مقتول ہرشا پر مسلمانوں پر حملوں میں ملوث ہونے کا الزام

بتایاجاتاہے کہ 27 سالہ ہرشا ہندو‘ شیوا موگا شہر میں حملہ اور اقدام قتل کے کم از کم 5 کیسس میں ملوث تھا۔ شیوا موگہ شہر کے کرائم ریکارڈس سے پتہ چلتا ہے کہ ہرشا نے فرقہ وارانہ حملوں کے کئی واقعات میں بھی حصہ لیا تھا۔

نئی دہلی: کرناٹک کے شیوا موگہ ٹاؤن میں اتوار کی رات ہرش نامی بجرنگ دل ورکر کے قتل کے بعد پولیس اِس کے مجرمانہ ریکارڈ کی چھان بین کررہی ہے۔ بتایاجاتاہے کہ 27 سالہ ہرشا ہندو‘ شیوا موگا شہر میں حملہ اور اقدام قتل کے کم از کم 5 کیسس میں ملوث تھا۔ شیوا موگہ شہر کے کرائم ریکارڈس سے پتہ چلتا ہے کہ ہرشا نے فرقہ وارانہ حملوں کے کئی واقعات میں بھی حصہ لیا تھا۔ وہ مسلمانوں پر سماج دشمن عناصر کے حملوں میں بھی شامل تھا۔

 سینئر بی جے پی وزیر کے ایس ایشور اپا نے ہرشا ہندو کے قتل کو فرقہ وارانہ رنگ دے دیا ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ شیوا موگہ میں ہمارے ایک اچھے پارٹی کارکن کو قتل کردیا گیا۔ مسلمان غنڈوں نے یہ کام کیا ہے۔ شیوا موگہ میں مسلمان غنڈوں میں کبھی اتنی ہمت نہیں تھی اور ایسے لوگوں کیخلاف کاروائی ہونی چاہئے۔ واضح رہے کہ ایشور اپا کرناٹک اسمبلی میں شیوا موگہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ریاستی وزیر داخلہ اراگا جنیندر اور سابق چیف منسٹر بی ایس ید یورپا کا بھی اسی شہر سے تعلق ہے۔ فرقہ پرستوں کی ٹولیوں اور موافق ہندو اور موافق مسلمان سیاسی جماعتوں کی موجودگی کی وجہ سے شیوا موگہ میں ہمیشہ فرقہ وارانہ تشدد کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔ ہرشا کیخلاف درج کئے گئے ایک حالیہ کیس میں پولیس نے اس پر ایک ہجوم کا حصہ ہونے کا الزام عائد کیا تھا جس نے فرقہ وارانہ جھڑپ کے بعد 3 دسمبر کو شیوا موگہ میں مسلم تاجرین پر حملہ کردیا تھا۔ ڈوڈا پیٹ پولیس اسٹیشن میں 2017 سے ہرشا کیخلاف حملے کیسس درج ہیں۔

ذریعہ
ایجنسیز

تبصرہ کریں

Back to top button