مسلم خواتین کو آن لائن نشانہ بنانے پر برہمی کی لہر،دہلی میں ایف آئی آر درج

ٹوئٹر پر مسلم خواتین کی اچھی خاصی موجودگی ہے جنہیں نشانہ بنایاگیا اور ان کی تصاویر اپ لوڈ کی گئیں۔ دہلی اور اترپردیش پولیس نے گذشتہ برس کے واقعہ کے بعد دو ایف آئی آر درج کی تھیں لیکن اس نے تاحال خاطیوں کے خلاف کوئی ٹھوس کاروائی نہیں کی۔

نئی دہلی: کم ازکم 100 بااثر مسلم خواتین کی تصاویر نیلامی کیلئے ایک ایپ پر اپ لوڈ ہونے کے بعد برہمی کی لہر دوڑگئی۔ وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی اشوینی ویشنو نے کہا ہے کہ ہوسٹنگ پلیٹ فارم گٹ ہب نے توثیق کی ہے کہ اس نے یوزر کو بلاک کردیا ہے۔ سی ای آرٹی اور پولیس حکام مزید کاروائی کیلئے تال میل کررہے ہیں۔ گذشتہ برس جولائی میں بھی ایسی ہی تصاویر اپ لوڈہوئی تھیں۔

ٹوئٹر پر مسلم خواتین کی اچھی خاصی موجودگی ہے جنہیں نشانہ بنایاگیا اور ان کی تصاویر اپ لوڈ کی گئیں۔ دہلی اور اترپردیش پولیس نے گذشتہ برس کے واقعہ کے بعد دو ایف آئی آر درج کی تھیں لیکن اس نے تاحال خاطیوں کے خلاف کوئی ٹھوس کاروائی نہیں کی۔ شیوسینا رکن پارلیمنٹ پرینکاچترویدی نے ہفتہ کے دن ممبئی پولیس اور اشوینی ویشنو سے شکایت کی تھی اور خاطیوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیاتھا۔

آئی اے این ایس کے بموجب دہلی پولیس نے سوشل میڈیا پر اقلیتی فرقہ کی خواتین کو ہراساں کرنے اور اُن کی بے عزتی کرنے والے نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی۔ یہ ایف آئی آر دہلی کی ایک خاتون صحافی کی شکایت پر درج ہوئی جس کا کہنا ہے کہ اسے ایک موبائل اپلیکیشن Bulli Bai پر بعض نامعلوم افراد کا گروپ نشانہ بنارہا ہے۔ اس ایپ کو GitHUB پلیٹ فارم پر بنایاگیاہے۔

 دہلی پولیس کے ایک عہدیدار نے آئی اے این ایس کو بتایاکہ ہم نے دفعہ 509 کے تحت ایف آئی آردرج کرلی ہے۔ یہ ایف آئی آر ساؤتھ ایسٹ ڈسٹرکٹ کے سائبرپولیس اسٹیشن میں درج ہوئی۔ خاتون صحافی نے کہا کہ ساری پورٹل مسلم خواتین کی بے عزتی کرنے کیلئے بنائی گئی۔

یہ بھی پڑھیں

تحقیقات ضروری ہیں تاکہ یہ پتہ چلاکہ آیا اس میں کوئی منظم سازش تو کارفرما نہیں۔ غورطلب ہے کہ اقلیتی فرقہ کی خواتین کو نشانہ بنانے کی حرکت 6ماہ قبل ایک اور موبائل ایپ Sulli Deals پر بھی ہوئی تھی۔ اس وقت بھی مسلم خواتین کی تصاویر منظرعام پرآئی تھیں جو ان کی اجازت کے بغیر لی گئی ہیں۔

 اسی دوران معاملہ کا نوٹ لیتے ہوئے مرکزی وزیر مواصلات اشوینی ویشنو نے ہفتہ کے دن کہا کہ ہوسٹنگ  پلیٹ فارم نے ایپ کے یوزر کو بلاک کردیا ہے۔ شیوسینا کی رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی نے اتوار کے دن خاطیوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ’Sulli Deals‘ کا مسئلہ اٹھایاتھا جو ایک مخصوص مذہب کی خواتین کو نشانہ بنانے کی کوشش کررہاتھا۔

میں نے جولائی میں یہ مسئلہ اٹھایاتھا اور پھر 7 ستمبر کو ایک اور مکتوب لکھا تھا لیکن مجھے جواب نومبر میں ملا کہ کاروائی ہورہی ہے اور اب Bulli Deals کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ پرینکا چترویدی نے کہا کہ معاملہ ممبئی پولیس کے پاس ہے اور خاطیوں کو جلد گرفتارکرلیناچاہئیے۔

ممبئی پولیس نے کہا کہ وہ معاملہ کی تحقیقات کررہی ہے اور آئی پی سی کی متعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کرنے کیلئے قانونی مشورہ لیاجارہا ہے۔ Sulli Deal کے بعد نامعلوم افراد کے خلاف 2ایف آئی آر درج ہوئی تھی تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button