ملوسواراجیم کو مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین کا خراج

حیدرآباد: سیاسی وابستگی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مختلف جماعتوں کے قائدین نے اتوار کے رؤز معمر خاتون کمیونسٹ لیڈر ملو سواراجیم کو جن کا کل دیہانت ہوگیا تھا بھر پور خراج پیش کیا۔

وہ1946 اور 1951 کے درمیان زمین داروں، جاگیر داروں کے خلاف تلنگانہ مسلح جدوجہد میں حصہ لے چکی تھیں۔ آندھرا پردیش کی سابق رکن اسمبلی نے91 سال کی عمر میں کل رات8بجے، ایک خانگی ہاسپٹل میں آخری سانس لی تھی۔

ملوسواراجیم، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ایم) کی سنٹرل کمیٹی کی رکن تھیں اور بعد میں انہیں تادم حیات خصوصی مدعو ین کا موقف حاصل تھا۔خاتون قائد کی نعش کو حیدرآباد میں سی پی آئی (ایم) کے دفتر میں عوامی دیدار کے لئے رکھا گیا۔

سی پی آئی (ایم) قائدین بی وی راگھولو، مدھو، ٹی ویرا بھدرم، سی پی آئی لیڈر س کے نارائنہ، چاڈا وینکٹ ریڈی ریاستی وزیر پنچایت راج ای دیا کر راؤ، ٹی آر ایس کی ایم ایل سی کے کویتا، ٹی جے ایس کے صدر پروفیسر کودنڈا رام اُن قائدین میں شامل ہیں جنہوں نے ملو سواراجیم کو بھر پور خراج پیش کیا ہے۔

پارٹی کے کارکنوں اور قائدین کی بڑی تعداد نے خاتون قائد کو خراج پیش کیا۔ بعدازاں خاتون لیڈر کی نعش نلگنڈہ منتقل کی گئی جہاں کچھ گھنٹے عوامی دیدار کے لئے رکھنے کے بعد نعش کو ان کی خواہش کے مطابق نلگنڈہ گورنمنٹ میڈیکل کالج کے حوالہ کی گئی۔

سواراجیم نے متحدہ ضلع نلگنڈہ کے تنگا تورتی کے موضع کاری ویرالا کتہ گوڑم میں ایک جاگیر دار گھرانہ میں 1931 میں آنکھ کھولی تھی۔ ایام نوجوانی سے ہی وہ کمیونیرم کی طرف راغب ہوگئیں۔ اپنے بھائی بھیم ریڈی نرسمہا ریڈی سے تحریک پاکر ملوسواراجیم نے 51-1946 کے درمیان تلنگانہ پیپلز آرمڈ اسٹرگل میں حصہ لیا تھا۔

انقلابی گیت گاتے ہوئے مجموعہ کو اکھٹا کرنے میں ان کا اہم رول رہتا تھا اور انہیں خاتون کمانڈر کے طور پر ہتھیار اٹھانے کا بھی اعزاز حاصل رہا۔ اُس زمانے میں ان کے سرپر 10ہزار روپے کا انعام مقرر کیا گیا تھا۔ سی پی آئی (ایم) امیدوار کے طور پر انہوں نے1978 اور1983میں حلقہ تنگا ترتی سے دوبار اسمبلی کیلئے منتخب ہوئی تھیں۔

دریں اثنا سی پی آئی (ایم) کے پولیٹ بیورو نے اتوار کے روز ملو سواراجیم کے انتقال پر گہرے دکھ کااظہار کیا۔ ملو سواراجیم نے نوجوانی کے ایام میں نظام حکومت کے خلاف چلائی گئی تحریک میں حصہ لیا تھا اور انہوں نے ہتھیار چلانے کی تربیت حاصل کی تھی۔ ان سے تحریک پاکر کئی خواتین مسلح جدوجہد میں شامل ہوئی تھیں۔ پولیٹ بیورو نے یہ بات کہی۔

Back to top button