نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے…!

یقینا جہاں ایک بھی مسلمان موجود ہوگا وہاں باطل سے کشمکش بھی جاری رہے گی اور کوئی قوم محض کشمکش سے بچنے اور محاذ آرائی کے خوف سے خاموش رہے گی تو اپنے وجود کو باقی نہیں رکھ سکے گی ۔

ڈاکٹر ظل ھما بنت عبدالعلیم اصلاحی

ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف جاری نفرت، تعصب، تعذیب و تشدد کے واقعات کوئی نئے نہیں ہیں بلکہ ان کا سرا تقسیم ہند سے جا کر ملتا ہے ۔ ہاں بہرحال یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان واقعات میں روز بروز جدت اور شدت پیدا ہوتی جارہی ہے ماضی کے واقعات سے صرف نظر کرتے ہوئے صرف گزشتہ چار ماہ کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف آن دی ریکارڈ آنے والے اور خبروں کا حصہ بننے والے واقعات ان گنت و بے شمار ہیں۔ ان حملوں میں ریاستی حکومتوں، پولیس ایجنسیوں اور اداروں سے لے کر عام وردی والے اور بغیر وردی والے زعفرانی گروہ شامل رہے ہیں اور ایک عام ٹھیلے والے مسلمان اور راہ گیر سے لے کر اعلیٰ سرکاری مقام پر فائز آفیسر ،ممتاز و نمایاں سیاسی و مذہبی مسلم شخصیات حتی کہ بچوںاور عورتوں تک کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ آسام جیسے واقعات بھی منظر عام پر آئے ہیں جو اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ ہندوستان میں مسلمان انتہائی غیر محفوظ ہوچکے ہیں۔ ان کی جان و مال، عزت و آبرو اور ان کے تعلیمی و سماجی و مذہبی ادارروں پر کبھی بھی، کہیں بھی اور کسی بھی وقت شب خوں پڑ سکتا ہے۔ ان واقعات کی تیزی اور تسلسل سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہندوتوا مہم اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے اور مسلمانوں پر شکنجہ کسنے کے لئے ہمہ گیر منصوبے قطعیت پا گئے ہیں۔

ان جارحانہ حملوں کے ساتھ ساتھ دستوری اور قانونی طریقوں سے بھی مسلمانوں کو دبانے، کچلنے اور جڑ سے ختم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ دستور کے دائرے میں رہ کر ایسے قوانین کی تشکیل اور نفاذ کی کوششیں کی جارہی ہیں جن کے ذریعہ مسلمانوں کو دستور میں دی گئیں آزادیاں اور حقوق چھینے جاسکیں۔ انہیں میں سے جبری تبدیلیٔ مذہب اور یکساں سول کوڈ جیسے قوانین کی جلد از جلد تشکیل اور ان کے نفاذ کی راہیں ہموار کرنا ہیں۔ شہریت ترمیمی قانون تو پہلے ہی بن گیا ہے جس کے نفاذ سے مسلمانوں کی بے دخلی کا معاملہ کافی آسان ہوجائے گا اور جن مسلمانوں کی شہریت ثابت ہوجائے گی۔ ان کا ناطقہ بند کرنے اور انہیں پراچین سنسکرتی میں ضم کرنے کے لئے یکساں سول کوڈ کا قانون کافی ہوجائے گا۔ اس طرح یہ ملک ایک ہندو راشٹر میں تبدیل ہوجائے گا۔

اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو گزشتہ چار ماہ میں مسلمانوں کے خلاف رونما ہونے والے واقعات میں سب سے زیادہ سنگین واقعات 20؍جون 2021ء کو مولانا عمر گوتم سمیت دس دیگر مبلغین اسلام کی گرفتاری اور پھر 21 ستمبر 2021ء کو فلت کے مشہور و معروف مبلغ اسلام مولانا کلیم صدیقی صاحب اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری ہے جو آئین کے دفعہ 25 میں دیئے گئے دونوں طرح کے حقوق کو سلب کرنے کی کوشش ہے ’’پہلا حق یہ کہ آدمی اپنے دل سے کسی بھی مذہب کو ماننے یا نہ ماننے کا اختیار رکھے گا اور دوسرا یہ کہ کسی بھی مذہب کو ماننے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تشہیر و تبلیغ کرنے کا اختیار ہوگا۔‘‘ ان مبلغین اسلام کی گرفتاری کے بعد ائے ڈی جی لا اینڈ آرڈر پرشانت کمار نے پریس کانفرنس میں ان پر جو الزامات عائد کئے ہیں ان سے حالات کی سنگینی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس ملک میں نہ صرف تبلیغ اسلام کی آزادی محض خواب و خیال بن کر رہ جائے گی بلکہ مسلمانوں کی تعلیمی و سماجی سرگرمیاں بھی ٹھپ کردی جائیں گی۔

