مسلم طالبات کی نجی جانکاری کے افشاء کی راجیہ سبھا میں گونج

ترنمول کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ڈاٹا لیکیج اور خلاف ورزی ان دنوں عام ہے۔ کئی مسلم خواتین کی نجی جانکاری اور تصاویر لیک ہوئیں اور ان کی مرضی کے خلاف اسے SulliDeal اور BulliBai ایپس پر استعمال کیا گیا۔

نئی دہلی: کرناٹک کے اُڈپی سے تعلق رکھنے والی 6 طالبات کی نجی جانکاری کے آن لائن افشاء کا مسئلہ جمعہ کے دن راجیہ سبھا میں اٹھا۔ اُڈپی وہ مقام ہے جہاں سے حجاب تنازعہ میں پہلا احتجاج ہوا تھا۔ ایک رکن نے ڈاٹا حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔

وقفہ صفر میں مسئلہ اٹھاتے ہوئے ترنمول کانگریس کی موسم نور نے کہا کہ حجاب پر امتناع کے تنازعہ کے درمیان کم ازکم 6 طالبات کا پرسنل ڈاٹا (نجی جانکاری) سوشیل میڈیا پلیٹ فارمس پر لیک اور شیئر ہوا۔

انہوں نے کہا کہ نجی جانکاری جیسے نام پتہ وغیرہ کئی لوگوں نے شیئر کیا جس سے ان لڑکیوں کی پرائیوسی کی خلاف ورزی ہوئی۔

ترنمول کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ڈاٹا لیکیج اور خلاف ورزی ان دنوں عام ہے۔ کئی مسلم خواتین کی نجی جانکاری اور تصاویر لیک ہوئیں اور ان کی مرضی کے خلاف اسے SulliDeal اور BulliBai ایپس پر استعمال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں

موسم نور نے کہا کہ ان دنوں نجی جانکاری کا افشاء‘ خواتین کے حقوق‘ پرائیویسی اور سیفٹی کی خلاف ورزی کا عام ذریعہ بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے سدباب کی ضرورت ہے۔ یہ یقینی بنایا جائے کہ ہر کسی کے اور خاص طورپر کمسن لڑکیوں اور عورتوں کے ڈاٹا حقوق کا تحفظ ہو۔

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button