ملک‘ بی جے پی کی غلطیوں کی قیمت چکارہا ہے: جئے رام رمیش

سابق مرکزی وزیر جئے رام رمیش نے کہا کہ بیرونی ممالک میں ہمارے سفارت خانوں نے بی جے پی کا معافی نامہ تقسیم کیا جبکہ حکومت خاموش رہی۔

نئی دہلی: نریندر مودی حکومت کو نشانہ تنقید بناتے ہوئے سابق مرکزی وزیر جئے رام رمیش نے چہارشنبہ کے دن الزام عائد کیا کہ بی جے پی اور اس کے ہندوستان کا معافی نامہ تقسیم کرنے کے لئے ہندوستانی سفارت خانوں کو استعمال کیا گیا۔

ملک‘ بی جے پی کی غلطیوں کی قیمت چکارہا ہے۔ پیغمبر اسلام ؐ کے خلاف ریمارکس کے تنازعہ پر سلسلہ وار ٹویٹس کرتے ہوئے جئے رام رمیش نے کہا کہ ہندوستان کئی سال سے بی جے پی کی غلطیوں کی قیمت چکارہا ہے۔ یہ ناقابل ِ قبول ہے۔

انہوں نے کہا ”ذرا کرونولوجی سمجھئے“۔ پہلے بی جے پی ترجمانوں اور وزرا نے 2015سے اقلیتوں اور سیاسی مخالفین کے خلاف زہر اُگلا۔ کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اس کے بجائے انہیں ابھارا گیا اور بچایا گیا۔ اس کے بعد بی جے پی کے 2 ترجمانوں نے تمام حدیں پار کردیں۔

بعض دوست ممالک‘ دیگر ممالک کے ساتھ برہم ہوگئے جس کے نتیجہ میں ایسا سفارتی دھکا پہنچا جس کی سابق میں نظیر نہیں ملتی۔ بی جے پی حکومت نے ان ترجمانوں کو فرنج عناصر کہاہے۔ جئے رام رمیش نے اس مسئلہ پر وزیراعظم نریندر مودی کی خاموشی پر سوال اٹھایا۔

انہوں نے کہا کہ بیرونی ممالک میں ہمارے سفارت خانوں نے بی جے پی کا معافی نامہ تقسیم کیا جبکہ حکومت خاموش رہی۔ خلیج کے کئی ممالک کی برہمی کے بعد سے کانگریس‘حکومت کو مسلسل نشانہ ئ تنقید بنائے ہوئے ہے۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہندوستانی سفیر کی دفتر خارجہ میں طلبی کے بعد وہاں ہندوستانی سفارت خانہ نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ بی جے پی ترجمانوں نے جو کہا وہ حکومت ِ ہند کی رائے نہیں ہے۔ یہ سرپھرے عناصر کی رائے ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button