نکاح اسلام کا مہذب عمل، اسے آسان بنائیے

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نوجوانو! تم میں جو بھی حقوق زوجیت ادا کرنے کی قدرت رکھتے ہوں وہ شادی ضرور کرلے کیونکہ وہ نگاہ کو پست رکھتی ہے اور شہوانی خواہشات کو بے لگام ہونے سے بچاتی ہے اور جو نکاح کی ذمہ داری اٹھانے کی قدرت نہیں رکھتا وہ روزہ رکھے، اس لئے کہ وہ شہوانی قوتوں کو توڑنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ (بخاری)

مولانا محمد ممشادعلی صدیقی

اسلام ایک ایسا مہذب دین حق ہے جس میں انسانی زندگی میں رونما ہونے والے تمام اعمال کے اصول وضوابط اعتدالی انداز میں واضح طور پر موجود ہے۔ مذہب اسلام تمام اولاد آدم کیلئے نازل کیا گیا ہے ،جس کو اپنا کر یقیناً دنیا میں کامیاب ترین زندگی گذاری جاسکتی ہے اور یہی وہ مذہب ہے جو انسان کو کسی بھی پلیٹ فارم پر مایوس نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو کامیاب ترین حیات مستعار کو بنانے کیلئے بڑے پیارے انداز میںجہاں رہنمایانہ اصول وضع کئے ہیں وہیں ان کی زندگی میں حسین لمحات وساعات کیلئے طرح طرح کے نمایاں پہلو رکھا ہے۔

اسی میں ایک شادی والا عمل ہے جو عرف عام میں نکاح کے لفظ سے بھی لوگ یاد رکھتے ہیں۔حیات انسانی میں شرعاً نکاح کی تاکید نہ صرف مذہب اسلام کے دین ِ فطرت ہونے کی ایک روشن دلیل ہے بلکہ بغیر نکاح کے فطری خواہشات وجنسی ضروریات کی تکمیل پر جو مضر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور معاشرتی ،خاندانی اعتبار سے جو مفاسد پیدا ہوسکتے ہیں ان کا سد باب بھی ہے۔

نکاح در حقیقت ایک معاملہ ہے جو میاں بیوی کے درمیان باہمی رضامندی سے طے پاتا ہے ، بیع و شراء کے لئے جس طرح ایجاب و قبول ہوتا ہے ویسے ہی نکاح میں بھی ایک کی طرف سے ایجاب اور دوسرے کی طرف سے قبول پایا جاتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کا یہ بڑا فضل و کرم ہے کہ اس نے اس معاملہ کو عبادت قرار دیا ، اگر کوئی شخص عفت و عصمت کے تحفظ کی نیت سے سنت کے مطابق شادی کرتا ہے تو اس پر دیگر عبادتوں کی طرح عاقدین کو غیر معمولی اجر وثواب اور اللہ اور اس کے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رضامندی اورخوشنودی حاصل ہوتی ہے اور وہ عقد ِ نکاح تا دیر قائم بھی رہتا ہے ، کیونکہ جس کام کو شریعت کے مطابق انجام دیا جائے اس میں اللہ کی جانب سے غیر معمولی برکتیں اور رحمتیں میں نازل ہوتی ہیںاور جہاں رحمت ِ خداوندی شامل ہوجائے ساری دنیا مل کر اس کو ناکام اور بے مراد نہیں بنا سکتی ۔رسول اکرم اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

متعلقہ

اِن أ عظم النِکاحِ برکۃً أ یسرہ مؤنۃ ۔ ’’

سب سے زیادہ بابرکت وہ نکاح ہے جس کا بار کم سے کم ہو‘‘ ۔(بیہقی 3097) محدث کبیر حضرت شاہ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے اسے کچھ اس طرح بیان فرمایا ہے:

اِنَّ شَھْوَۃً الْفَرَجِ اَعْظَمَ الشَّھْوَاتِ وَاَرْھَقُھَا لِلْقَلْبِ مُوْقِعَۃٗ فِیْ مَھَالِکٍ کَثِیْرَۃٍ

