مسٹر 56 اِنچ کب تک مہربہ لب رہیں گے؟ ۔ سرجے والا کا طنز

کانگریس پارٹی کے ترجمان اعلیٰ رندیپ سنگھ سرجے والا نے مودی حکومت کو ایک کمزور حکومت قرار دیا اور نریندرمودی پرہندوستان کی سلامتی کو چینی خطرہ لاحق ہونے کے باوجود خاموش رہنے کا الزام عائد کیا۔

نئی دہلی: کانگریس پارٹی نے آج وزیراعظم نریندرمودی سے سوال کیا کہ وہ چین کی جانب سے اروناچل پردیش کے 15 مقامات کے ناموں کی تبدیلی پر کیوں خاموش ہیں؟

کانگریس نے سوال کیا کہ شمال مشرقی ریاست کو چین کی جانب سے جنوبی تبت قرار دیا جارہا ہے اور اس کے باوجود 56 انچ کا سینہ رکھنے والے ہمارے وزیراعظم نریندر مودی ہنوز مہربہ لب ہیں۔

کانگریس پارٹی کے ترجمان اعلیٰ رندیپ سنگھ سرجے والا نے مودی حکومت کو ایک کمزور حکومت قرار دیا اور نریندرمودی پرہندوستان کی سلامتی کو چینی خطرہ لاحق ہونے کے باوجود خاموش رہنے کا الزام عائد کیا۔

انہوں نے کہا کہ سال ختم ہونے کو آیا مگر چین کا خطرہ ہنوز لاحق ہے۔ چین واضح طور پر ہندوستان کی سلامتی اور سالمیت کیلئے مسلسل خطرہ بنا ہوا ہے۔

مشرقی لداخ میں کئی کیلو میٹر خطہ پر قبضہ کرچکا ہے اور اروناچل پردیش میں گاؤں کے گاؤں تعمیر کرچکا ہے۔ اس کے باوجود مسٹر 56 اِنچ ایک لفظ بھی کہنے سے انکاری ہیں۔ کمزور حکومت خاموش وزیراعظم، سرجے والے نے اپنے ایک ٹویٹ میں یہ بات کہی۔

اسی دوران کانگریس پارٹی کے ترجمان گوروولبھ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تعجب کا اظہار کیا کہ آخر کب ہمارے وزیراعظم چین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں گے؟ آخر کب چین کے خلاف سخت اقدامات کئے جائیں گے؟

کیا ہمارے اقدام صرف چینی موبائیل ایپس پر امتناع عائد کرنے تک محدود رہیں گے جبکہ دوسری طرف ہند۔چین تجارت 100 بلین ڈالر کے نشانہ کو عبور کرچکی ہے۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button