مکہ شریف اور مدینہ منورہ کی مساجد میں مصلیوں کا اژدھام

دونوں مساجد کے امور کی جنرل پریسیڈنسی نے بتایا ہے کہ مصلیوں اور زائرین کیلئے ممکنہ سہولتیں فراہم کی جارہی ہے۔ دروازے کھول دئیے گئے ہیں تاکہ عوام کو داخل ہونے میں کوئی رکاوٹ یا مشکلات درپیش نہ ہوں۔

مکہ معظمہ: مسجد الحرام اور مدینہنبویؐ میں ہجوم سے نمٹنے کیلئے حکام کی جانب سے موثر اقدامات کئے گئے ہیں۔ اب جبکہ ماہ رمضان کا اختتام عمل میں آرہا ہے۔ مسجد الحرام اور مسجد نبویؐ میں مصلیوں اور زائرین کی تعداد میں قابل لحاظ اضافہ ہوگیا ہے۔ رمضان کی آخری راتوں میں عبادت کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ دونوں مساجد میں لیلۃ القدر اور دوسری راتوں میں عبادتوں کا بہت زیادہ اہتمام کیا جارہا ہے۔

مسجد کے حکام نے بتایا کہ دونوں مساجد میں عوام کیلئے مزید سہولتیں فراہم کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ مصلیوں کو عبادت کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔29 رمضان کے پیش نظر بھی حکام نے کہیں زیادہ انتظامات کئے ہیں کیونکہ نماز تراویح جو کہ چاند رات سے شروع ہوئی ہے چاند دکھائی دینے کے ساتھ ہی اس کا اختتام عمل میں آئے گا۔

دونوں مساجد کے امور کی جنرل پریسیڈنسی نے بتایا ہے کہ مصلیوں اور زائرین کیلئے ممکنہ سہولتیں فراہم کی جارہی ہے۔ دروازے کھول دئیے گئے ہیں تاکہ عوام کو داخل ہونے میں کوئی رکاوٹ یا مشکلات درپیش نہ ہوں۔ عام طور پر جو دروازے نہیں کھولے جاتے وہ اب کھول دئیے گئے ہیں۔ آب زم زم کی فراہمی کیلئے بھی انتظامات کئے گئے ہیں۔ مصلیوں اور زائرین کی رہنمائی کیلئے بھی انتظامات کئے جارہے ہیں۔

مکہ میں صحت سے متعلق جنرل ڈائریکٹوریٹ نے 10 دنوں کے دوران کئے جانے والے انتظامات کی توثیق کی اور کہاکہ  سہولتوں کی فراہمی کی وجہ مصلیوں اور زائرین کی تعداد میں مزید اضافہ کی توقع ہے۔  مسجد الحرام اور مسجد نبویؐ کو آنے والے افراد کی صحت سے متعلق امور کا جائزہ لینے کیلئے بھی انتظامات کئے گئے ہیں۔ اس مقصد کے لئے ہیلت کیئر سنٹر قائم کئے گئے ہیں۔

وبائی امراض کی روک تھام کیلئے حکام نے خاطر خواہ اقدامات کئے ہیں۔ محکمہ صحت کے ترجمان حمد بن فہا نے عرب نیوز کو بتایا کہ  زائرین کی خدمت کیلئے 18000 افراد کو متعین کیاگیا ہے جو دن رات کام کررہے ہیں۔ مکہ معظمہ کے دواخانوں میں بھی ماہ رمضان کے پیش نظر خاطرخواہ انتظامات کئے گئے ہیں۔ کیونکہ رمضان میں مکہ  معظمہ اور مدینہ منورہ کو آنے والے افراد کی تعداد میں قابل لحاظ اضافہ ہوتاجاتا ہے۔

ذریعہ
منصف ویب ڈیسک

تبصرہ کریں

Back to top button