( حجۃ اللہ البالغہ ص۳۱۲) ترجمہ : انسان کی تمام خواہشات میں فرج (شرمگاہ)کی خواہش سب سے بڑھ کر ہے جس کی تسکین کے لئے بسا اوقات وہ دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر بڑے سے بڑا خطرہ مول لینے پر آمادہ ہوجاتاہے۔اسلام نے نہ صرف نکاح کرنے کی ترغیب دی ہے بلکہ سختی سے حکم دیا ہے ۔وحی ٔ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں اولیاء وذی اثر افراد کو اپنے ماتحتوں کے بارے میں فرمایا گیا:

وَانْکِحُوْا الْاَ یَامٰی مِنْکُمْ وَالصَّالِحِیْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَاِمَائِکُمْ (النور۳۲)

ترجمہ:تم اپنے بے نکاحوں کا نکاح کردو اور اپنے غلام وباندیوں میں جو اس کے (یعنی نکاح کے) لائق ہوں ان کا بھی نکاح کردو۔
مذہب اسلام میں نکاح کو ایک مقدس اور پاکیزہ رشتہ قراردیا گیا ہے جس کا تذکرہ قرآن مجید میں کچھ اس طرح ہے کہ حق سبحانہٗ وتعالیٰ نے اسے انبیاء ورسل علیہم السلام کی سنت قراردیا ہے۔

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلاً مِّنْ قَبْلِکَ وَجَعَلْنَا لَھُمْ اَزْوَاجاً وَّذُرِّیْۃً(الرعد ۳۸)

ہم نے آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے اور انہیں بیویاں اور اولاد بھی عطاء کئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کے متعلق ارشاد فرمایا ہے کہ

اَلنِّکَاحُ مِنْ سُنَّتِی فَمَنْ لَّمْ یَعْمَلْ بِسُنَّتِی فَلَیْسَ مِنِّیْ (ابن ماجہ ص ۱۲۲ )

نکاح میری ایک سنت ہے پس جوکوئی میری سنت پر عمل نہ کرے گا وہ میرا نہ ہوگا۔مزید نکاح کے متعلق ارشاد مبارکہ ہے کہ

اَرْبَعُ مِّنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِیْنَ الْحَیَائُ وَالتَّعَطُّرُ وَالسِّوَاکُ وَالنِّکَاحُ (ترمذی)

چار چیزیں رسولوں کی سنت میں سے ہیں (۱) حیاء (۲) خوشبولگانا (۳) مسواک کرنا (۴) اور نکاح کرنا ۔یہی نہیں بلکہ رسول ا نے اپنی تعلیمات کے ذریعہ اپنی امت کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ نکاح ایک فطری تقاضہ اور دنیوی ضرورت ہونے کے باوجود اسلامی نظام کا ایک حصہ ہے اور حصول تقویٰ کا ذریعہ کے ساتھ ساتھ نفس انسانی کی پاکیزگی کا سبیل ہے۔ایک حدیث میں اللہ کے رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا کہ

اِذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ فَقَدِاسْتَکْمَلَ نِصْفَ الدِّیْنِ فَلْیَتَّقِ اللّٰہَ فِی النِّصْفِ الْبَاقِیِّ(مشکوٰۃ شریف)

