمٹنے اور بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے انسانی امداد گوکہ تیزکردی ہے۔ لیکن ملک کو سخت سرد موسم، نقد رقم کی کمی، اور بگڑتی ہوئی معیشت کا سامنا ہے۔

اس وجہ سے لاکھوں افراد انتہائی غربت میں زندگی بسرکرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس نیوز کانفرنس میں اقوام متحدہ کے عہدیدار بھی موجود تھے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی افغانستان کے لیے خصوصی مندوب ڈیبرا لیون نے اس دوران کہا کہ افغانستان میں معاشی بحران ایک سنگین مسئلہ ہے جسے تمام ممالک کی طرف سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا، "اقوام متحدہ افغانستان کی معیشت کو بحال کرنے اور بنیادی طور پر معاشی مسائل کو حل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔اس موقع پر افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا کہ طالبان حکومت عالمی برادری کے ساتھ اقتصادی تعلقات کی خواہاں ہے۔

ذریعہ
منصف ویب ڈیسک

تبصرہ کریں

Back to top button