ائے ڈی جی کا بیان ملاحظہ ہو۔

’’جانچ میں یہ حقائق سامنے آئے ہیں کہ مولانا مبینہ تبدیلیٔ مذہب کے کام میں ملوث ہیں اور مختلف طرح کے تعلیمی و سماجی اداروں کی آڑ میں تبدیلی ٔ مذہب کا کام ملک گیر سطح پر کیا جارہا ہے اس کے لئے بیرونی ممالک سے فنڈنگ کی جارہی ہے اس کام میں ملک کے کئی معروف لوگ اور ادارے شامل ہیں جانچ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ مولانا ہندوستان کا سب سے بڑا تبدیلیٔ مذہب کا سنڈیکیٹ چلاتے ہیں اور غیر مسلموں کو گمراہ کرکے اور ڈرا دھمکا کر ان کا مذہب تبدیل کراتے ہیں۔‘‘

یہ حالات ہمارے لئے لمحہ ٔ فکر یہ ہیں جو ہمیں اپنے رویے، موقف، سوچ اور طرز عمل کی غلطیوں کی نشاندہی کرنے کی دعوت دے رہے ہیں کیونکہ ہمارے غلط طرز عمل اور سوچ کی بناء پر ہی تقسیم ہند کے موقع پر دین و شریعت کی جو چند چیزیں حقوق کے نام پر اس سیکولر جمہوری نظام نے ہمیں بخشی تھیں ان پچھترسالوں میں ایک ایک کرکے اکثر چیزیں ہمارے ہاتھوں سے چھینی جاچکی ہیں آج تہی دستی کے جس مقام پر ہم پہنچے ہوئے ہیں اس میں جہاں سیکولر جمہوری نظام کی مہربانیاں اور غیروں کی عیاریاں اور مکاریاں شامل ہیں وہیں ہماری غفلتوں اور سادگیوں کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔

لہٰذا مبلغین اسلام کی ان حالیہ گرفتاریوں کو بنیاد بنا کر مسلمانانِ ہند کے طرز عمل، موقف، سوچ اور رویوں کا جائزہ لینا ضروری سمجھا جارہا ہے تاکہ غفلتوں کا پردہ چاک ہوسکے۔ مستقبل کا لائحہ عمل ترتیب دیا جاسکے اور دین و شریعت کا جو بچا کھچا سرمایہ ہمارے ہاتھوں میں باقی رہ گیا ہے اسے محفوظ کیا جاسکے۔

سب سے پہلے یہ سوچ کہ ’’مولانا عمر گوتم اور مولانا کلیم صدیقی صاحب جیسے مبلغین اسلام کی گرفتاری غیر دستوری و غیر آئینی ہے‘‘ اس سوچ کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے یہ سو چ مسلمانان ہند کے ہندوستانی سیکولر جمہوری دستور پر حد درجہ ایقان اور اعتماد کی وجہ سے ہے جس سے یہ دھوکا کھایا جارہا ہے کہ یہ دستور مسلمانوں اور مذہب اسلام کا محافظ ہے جبکہ حقیقت پسندی سے غور کیا جائے تو واضح ہوجائے گا کہ اب تک مسلمانوں کے ساتھ جو ناروا سلو ک اور زیادتیاں کی جاتی رہی ہیں وہ سب دستور کے دائرے اور جمہوری اصلوں اور قوانین کے مطابق کی جاتی رہی ہیں بابری مسجد سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ اس کا واضح ثبوت ہے۔ اسی طرح تبدیلیٔ مذہب ملک کے بعض حصوں میں جرم ہے جیسے فی الحال اروناچل پردیش، جھارکھنڈ،اترا کھنڈ اور چھتیس گڑھ میں انسداد تبدیلیٔ مذہب کا قانون موجود ہے اور بعض حصوں میں اسے جرم بنانے کی کوششیں چل رہی ہیں جیسے یوپی اور مدھیہ پردیش میں جبراً مذہب تبدیلی بل کو اسمبلیوں میں بھاری اکثریت سے منظور کروا کر آگے بڑھا دیا گیا ہے جہاں وہ قانون بننے کے مرحلوں میں ہے اس طرح یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ تبلیغ دین کی آزادی پر قدغن لگانا غیر دستوری و غیر آئینی عمل ہے؟ اسے دستوری و آئینی عمل تسلیم کیا جانا چاہئے ورنہ ہم اپنے خود ساختہ فریب سے کبھی باہر نہیں نکل سکتے۔