جب بندہ نکاح کرلیتا ہے تو اپنا آدھا دین مکمل کرلیتاہے تو اسے باقی آدھے کے متعلق اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہئے ۔اس لئے کہ عموماً گناہ کے صادر ہونے کا دو اہم ذریعہ ہے(۱) زبان (۲) شرمگاہ۔اسی لئے کہا جاتا ہے کہ جب ایک انسان نکاح کرکے شرمگاہ پر قابو پالیتاہے تو بہت سے گناہوں سے اپنی حفاظت کرلیتاہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی سرزنش فرمائی ہے جنہوں نے نکاح کو جنسی تکمیل کا ذریعہ سمجھ کر راہ تقویٰ کے لئے رکاوٹ تصور کیا۔ حدیث میں ہے کہ بخدا میں تم میں اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والاہوں اور خوف کرنے والاہوں اس کے باوجود کبھی (نفل) روزہ رکھتاہوں ،کبھی نہیں رکھتا، رات میں نماز بھی پڑھتاہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں پس جو بھی میری سنت سے روگردانی کرےگا وہ مجھ سے نہیں ہے۔ (بخاری) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات وفرمودات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ نکاح کی ضرورت محض فطری تقاضوں کی تکمیل کا ذریعہ نہیں بلکہ شریعت اسلامی کا ایک اہم جزوہے اورصالح معاشرہ کی تشکیل کا بڑا حصہ ہے۔ خصوصیت کے ساتھ انہیں نکاح کرنے کی تاکید فرمائی جو نکاح کرنے پر قادر ہو اب چاہئے جسمانی طورپر ہو یا معیشت کے طورپرہو ۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نوجوانو! تم میں جو بھی حقوق زوجیت ادا کرنے کی قدرت رکھتے ہوں وہ شادی ضرور کرلے کیونکہ وہ نگاہ کو پست رکھتی ہے اور شہوانی خواہشات کو بے لگام ہونے سے بچاتی ہے اور جو نکاح کی ذمہ داری اٹھانے کی قدرت نہیں رکھتا وہ روزہ رکھے، اس لئے کہ وہ شہوانی قوتوں کو توڑنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ (بخاری) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کو حفاظت نظر،عصمت وعفت کی صیانت کا اہم ذریعہ قراردیا ہے ۔ظاہر سی بات ہے کہ جو آدمی بدنگاہی سے خود کومحفوظ کرلے گا توبذات خود برائیوں کی یلغار سے محفوظ رہ سکتاہے اور اپنے آپ کو عفت وپاکدامنی کے چادر سے آراستہ کرسکتاہے۔اپنے اندر صفت ِملکوتیت پیدا کرنے اور صفت حیوانیت کو ماند کرنے کا اہم ذریعہ نکاح بھی ہے۔

مذہب اسلام نے جہاں شادی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے نکاح کیلئے تیار کیا ہے وہیں اپنی ازدواجی زندگی کو پرمسرت اورمہذب زندگی گذارنے کیلئے لڑکی کے انتخاب میں بھی کچھ خوبیوں کو معیار بنانے کی رہنمائی کی ہے کہ شریک حیات کے لئے کیسی لڑکی کا انتخاب کیا جائے اس تعلق سے بھی شریعت مطہرہ ہماری رہنمائی کرتی ہے کہ اول دینداری کو ترجیح دی جائے۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’دنیا پوری کی پوری ایک نفع پہنچانے والی چیز ہے اور دنیا وی زندگی میں سب سے زیادہ نفع بخش نیک عورت ہے۔ (مسلم) غور کیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ خود کی زندگی اور گھریلو چلن میں ایک صالح اور پاکیزہ بیوی صالحیت اور دینداری کے ذریعہ بنتے ہیں۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’عورت سے اس کے مال و دولت کی بناء پر رشتہ کیا جاتاہے یا خاندان اور حسن وجمال کی بناپر یا پھر دین اور تقویٰ کی بنا پر، تم دینداری کی بناپر نکاح کرکے کامیاب ہوجائو۔ (بخاری) عام طورپر انسان رشتوں کے انتخاب میں حسن وجمال وخوبصورتی کو ترجیح دیتاہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکیدی طورپر دینداری کے وصف کو اپنانے کا حکم دیا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تقویٰ ،پرہیزگاری کے بغیر صرف حسن وجمال،مال ودولت کی بناپر نکاح کرنے سے منع فرمایا ہے۔

ارشاد ہے:عورتوں سے ان کے حسن وجمال کی بناپر نکاح نہ کرو،ہوسکتاہے ان کا حسن وجمال ان کو خرابی وبربادی کی راہ پرڈال دے اور نہ ان کے مال ودولت کی وجہ سے شادی کرو،ہوسکتاہے کہ ان کا مال ان کو سرکشی اور غرو ر میں مبتلا کردے بلکہ دین و اخلاق کی بنیاد پر شادی کرو۔

