مودی حکومت ایسے کیسے بنائے گی ہندوستان کو ”سونے کی چڑیا؟“

آشوتوش

مجھے نہیں معلوم کہ آنے والی صدیاں گاندھی کو کیسے یاد کریں گی، لیکن اتنا میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ مودی کو ضرور یاد کریں گی کہ کیسے ایک سانس لیتی ہوئی جمہوریت کا آہستہ آہستہ گلا گھونٹا گیا اور ایک روادار سماج کو عدم روادار ی میں بدل دیاگیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ جب صدیاں یہ تجزیہ کررہی ہوں گی تو اس وقت ملک میں جمہوریت ہوگی یا نہیں۔ لیکن اتنا ضرور یقین ہے کہ جمہوریت کی یاد ضرور لوگوں کی آنکھوں میں آنسو لے کر آئے گی۔
2014 میں جب مودی نے منموہن سنگھ کی جگہ وزیراعظم کی کرسی سنبھالی تھی تو بہت سارے دانشوروں کو اس بات کی خوشی تھی کہ ملک کو ایک نہایت بدعنوان حکومت سے نجات ملی، اس بات کی امید تھی کہ ملک اب قومی تعمیر کے دوسرے دور میں داخل ہوگا۔ یہ وہ لوگ تھے جو ہندوتوانواز نہیں تھے، یہ وہ لوگ تھے جو آر ایس ایس کے پرچارک نہیں تھے، یہ بڑی بڑی یونیورسٹیز میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز تھے ، بیرونی اخباروں میں کالم لکھا کرتے تھے۔ انہیں بی جے پی سے امید شاید نہیں تھی، انہیں امید تھی مودی سے۔ منموہن سنگھ کی ہر کمزوری کا جواب وہ مودی میں تلاش کررہے تھے۔ آج آٹھ سال بعد یہی لوگ مودی سے نہ صرف مایوس ہیں بلکہ ملک میں جمہوریت بچے گی یا نہیں، اس بات پر شدید افسردہ ہیں۔
مجھے اس وقت بھی یقین تھا اور آج بھی کہ مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد ملک میں جمہوریت کمزور ہوگی، اداروں میں دیمک لگے گی، مسلم فرقہ اپنے کو انتہائی غیرمحفوظ محسوس کرے گا اور سماجی تانا بانا ٹوٹے گا۔ مجھے یہ خدشہ تھا کہ میڈیا حکومت کی غلام بن جائے گی، افسرشاہی کی کمر کی ہڈی توڑدی جائے گی اور ہندوستان کی شبیہہ کو شدید دھچکہ لگے گا۔ ہندوتوا حاوی ہوگا اور نہرونوازلبرل ازم کی جڑوں میں مٹھا ڈال دیا جائے گا۔ مذہب کا بول بالا ہوگا اور ”میڈیا کریٹو“ سماج کی سوچ بن جائے گی جس میں ہر وہ چیز جو ”تخلیقی“ ہے وہ اہانت مذہب کی وجہ بنے گی اور اختراعیت کو انگوٹھا دکھادیا جائے گا اور چمچہ گیری کو اقتدار کا تحفظ حاصل ہوگا۔ لیکن مجھے جس چیز کی امید نہیں تھی وہ یہ کہ یہ سب ملک کا اصل دھارہ بن جائے گا اور ہندوستانی تہذیب جو ہزاروں سال سے جمہوریت رہی جس نے کبیر جیسے باغی کو جنم دیا، وہ اتنی آسانی سے اقتدار اور نظریہ کے سامنے پناہ گزیں ہوگی۔اور وہ جو تعلیم یافتہ ہیں اپنی دانش کو بالائے طاق رکھ کر انتشار کو جائز ٹھہرائیں گے۔
