مہاراشٹراکاسیاسی بحران

محمد تقی

مہاراشٹرا کے عوام نے کبھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ ایک آٹورکشا چلانے والا ریاست کی سیاست میں بھونچال کھڑا کردے گا۔ شیوسینا سربراہ اور وزیراعلیٰ اودھوٹھاکرے کی راتوں کی نیندیںاڑا دے گا‘ ان کاچین چھین لے گا۔ مہاراشٹرا کے وزیر شہری ترقیات ایکناتھ شندے ضلع ستارا کے معاشی طور پر ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرناچاہتے تھے۔ چنانچہ وہ ستارا سے تھانہ چلے آئے۔ مالی حالت ایسی نہ تھی کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے۔چنانچہ روٹی روزی کے لیے انھیںرکشا ڈرائیور بننا پڑا۔ کئی سالوں تک آٹورکشا چلایا۔18سال کی عمر میں شیوسینا میںشمولیت اختیار کی۔ 1997 میں تھانہ میونسپل کارپوریشن الیکشن میں شیوسینا کے ٹکٹ پر کارپوریٹراور2004 میں پہلی بار مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔چاربار ایم ایل اے رہے۔ 2015ءتا 2019ءریاستی کابینہ میںوزیر رہے اور موجودہ ادھو ٹھاکرے کابینہ میں وزیر شہری ترقیات ہیں۔ ایکناتھ شندے اپنی صلاحیتوں اور کاموں کے باعث ادھو جی کے انتہائی قریب پہنچ گئے تھے۔2019ءمیں جب ادھو ٹھاکرے کی قیادت میں مہا وکاس اگھاڑی کی حکومت بنی تو ادھوجی نے ہی انھیں وزارت شہری ترقیات کااہم ترین قلمدان سونپاتھا لیکن اقتدارکی ہوس نے ایکناتھ شندے کو باغی بننے پر مجبور کیااور آجکل وہ 38 شیوسینا باغی اراکین اسمبلی کی قیادت کررہے ہیں اورگوہاٹی کی ایک فائیو اسٹار ہوٹل ریڈیسن بلیو میں باغی ایم ایل اے دوستوں کے ہمراہ سخت پولیس بندوبست اور حفاظت میں پناہ گزیںہیں۔ سیاسی گلیاروں میں ایسی خبریں گشت کررہی ہیں کہ باغیوں کوبی جے پی کی پشت پناہی حاصل ہے، جبکہ بی جے پی رہنما ایسی خبروں کوافواہیں بتارہے ہیں۔ مودی کابینہ کے ایک وزیرراﺅ صاحب دانوے نے شیوسینا اراکین اسمبلی کو بغاوت کے لیے ترغیب اور مدد دینے کے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے سیاسی بحران سے بی جے پی کاکوئی تعلق نہیں ہے۔ دانوے اتنے بھولے نہ بنو۔ وہ کہاوت مشہور ہے کہ بلّی جب دودھ پیتی ہے تو آنکھیں بندکرلیتی ہےں اوراپنی دانست میںیہ سمجھتی ہے کہ اسے کوئی نہیں دیکھ رہا ہے۔ اس وقت گوہاٹی کی ہوٹل ریڈ یسن بلیو پرسارے ملک بھر کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ شیوسینا کے باغیوں سے بی جے پی کے لیڈران کہاں اور کب مل رہے ہیں، سب کوپتہ ہے۔
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
اب آئیے ! ہم اکتوبر2019ءکے ریاستی سیاسی منظر نامے پر نظر ڈالتے ہیں۔ 21 اکتوبر 2019ءکو مہاراشٹر اسمبلی کے انتخابات منعقد ہوئے تھے۔الیکشن میں ہندوتوا کاچہرہ رکھنے والی شیوسینا اور بی جے پی میں انتخابی اتحاد ہواتھا۔دونوں پارٹیوں نے تقریبا تمام 288 سیٹوں پراپنے امیدوار کھڑے کئے تھے۔ الیکشن سے قبل ریاست میں شیوسینااور بی جے پی کی اتحادی بھگوا حکومت برسراقتدار تھی جس نے اپنی پانچ سالہ میعاد مکمل کی تھی۔2019 کے اسمبلی انتخابات میں شیوسینا کو 56 اور بی جے پی کو 106 حلقوں میںکامیابی ملی تھی۔ ادھر ریاست کی دو اہم سیکولرپارٹیوں انڈین نیشنل کانگریس پارٹی اور راشٹر وادی کانگریس پارٹی اور دوست پارٹیوں نے متحدہ طور پرالیکشن لڑاتھا۔