مودی کو ملک میں 2014ء تک کی ترقی کا اعتراف کرنا چاہیے: چدمبرم

پی چدمبرم نے آج کہا کہ وہ ہندوستان میں 2014ء تک ہوئی شاندار ترقی کا اعتراف کریں اور کہا کہ ان کی حکومت صرف گزشتہ حکومتوں کے کاموں کا سلسلہ جاری رکھی ہے۔

نئی دہلی: جرمنی میں دیئے گئے بیان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے سینئر کانگریس لیڈر پی چدمبرم نے آج کہا کہ وہ ہندوستان میں 2014ء تک ہوئی شاندار ترقی کا اعتراف کریں اور کہا کہ ان کی حکومت صرف گزشتہ حکومتوں کے کاموں کا سلسلہ جاری رکھی ہے۔

سلسلہ وار ٹوئٹر پیامات میں چدمبرم نے کہا کہ جس دن وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ تمام دیہاتوں میں برقی پہنچائی گئی اسی دن یہ خبر آئی کہ این ڈی اے کی صدارتی امیدوار دروپدی مرمو کی آبائی دیہی بستی کو جنگی خطوط پر برقی پہنچانے کے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ یہ واحد دیہات یا بستی نہیں ہے، جس میں برقی نہیں ہے۔ یہ کہنے میں کوئی شرمندگی نہیں کہ ہندوستان کے کئی دور افتادہ علاقوں اور دیہاتوں میں ابھی بھی برقی کی ترسیل کی جانی ہے۔ یہ اعتراف کرنے میں بھی کوئی شرم نہیں کہ ہندوستان میں کئی ہزار مکان بغیر برقی کے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 75 سالوں میں ہندوستان میں جو کچھ کیا گیا یقینا متاثر کن ہے، لیکن ملک کے تمام حصوں میں ضروری خدمات کی فراہمی کے کام ابھی جاری ہیں۔ چدمبرم نے کہا کہ وزیر اعظم کو یہ اعتراف کرنا چاہیے کہ سال 2014ء تک شاندار کارنامے کیے گئے ہیں اور ان کی حکومت صرف سابقہ حکومتوں کے کام جاری رکھی ہوئی ہے۔

G-7 چوٹی کانفرنس میں شرکت کے لیے جرمنی کا دورہ کرنے والے وزیر اعظم نے اتوار کے دن میونخ میں واقع آڈی ڈوم اسٹیڈیم میں ہندوستانی نژاد ہزاروں افراد کو مخاطب کیا۔ مودی نے کہا کہ اتنے بڑے اور مختلف النوع ثقافتوں کے ملک میں جمہوریت کیسے بہتر کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کروڑوں ہندوستانیوں نے کیونکر مل جل کر بڑا مقصد حاصل کیا ہے، جس کی مثال نہیں ملتی۔ آج ہندوستان کا ہر دیہات کھلے عام حاجت روائی سے پاک ہے اور 99 فیصد دیہاتوں کو برقی دستیاب ہے اور انہیں پکوان کے لیے غیرآلودگی والا ایندھن بھی دستیاب ہے۔ گزشتہ دو سالوں سے ہندوستان میں 80 کروڑ غریبوں کو مفت راشن فراہم کیا جارہا ہے۔ مودی نے یہ دعویٰ کیا۔

تبصرہ کریں

Back to top button