اگر آٹھ سال بعد مذہب کے نام پر ہاتھوں میں تلوار اور پستول لے کر نکلنے والوں کو تعلیم یافتہ سماج مذہب کا محافظ ماننے لگے ، دھرم سنسد میں مسلمانوں کے قتل عام کی بات کرنے والوں کو سادھو سنیاسی کہا جائے اور باپو کے مجسمہ پر گولی چلانے والے حب الوطن ہوجائیں تو ضرور ماننا چاہیے کہ ملک بنیادی طور پر بدل چکا ہے اور یہ سب گزشتہ آٹھ برسوں میں ہوا ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ تہذیبوں میں اتھل پتھل نہیں ہوتی اور تہذیبیں تبدیلی کی غیریقینی سے نہیں گزرتیں۔ ہندوستانی سماج جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب دوسری تہذیبوں کا نام و نشان نہیں تھا تب وہ ایک بے حد بالغ نظر سماج تھا۔ موہن جودارو، ہڑپا کی کھدائی سے نکلی باقیات اس بات کا ثبوت ہیں کہ انسانی تہذیب کی ترقی کے عمل میں ہندوستان کا مقام کتنا بلند تھا۔ اس وقت صرف مصر کی واحد تہذیب تھی جہاں انسانی زندگی اور زندگی کے بعد گہرا غور و فکر تھا اور اس کو محفوظ رکھنے کا احساس زندہ تھا۔
مصر کے اہرام اس بات کے گواہ ہیں کہ ممی کی شکل میں ان کے بادشاہوں کی آج بھی سنبھال کر رکھی گئی باقیات اس بات کی گواہی دیتے ہیں، لیکن وہی مصر آج ایک بکھرا ہوا سماج ہے۔ مذہبی بنیاد پرستی نے اسے تہذیبوں کی دوڑ میں بے حد پیچھے دھکیل دیا ہے۔
لیکن وہ سماج جنہو ںنے مذہبی بنیاد پرستی کو چیلنج کیا ، سائنسی نظریہ کو فوقیت دی وہ آج ترقی کے دور میں سب سے آگے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ان معاشروں سے مذہب ناپید ہوگیا ہے ،بس مذہب کو یہ سمجھا دیا گیا کہ وہ اپنے نجی دائرے میں رہے، سیاست سے دور رہے۔ پوپ اور پادری چرچ تک ہی محدود رہیں۔
مغرب نے قرون وسطیٰ میں عام زندگی میں مذہب کے دخل کا حشر دیکھا اور بھگتا۔ انہیں معلوم ہے کہ مذہب کو اگر کھلا چھوڑدیا جائے تو اس کی آڑ میں کیسی کیسی بدعنوانی اور بدکرداری پنپتی ہے اور سماج ایک پُرتشدد سماج میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ لہٰذا اس نے یہ فیصلہ کیا کہ مذہب کا احترام ہے لیکن محدود دائرے میں، اسے خدا اور فرد کے درمیان چھوڑدیاگیا، اسے سیاسی زندگی میں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔ ہندوستان نے بدقسمتی سے اپنے ہی ماضی سے سبق نہیں لیا۔ مذہب کی وجہ سے ملک تقسیم ہوا اور پاکستان جیسا ملک بنا جو آج بھی مہذب سماج کہلانے کے لائق نہیں ہے او ریہ طے نہیں ہے کہ وہ طویل عرصہ تک متحد رہ پائے گا یا نہیں۔ گزشتہ آٹھ سالوں نے ہندوستان کو پاکستان کے برابر لاکھڑاکردیا گیا ہے۔
آج ہر چھوٹی سی بات پر کسی کے بھی مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچ جاتی ہے۔ پولیس ایسے لوگوں کے ہاتھ کی کٹھ پتلی بن چکی ہے۔ جس ملک میں کبیر نے ہندو اور مسلمان دونوں کو بری طرح پھٹکارا اور مندر مسجد کے نام پر پنڈت اور ملا دونو ںکے کان گرم کیے وہاں ہنگامہ اس بات پر برپا ہے کہ مسجد کو کھود کر یہ فیصلہ کیا جائے کہ وہاں مندر تھا یا نہیں۔
ایودھیا کے بعد مانا جانے لگا تھا کہ اب مندر مسجد تنازعہ کو سپرد آتش کردیا جائے گا اور ہندو مسلم‘ تاریخ کی زیادتیوں کو فراموش کرکے امن اور بھائی چارہ کی زندگی گزاریں گے، وہاں ازسرنو ماضی کو کھودا جارہا ہے اور مذہب کومذہب سے لڑایا جارہا ہے۔