دوسری سوچ یہ کہ ’’دستور ہند نے مسلمانوں کو بے شمار حقوق عطا کئے ہیں جو مسلمانوں کے لئے کافی ہیں‘‘ اس سوچ کو بھی درست کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ اطمینان ہی ہے جس نے دستور کے ان چور دروازوں پر پردے ڈال رکھے ہیں جہاں سے ہم پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے اس سیکولر جمہوری نظام نے اپنے دستور میں ایسے چور دروازے کھلے رکھے ہیں جہاں سے داخل ہوکر کسی بھی قوم اور فرد کے تمام حقوق چھینے جاسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر آرٹیکل 25 میں اپنے مذہب کی تبلیغ اور اشاعت کی آزادی کا جھانسہ دیا گیا ہے پھر دوسرے آرٹیکلز کے چور دروازوں سے حکومتوں کو یہ حق حاصل ہورہا ہے کہ وہ اس آزادی کو چھین لیں۔ اسی طرح پچھتر سالوں سے اس فریب میں زندگی گزر گئی کہ مسلمانوں کو اپنے پرسنل لاء پر عمل کی آزادی ہے پھر اسی دستور کے چور دروازوں سے ہمارے پرسنل لاء میں مداخلت کی گئی اور تین طلاق کا قانون لایا گیا اسی طرح پرسنل لاء کی مکمل آزادی کو ختم کرنے کے لئے آرٹیکل 44 کا ایک چور دروازہ بھی موجود ہے جہاں سے یکساں سول کوڈ کو نافذ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ گویا یہ ایک ایسا سسٹم ہے جہاں حقوق کے ملنے کا عمل بھی آئینی ہے اور حقوق کے چھیننے کا عمل بھی آئینی ہے۔ لہٰذا دستور کی اس حقیقت کو جب تک تسلیم نہیں کیا جائے گا کوئی درست لائحہ عمل اختیار نہیں کیا جاسکے گا۔

تیسری سوچ یہ کہ مولانا کو انتخابی سیاست کے لئے بلی کا بکرا بنایا گیا ہے یعنی اس ملک میں جو کچھ ہوتا ہے الیکشن کے تناظر میں ہوتا ہے۔ اس طرح مسلمانوں کے خلاف اٹھائے جانے والے ہر قدم کو الیکشن سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے اس سوچ سے بھی پیچھا چھڑانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس سے واقعات کی سنگینی اور معاملات کی حساسیت کم ہوجاتی ہے۔ ایک عام فرد کی اس سوچ اور ذہنیت سے شاید زیادہ نقصان نہ ہو لیکن جب دانشوران قوم و ملت اور قائدین و لیڈران ایسا سوچیں اور کہیں تو اس سے پوری قوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے کیونکہ اس سے معاملہ کی سنگینی ختم ہوجاتی ہے اور عام تاثر یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب الیکشن ختم ہوجائیں گے تو یہ معاملہ ختم ہوجائے گا اور اس طرح کے واقعات رونما نہیں ہوں گے۔اس طرح واقعات کے وقتی ہونے کا تاثر دیا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف جو اقدامات بھی کئے جاتے ہیں وہ کسی الیکشن یا وقتی فائدہ کے پیش نظر نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند طریقے پر منظم انداز میں بڑے مقصد کے حصول کے لئے کئے جاتے ہیں۔ ہاں ہوسکتا ہے کہ کسی واقعہ کو کوئی اپنے حق میں استعمال کرلے۔ کیونکہ ہندوستان میں الیکشن کا موسم تو سدا بہار ہوتا ہے۔ ہمیشہ کہیں نہ کہیں الیکشن تو ہوتے ہی رہتے ہیں جب تک یہ سوچ باقی رہے گی تب تک صحیح زاویہ سے مسائل پر سوچ و بچا نہیں ہوسکتا اور مسائل کے صحیح حل تک نہیں پہنچا جاسکتا۔

