اردو ریسرچ اسکالرس کا ایک روزہ تربیتی ورکشاپ

 اس ورکشاپ میں ریاست تلنگانہ کی یونیورسٹیوں کے 100 سے زائد ریسرچ اسکالرس نے شرکت کی جن میں عثمانیہ یونیورسٹی، مولانا آزادنیشنل اردویونیورسٹی اور یونیورسٹی آف حیدرآباد اور اضلاع کی یونیورسٹیوں تلنگانہ یونیورسٹی نظام آباد، ساتاواہنا یونیورسٹی کریم نگر، نلگنڈہ ومحبوب نگر کی یونیورسٹیوں کے اسکالرس بھی شریک تھے۔

رپوتاژ: عارف الدین احمد

تلنگانہ ریاستی اردواکیڈیمی اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی کے اشتراک سے 18 ستمبر2021ء کو صبح 10:30 تا شام 5:00 بجے اردو مسکن‘ خلوت حیدرآباد میں ڈاکٹر محمد غوث ڈائرکٹر/سکریٹری تلنگانہ ریاستی اردواکیڈیمی کی صدارت میں ”تحقیقی طریقہ کار: مسائل وامکانات‘ کے عنوان سے ریاستی یونیورسٹیوں کے اردو ریسرچاسکالرس کا ایک روزہ تربیتی ورکشاپ منعقد ہوا۔

 اس ورکشاپ میں ریاست تلنگانہ کی یونیورسٹیوں کے 100 سے زائد ریسرچ اسکالرس نے شرکت کی جن میں عثمانیہ یونیورسٹی، مولانا آزادنیشنل اردویونیورسٹی اور یونیورسٹی آف حیدرآباد اور اضلاع کی یونیورسٹیوں تلنگانہ یونیورسٹی نظام آباد، ساتاواہنا یونیورسٹی کریم نگر، نلگنڈہ ومحبوب نگر کی یونیورسٹیوں کے اسکالرس بھی شریک تھے۔

 ڈاکٹر محمد غوث ڈائرکٹر/سکریٹری تلنگانہ ریاستی اردواکیڈیمی نے اس ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے تمام مہمانان، اساتذہ ریسورس پرسنس اور ریسرچ اسکالرس کا خیر مقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ تحقیقی طریقہ کار:مسائل وامکانات کے عنوان سے منعقدہ یہ ورکشاپ ریسرچ اسکالرس کے ثمرآثرثابت ہوگا۔

متعلقہ

 انہوں نے کہا کہ اردو اکیڈیمی نے اپنی جاری اسکیمات کے ساتھ فروغ اردو کے ضمن میں کئی اختراعی پروگرامس منعقد کئے ہیں جس میں مولانا آزاد نیشنل اردویونیورسٹی کے اشتراک سے اساتذہ کی تربیت کا پانچ روزہ آن لائن ورکشاپ، اردو ریسرچ اسکالرس وصحافیوں کے آن لائن ورکشاپس منعقد کئے۔

ڈاکٹر محمد غوث ڈائرکٹر /سکریٹری وکنوینر ورکشاپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ریاست کی یونیورسٹیوں کے اسکالرس کا یہ پروگرام بھی اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔

پروفیسر صدیقی محمد محمودانچارج رجسٹرار مولانا آزاد نیشنل اردویونیورسٹی نے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اردو اکیڈیمی اور قومی کونسل نئی دہلی کے اشتراک سے یونیورسٹیز کے ریسرچ اسکالرس کا ایک روزہ ورکشاپ منعقد کرنے پر ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی کو مبارکباد دی۔

انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ یونیورسٹیز کے اسکالرس آج تحقیق تو کررہے ہیں لیکن اس میں معیار کا فقدان ہے، انہوں نے کہا کہ تحقیق کے راستے میں محنت وریاضت کی ضرورت ہوتی ہے، یہ ایک آگ کا دریا ہے، سمندر ہے جس میں ڈوب کر ہیرے موتی  نکالناپڑتا ہے۔

انہوں نے اسکالرس سے تحقیق کے لئے بہترمعیار کو اپنانے کیلئے مطالعہ کی اہمیت پرزوردیا اور کہا کہ آپ جتنا مطالعہ کریں گے، تحقیق کی راہ میں اتنی ہی ترقی ہوگی۔

پروفیسر نسیم الدین فریس ڈین اسکول برائے السنہ‘ لسانیات اور ہندوستانیات مولانا آزادنیشنل اردویونیورسٹی نے اپنے خطاب میں ریسرچ اسکالرس کو معیاری مقالے پیش کرنے اور محنت ولگن سے ریسرچ کرنے کی ہدایت کی۔ پروفیسر فضل اللہ مکرم صدرشعبہ اردو حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی اور ڈاکٹر حفیظ الرحمن سینئر ٹیکنیکل آفیسر انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کیمیکل ٹکنالوجی نے بھی افتتاحی اجلاس سے خطاب کیا۔

ورکشاپ کے دوسرے سیشن میں تحقیقی طریقہ کار پر پیانل مباحثہ ہوا‘ اس میں پروفیسر فضل اللہ مکرم صدرشعبہ اردو حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی نے ادبی تحقیق‘ پروفیسر افروزعالم نے ’سماجی تحقیق‘ پروفیسر سلیم محی الدین صدرشعبہ اردو شری شیواجی کالج پربھنی نے تحقیق کی تعریف اہمیت اور ضرورت‘ پروفیسر محمدعبدالسمیع صدیقی ڈائرکٹر سی پی ڈی ایوایم ٹی مانو حیدرآباد نے تحقیق میں تجزیہ کی اہمیت، ڈاکٹر صلاح الدین سید نے ’سائنسی تحقیق‘ اور ڈاکٹرسید نجی اللہ نے ’تحقیقی خاکہ‘ کے عنوانات کے تحت سیرحاصل معلومات فراہم کیں۔

اس ورکشاپ کا تیسرا سیشن ’ٹیکنیکل سیشن تھا، جس کی صدارت پروفیسر فضل اللہ مکرم صدرشعبہ اردو حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی نے کی اور ڈاکٹر آمنہ تحسین سینئر اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ نسواں مانوحیدرآباد نے سماجی تحقیق، ڈاکٹر محمد ناظم علی سابق پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج موڑتاڑ نے تحقیقی اصطلاحات‘ ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی صدرشعبہ اردو این ٹی آرگورنمنٹ ڈگری کالج برائے اناث محبوب نگر نے مقالہ نگاری میں زبان کی اہمیت‘ ڈاکٹرمحمد اسریٰ سلطانہ اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ لائبریری سائنس حسینی علم گورنمنٹ ڈگری کالج فارویمنس حیدرآباد نے ’حوالہ جات کے طریقے‘ کے عنوانات پر اپنے تجربات اور معلومات سے ریسرچ اسکالرس کو واقف کروایا۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.