ایک مخصوص مذہب کے لوگوں سے یہ کہا جارہا ہے کہ وہ عام مقامات پر نماز نہیں پڑھ سکتے، ان کی لڑکیوں کو بتایا جارہا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کپڑے نہیں پہن سکتیں، انہیں من پسند کھانا کھانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور وہ اپنی مرضی سے کاروبار بھی نہیں کرسکتے۔ انہیں ہندوﺅں کے مندر کے آس پاس جانے کی اجازت نہیں ہوگی اور لاﺅڈ اسپیکر پر اذان بھی وہ نہیں دے سکتے۔
ایسا نہیں تھا کہ 2014 سے قبل اس ملک میں ہندو اور مسلمانوں کے درمیان پوری طرح سے امن تھا۔ فسادات ہوتے تھے۔ سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں کی جانیں جاتی تھیں۔ ہندو اور مسلمان دونوں طرف کے نفرت کے سوداگر آگ لگایا کرتے تھے۔ لوگوں کو بھڑکایا جاتا تھا۔ ایک دوسرے کے مذہب کے خلاف بیجا باتیں کی جاتی تھیں۔ پولیس انتظامیہ پر مخصوص مذہب کی طرفداری کرنے کے الزامات عائد ہوتے تھے لیکن تکثیری سماج میں فساد کرانے والوں، ایسے سیاستدانوں اور پولیس انتظامیہ کی قصیدہ خوانی نہیں ہوتی تھی، انہیں سماج کی قبولیت نہیں تھی۔ آج شرم کی وہ دیوار بھربھرا کر گر گئی ہے او ر ہندوتوا کے نام پر ہر غلط کام کو اخلاقیات کا لباس پہنایا جارہا ہے ۔ جو جتنی تیزی اور توانائی کے ساتھ نفرت پھیلارہا ہے ، دوسرے مذہب کے لوگوں کو گالی دے رہا ہے وہ سماج میں اتنا ہی اعلیٰ اور محترم مانا جارہا ہے ۔ ایسا اس لیے ہورہا ہے کہ اقتدار ایسے لوگوں کی تہنیت کررہا ہے، انہیں مثال کے طور پر پیش کررہا ہے۔ یعنی سماج کی قابل قبول اقدار کو بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہندوستانی تہذیب کی اعلیٰ اقدار، ممتا، رحم، سچائی، عدم تشدد اور رواداری کو بنیادی طور پر تبدیل کیا جارہا ہے کیوں کہ اقتدار اور بالادستی کا نظریہ یہ مانتا ہے کہ ان اقدار کی وجہ سے ہی ہندو سماج ہزاروں سے غلام رہا۔ تاریخ کی یہ وضاحت ملک کے لیے بے حد خطرناک ہے۔ یہ ملک کو تقسیم کی سمت میں لے جائے گی۔
ہمارے آج کے اقتدار کے اعلیٰ مسند پر بیٹھے لوگ یہ فراموش کرگئے ہیں کہ تلوار کے زور پر جن تہذیبوں نے قبضہ کیا وہ آج کس حالت میں ہیں؟
انہیں دنیا میں کس نظر سے دیکھا جارہا ہے۔ کیا ایک تہذیب کے ناطے ہم بھی وہ غلطیاں دہرائیں؟ تاج محل کو برباد کرنے سے ہندو تہذیب کی سربلندی نہیں ہوگی اورنہ ہی قطب مینار کو وشنواستمبھ ثابت کرنے سے تاریخ کا انتقام مکمل ہوجائے گا۔ کرشن جنم بھومی کے لیے عیدگاہ کی زمین مل بھی گئی تو کیا ہندوستان پھر سے سونے کی چڑیا کہلائے گا؟ سونے کی چڑیا ہندوستان اس وقت کہلاتا تھا جب اس نے رگ وید کی تخلیق کی تھی اور ویدانت نے دنیا کے سامنے علم کے نئے دریچے کھولے تھے، اس نے تباہی کا نہیں سوئی ہوئی تہذیبوں کو بیدار کرنے کا کام کیا تھا۔ جب اس نے کہا تھا کہ ”اتھاتو برہم جگیاسا“ تب دنیا اس کے سامنے جھکی تھی نہ کہ اس وقت جب وہ دوسروں کے مذہبی مقامات پر چڑھ کر اپنا جھنڈا لہرانے کا ہنر حاصل کررہی ہے۔
٭٭٭

یہ بھی پڑھیں

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button