چوتھی سوچ یہ کہ ’’ہم محفوظ ہیں‘‘ یہی سوچ ہمیں اپنی حفاظت کی فکر سے غافل کردیتی ہے اور ہم کسی بھی ناگہانی کے لئے تیار نہیں رہتے۔ مثلاً کلیم صدیقی صاحب کی گرفتاری ہوئی ہے اس الزام کے تحت کہ وہ غیر مسلموں میں اسلام کی تبلیغ کیا کرتے تھے اس ملک میں ہماری بڑی بڑی تنظیمیں اور ادارے ہیں جو یہ کام کرتے ہیں لیکن ان کی طرف سے کسی بے چینی یا تشویش کا اظہار نہیں ہوا۔ صرف اس سوچ کی بناء کہ یہ معاملہ یہیں رک جائے گا اور ہم تک ظالموں کے ہاتھ دراز نہیں ہوں گے۔ اسی خوش فہمی کا نتیجہ ہم دیکھتے ہیں کہ آج جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہم محفوظ ہیں وہ کل غیر محفوظ ہوجاتے ہیں جیسے سیمی پر جب پابندی لگی تو سب اسی خوش فہمی کا شکار رہے کہ ہم محفوظ ہیں پھر ذاکر نائک کی باری آئی۔ پھر تبلیغی جماعت کی گوشمالی کی گئی پھر عمر گوتم کی باری آئی اور اب کلیم صدیقی صاحب کی۔ نہ جانے اگلی باری کس کی اور کب ہوگی؟ اگر اپنے محفوظ رہنے کا زعم ان واقعات اور حالات کے ادراک سے نہیں ٹوٹے گا تو ظالموں کا آہنی شکنجہ یہ زعم باطل توڑ دے گا اور ہم کچھ نہ کرسکیں گے۔

اسی طرح مسلمانوں کے موقف اور طرز عمل کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ چند فارمولے ہیں جن کو ہر زیادتی اور ظلم کو جھیلنے کے لئے پچھترسالوں سے استعمال کیا جارہا ہے اور جنہیں ہر زخم کا مرہم اور ہر زہر کا تریاق سمجھا جاتا رہا ہے۔

ان میں سے ایک مدافعتی موقف ہے جو اجتماعی سطح پر اختیار کرلیا جاتا ہے جس کا اظہار چند رسمی بیانات کے ذریعہ کردیا جاتا ہے اور سارے معاملات سے لاتعلقی اختیار کرلی جاتی ہے حالیہ گرفتاریوں کے بعد جو مدافعتی بیانات سامنے آئے ہیں انہیں ملاحظہ کیجئے۔

٭ اسلام زبردستی کا مذہب نہیں ہے بلکہ اسلام امن کا مذہب ہے اگر کوئی زبردستی کرتا ہے تو وہ اسلام کے راستے پر چلنے والا ہو ہی نہیں سکتا۔

٭ مولانا تعلیم اور دعوت کے میدان میں کام کرتے ہیں وہ صاف ستھری شبیہ کے مالک ہیں۔

٭ اسلام میں زور زبردستی نہیں ہے۔

٭ مولانا نے اپنی زندگی مختلف اقوام کے درمیان موجود عدم اعتماد کی فضاء کو دور کرنے اور ایک دوسرے کو بہتر انداز میں سمجھنے کے لئے وقف کردی ہے۔