ایک کالی لونڈی جو دیندار ہو وہ بہتر ہے۔ مذکورہ اوصاف جو احادیث میں بیان کئے گئے ہیں جن کا خیال رکھنا قبل نکاح ضروری ہے تاکہ مستقبل کی زندگی خوشی و مسرت سے بھرپور اسلامی تعلیمات اور نبوی ہدایات کے مطابق بسر ہوسکے۔ دوسری حدیث میں حسب کے بجائے اخلاق کا ذکر آیا ہے گویا اخلاق کی عمدگی اور اچھائی کو بھی دیکھا جائے اس لئے کہ اخلاق کی درستگی‘ حسن سیرت یہ ایسے جوہر نایاب ہیں جو بہت ہی کمیاب ہوتے ہیں۔

جو لوگ مالدار اور ذی حیثیت ہیں وہ یقیناً اپنی بچیوں کی شادی دھوم دھام سے کرسکتے ہیں‘ اپنی خواہش کے مطابق یہ تقریب منعقد کی جاسکتی ہے لیکن اس بات کا بھی ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہئے کہ ہم سے شادی بیاہ میں وہی طریقہ رائج رہے جس کی شریعت نے تقاضا رکھاہے اور بیجا رسم ورواج کے ذریعہ مہنگی شادی کرکے گرفت سے محفوظ رہیں۔ شادی و دیگر تقریب کے موقع پر جو ڈھول باجہ ‘پٹاخہ ‘لین دین اور کسی بھی قسم کی معصیت کے ارتکاب کا چلن ہوگیا ہے اس سے کلی طور پر احتراز کریں۔

مختلف اقسام کی دعوت کے بجائے مختصر اور سادہ کھانے پینے کا اہتمام کریں ‘اس طرح کی شادی انجام دینے سے یقیناً اخراجات کم ہوں گے اور اس بچی ہوئے رقم سے اپنے خاندان اور دیگر مسلم برادری کے غریب ویتیم یا پاس پڑوس کی کسی غریب لڑکی کی شادی میں ہاتھ بٹائیں ‘آپ کے تعاون سے کسی غریب کا گھر بسے گا تو اللہ تعالیٰ آپ کے گھر میں خوشحالی اور آپ کے اولاد کے لئے بہتر انتظام کرے گا۔ غریب بچیوں کی دعائیں شامل رہے گی اور ناصر کی گھر ویرانی سے محفوظ رہے گا۔

موجودہ معاشرہ میں بعض مواقع پر دیکھا گیا ہے کہ سنت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں نکاح مسجدوں میں کرتے ہیں مگر لین دین اور پر تکلف دعوت طعام کا وہی انداز رہتا ہے جو دیگر شادیوں میں ہوتا ہے۔ شاید ان کے ذہنوں میں یہ بات ہے کہ سنت کے مطابق شادی کرنا صرف مسجد میں عقد نکاح انجام دینے کانام ہے۔ سنت کی شادی نام ہے ایسے عقد نکاح کا جس میں کم سے کم خرچ کیا جائے‘ لین دین ‘ڈھول باجہ اور دیگر تمام منکرات سے وہ پاک ہو۔ اس کے لئے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور امہات مؤمنین رضی اللہ عنہن کے عقد نکاح پر بطور خاص نظر رہنی چاہئے۔

اپنی زندگی میں ہر کام شروع کرنے سے پہلے ضرور شریعت مطہرہ کے علم رکھنے والے اب چاہے وہ مفتی یا دیگر اسکالرس سے ضرورت مشورہ اور جانکاری حاصل کرنا چاہیے تاکہ ہمارا ہر عمل دین بن جائے اور آخرت میں نجات کا سامان پیدا ہوجائے اور اس میں شادی بیاہ کا عمل بھی داخل ہے۔

لوگ دنیاوی معاملات میں جواز کی راہ نکالنے کیلئے حیلہ بہانہ بناتے ہیں اور کر گذر تے ہیں لیکن شادی بیاہ کے مواقع پر بڑے بوڑھوں سے پوچھتے ہیں یہ کام کروں یا نہیں۔ وہ دینی علم نہ رکھنے کی وجہ سے من کی بات کہہ دیتے ہیں اور گھر میں اسی کو رواج دے دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم کو شیطان اور شیطان نما انسان کے بھٹکانے، گمراہ اور بے راہ روی کا شکار ہونے سے بچائے اور حق کی روش، چلن اور اس پر استقامت نصیب کرے۔ آمین۔

٭٭٭

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.