ممتا بنرجی کی دعوت پر چیف منسٹر کے سی آر دہلی جائیں گے

صدر جمہوریہ کا الیکشن شیڈول کے مطابق18 جولائی کو مقرر ہے۔ واضح رہے کہ جاریہ سال مارچ میں مغربی بنگال کے انتخابات میں بی جے پی کی شکست کے بعد وہ، بی جے پی کے خلاف مزید سخت تیور دکھانے لگی ہیں۔

حیدرآباد: ترنمول کانگریس(ٹی ایم سی) کی سربراہ و چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی، جنہوں نے بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کو متحدہ کرنے اور ان جماعتوں کے قائدین کو ایک پلاٹ فارم پر لانے میں پہل کی ہے، نے صدارتی الیکشن میں اپوزیشن کے امیدوار پر غور وخوض کرنے چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کو15 جون کو دہلی آنے کی دعوت دی ہے۔

 ذرائع کے مطابق ممتا بنرجی نے بی جے پی مخالف مختلف اپوزیشن جماعتوں کے22 قائدین کو دہلی مدعو کیا ہے ان میں ایک کے چندر شیکھر راؤ بھی شامل ہیں۔ ٹی آر ایس ذرائع نے بتایا کہ کے چندر شیکھر راؤ نے دہلی اجلاس میں شرکت سے اتفاق کیا ہے۔

 کے سی آر اپوزیشن کے صدارتی امیدوار کیلئے ممتاز جہد کار انا ہزارے یا سابق وزیر اعظم دیوے گوڑا کو نامزد کرنا چاہتے ہیں۔ اجلاس میں ان ناموں پر مشاورت کی جاتی ہے یا نہیں بعد میں معلوم ہوگا۔ اس اجلاس میں اس بات پر بھی غور ہوگا کہ آیا بی جے پی امیدوار کی مخالفت کی جائے یا پھر دوسرا آپشن اختیار کیا جائے۔

 سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر بی جے پی، عارف محمد خان یا مسلم طبقہ سے کسی دوسرے کا نام تجویز کرتی ہے تو تب کیا ہوگا۔ممتا بنرجی کی جانب سے اپوزیشن کی قیادت شائد کے چندر شیکھر راؤ کو ہضم نہیں ہوگی۔ کیونکہ کے سی آر، از خود یہ اعلان کرچکے ہیں کہ وہ مخالف بی جے پی کانگریس، جماعتوں کی قیادت کریں گے۔

 ان کا کہنا ہے کہ یہ دونوں جماعتیں (بی جے پی اور کانگریس) ملک میں بہتر حکمرانی میں ناکام رہی ہیں۔ وہ چاہتے ہیں زراعت، صنعتوں اور سماجی انصاف کے لئے نئی پالیسیاں وضع کی جائیں۔ ملک کے آئین کو از سر نو مرتب کرنا کے سی آر کی بڑی خواہش ہے۔ موجودہ آئین کو ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے مدون کیا ہے اس سلسلہ میں کے سی آر، شیو سینا سبراہ ادھو ٹھاکرے، این سی پی سربراہ شردپوار، جھارکھنڈ کے چیف منسٹر ہیمنت سورین، عاپ کے سربراہ کجریوال ٹاملناڈؤ کے چیف منسرٹ اسٹالن اور سابق وزیر اعظم دیوے گوڑا سے قبل ازیں بات چیت کرچکے ہیں۔

دہلی میں 15 جون کو منعقد شدنی اجلاس میں اپوزیشن کے مشترکہ صدارتی امیدوار پر تبادلہ خیال ہوگا۔ اس پہل کی قیادت ممتا بنرجی کررہی ہیں۔ ممتا بنرجی، دہلی میں ایک ہفتہ قیام کریں گی۔ وہ اس دوران مختلف علاقوں سے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کریں گی تاکہ صدارتی الیکشن میں بی جے پی کو شکست دی جاسکے۔

صدر جمہوریہ کا الیکشن شیڈول کے مطابق18 جولائی کو مقرر ہے۔ واضح رہے کہ جاریہ سال مارچ میں مغربی بنگال کے انتخابات میں بی جے پی کی شکست کے بعد وہ، بی جے پی کے خلاف مزید سخت تیور دکھانے لگی ہیں۔ بی جے پی کے خلاف ان کی لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ صدارتی الیکشن میں انہیں بی جے پی امیدوار کی کامیابی انہیں قطعی پسند نہیں ہے۔

 ذرائع کے مطابق ممتا بنرجی کے اس پہل پر اپوزیشن قائدین خوش نہیں ہیں۔ ان قائدین کا احساس ہے کہ مخالف بی جے پی سینئر قائدین کو پیچھے چھوڑ نا ان کا ایک اور قدم ہے۔ ممتا بنرجی کی جانب سے ایصا کردہ مکتوب میں مختلف قائدین کو دہلی آنے کی دعوت دی ہے جس کا فیصلہ یوپی اے نے کیا ہے اس سے یہ سوال اٹھنے لگے ہیں کہ ممتا کو تفصیلات کا علم کیسے ہوا۔

چند قائدین اسٹالن، کے سی آر، جگن، ممتا کی زیر قیادت منعقد شدنی اجلاس میں شرکت کرسکتے ہیں۔ مخالف بی جے پی کے ایک اور قائد نے کہا کہ ممتا کی جانب سے اٹھایا گیا اس قدم سے اپوزیشن میں اخلافات آشکار ہوں گے۔ جس سے بی جے پی کو ہی فائدہ ہوگا۔

تبصرہ کریں

Back to top button