دوسرا رویہ جو سامنے آتا ہے وہ ہے خامو شی اختیار کرنا۔ ہم نے اپنے طور پر یہ سمجھ رکھا ہے کہ خاموشی ہزاروں آفتوںاوربلیات کو دور کرنے کا باعث ہے۔ لہٰذا عام مسلمان ہوں یا مسلمانوں کے نمائندے سب نے خاموشی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہے یہ کوئی وقتی موقف اور طرز عمل نہیں ہے بلکہ اس ملک میں مسلمانوں کا اجتماعی موقف ہے بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اسے صرف ایک موقف کا درجہ حاصل نہیں ہے بلکہ ایک مؤثر حکمت عملی کا رتبہ حاصل ہوگیا ہے۔ اس مؤثر حکمت عملی کو ہم مسلمان پچھتر سالوں سے اپنائے ہوئے ہیں اور یہ سمجھتے اور سمجھاتے رہے ہیں کہ اگر ہم آواز بلند کریں گے اور ظلم کے خلاف زبان کھولیں گے تو مزید نقصان اٹھائیں گے اور دعوت و تبلیغ کے مواقع کھودیں گے۔ لہٰذا دعوت و تبلیغ کے مواقع باقی رکھنا ہے تو ہر ظلم و زیادتی پر صبر کرنا اور خاموش رہنا ہوگا۔ لہٰذااس حکمت عملی کے تحت آپ دیکھ لیں کہ ہر موقع پر خاموشی اپنائی گئی ہے۔ 25 ہزار سے زیادہ فسادات کے واقعات پر ہم خاموش رہے ۔ بابری مسجد کی شہادت کا زخم اور اس کی محرومی کا دکھ خاموشی سے جھیل گئے۔ نوجوانوں کی تحریک پر پابندی کا معاملہ ہو یا ذاکر نائک کی تنظیم پر پابندی کا، مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کا معاملہ ہو یا ان کے انکاؤنٹرس کا، ماب لنچنگ کا معاملہ ہو یا لو جہاد کا معاملہ، شریعت میں مداخلت کا معاملہ ہو یا شہریت سے بے دخلی کا، ہر معاملہ پر ہم نے خاموشی کی حکمت عملی کو اس لئے اختیار کئے رکھا کہ ہم کہیں ان چکروں میں پڑ کر دعوت و تبلیغ کی آزادی نہ کھو دیں۔ مان لیتے ہیں کہ یہ ایک موثر حکمت عملی تھی جس کی وجہ سے پچھتر سالوں سے دعوت و تبلیغ کی گاڑی بغیر رکاوٹ کے چل رہی تھی اب جبکہ دعوت تبلیغ پر پابندی کی بات آگئی ہے اس وقت بھی اسی حکمت عملی کو اختیار کرنا سمجھ سے باہر ہے۔ سوال یہ پیدا ہورہا ہے کہ اب کیوں خاموشی اختیار کی جارہی ہے؟!

تیسرا رویہ جو سامنے آرہا ہے وہ ردعمل سے گریز کا رویہ ہے دیکھئے کہ مولانا کلیم صدیقی صاحب کے لاکھوں اراد تمند اور معتقدین ملک بھر میں پھیلے ہوئے ہیں اوربہت سی چھوٹی بڑی جماعتیں ہیں جو تبلیغ دین کے مقصد سے ہی کام کررہی ہیں، اس کے باوجود بھی مولانا ترنوالہ بن گئے اس کی وجہ اس کے علاوہ اور کیا ہوسکتی ہے ؟ہاتھ ڈالنے والوں کو بھی معلوم ہے کہ ان کے اراد تمندوں کی عقیدت اور محبت صرف زبانی ہے دلی نہیں کہ وہ ان کی خاطر قربانیاں دینا تو دور کی بات ایک ڈنڈا کھانے کی بھی روا دار نہیں ہوں گے۔ یعنی ردعمل کے نہ ہونے کا یقین ان ایجنسیوں کو ہوتا ہے اسی وجہ سے ہمارے بڑے بڑے عالم اور قائد ،رہنما و مفکر ، داعی و مبلغ ان کے لئے آسان ھدف بن جاتے ہیں۔ یہ احتجاج ورد عمل سے کنارہ کشی کی روایت ہی ہے جو اس طرح کے واقعات انجام دینے والوں کو ہر بند فکر سے آزاد کردیتی ہے۔

یقینا جہاں ایک بھی مسلمان موجود ہوگا وہاں باطل سے کشمکش بھی جاری رہے گی اور کوئی قوم محض کشمکش سے بچنے اور محاذ آرائی کے خوف سے خاموش رہے گی تو اپنے وجود کو باقی نہیں رکھ سکے گی یہ حقیقت ہے کہ ہماری پست ہمتی اور شکستہ دلی ہمیں ہر مہم جوئی سے روک رہی ہے اور ہم صرف خوشامد، مداہنت، مصالحت اور مطالبات کے ذریعہ اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور ظلم کے خلاف خاموشی کو ایک ہتھیار سمجھ رہے ہیں۔ اگر ہم اپنی سوچ اور رویے کو نہیں بدلیں گے۔ ہم ظلم کے خلاف آواز بلند نہیں کریں گے۔ ہر عمل پر ردعمل کے اظہار سے گریز کریں گے، مدافعتی رویے کے برخلاف جارحانہ رویہ نہیں اپنا ئیں گے، اپنی قوم کو مزاحمت اور استقامت کی راہ نہیں دکھلائیں گے اور دفاع کا نظریہ پیش نہیں کریں گے تو اس ملک میں دعوت و تبلیغ تو کجا سر چھپانے کے لئے بھی کوئی جگہ نہیں مل سکے گی۔

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندی مسلمانو!
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

۰۰۰٭٭٭۰۰۰

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.