کانگریس کو 44 اور راشٹر وادی کانگریس کو 53 سیٹوں پر جیت حاصل ہوئی تھی۔ ان کے علاوہ سماج وادی پارٹی کے دو اور ایم آئی ایم کے دو اور کچھ آزاد امیدوار بھی منتخب ہوئے تھے۔ اس طرح معلق اسمبلی وجود میں آئی تھی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو 106 نشستوں پر کا میابی حاصل کرکے ریاست کی سب سے بڑی پارٹی ہونے کااعزاز حاصل تھا۔مگروہ کسی دوسری پارٹی کی تائید و حمایت کے بغیر حکومت تشکیل دینے کے موقف میں نہیں تھی۔اس لیے بی جے پی اور شیوسینا حکومت سازی کو لے کر پھرایکبار گفتگو کی میز پر بیٹھے تھے۔بی جے پی کی نمائندگی سابق وزیراعلیٰ دیویندر پھڑنویس اور شیوسینا کی طرف سے ادھو ٹھاکرے نے نمائندگی کی تھی۔ کئی بار گفتگو کی میز پر بیٹھے تھے لیکن وزارت اعلیٰ اور دیگر اہم وزارتوں کی تقسیم کے معاملے پراتفاق رائے نہ ہونے سے ادھو ٹھاکرے کونہ چاہتے ہوئے بھی کانگریس اور راشٹر وادی کانگریس پارٹی کادروازہ کھٹکھٹانا پڑاتھا۔اتحاد کے قیام میںراشٹروادی کانگریس سپریمو شردپوار نے کلیدی رول ادا کیاتھا۔سبھی جانتے ہیں شردپوار سیاست کے پرانے اور منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں۔وہ جب گیند پھینکتے ہیںتواچھے اچھے کھلاڑیوں کے چھکے چھوٹ جاتے ہیں، لیکن وہ نہیں تھکتے اور کھلاڑی کوآوٹ کرکے ہی دم لیتے ہیں۔ نومبر2019 میںجب حکومت سازی کے لیے توڑ جوڑ کی سیاست اپنے شباب پرتھی توشردپوار نے اپنے حقیقی بھتیجے اجیت پوار کو جو اب ٹھاکرے کابینہ میں ڈپٹی چیف منسٹر ہیں،بی جے پی کیمپ میںروانہ کیاجنہوں نے دیویندر پھڑنویس جی کو یہ تیقن دیاتھا کہ وہ اور ان کے چند ایم ایل اے ساتھی راشٹروادی کوالوداع کہہ کر ایک علاحدہ گروپ تشکیل دے رہے ہیں اور ان کی ( پھڑنویس) کی قیادت میں نئی حکومت حلف لے گی۔ انھیں یوں غفلت میں رکھااور پھڑنویس کوچکما دے کراجیت دادا پوارکیمپ میں لوٹ آئے تھے۔ یہ منظر کسی بالی ووڈ ہندی فلم کے منظر سے کم نہ تھا کہ ہیرو ویلین کو چالاکی سے چکما دے کر دشمنوں کے چنگل سے صحیح سلامت واپس لوٹ آتا ہے۔مہاراشٹراکے سیاسی افق پرجو سیاسی ڈرامہ کھیلاجارہاتھا، اسی کے ہر منظر پرشیوسینا ایم پی اور پارٹی ترجمان سنجے راوت کی نگاہیں جمی ہوئی تھیں۔وہ ہردوتین گھنٹہ بعدصحافیوں کواپنی ممبئی کی رہائش گاہ میں طلب کرکے صحافتی بیانات دیاکرتے تھے۔بی جے پی کیمپ سے اجیت پوار کے واپس لوٹ آنے کے فوری بعد سنجے راوت نے پھر ایک بار صحافیوں کواپنابیان دیتے ہوئے کہاتھا ”شردپوار کوسمجھنے کے لیے ایک سو سال لگیںگے“ یہ اپنی حریف پارٹی کے لیڈران پرایک تیکھاطنز تھا۔سنجے راوت کایہ یادگار جملہ نومبر2019ءکی کسی تاریخ کو کہاگیاتھا۔ اسی دوران شردپوار نے ایک تیز وطرار سیاسی کھلاڑی کی طرح راتوں رات پانسہ پلٹ دیااور بی جے پی کوچاروں خانے چِت کردیاتھا۔بی جے پی کی حالت ایسی تھی جیسے خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔ جب دوسرے دن صبح سویرے لوگوں نے اپنے ٹی وی کابٹن آن کیاتو ہرچینل پربس ایک ہی خبر تھی۔شیوسینا سربراہ ادھوٹھاکرے نئے وزیراعلیٰ ہوںگے۔ کانگریس پارٹی‘ راشٹروادی کانگریس اور دیگر چھوٹی پارٹیوں نے شیوسینا وزیراعلیٰ کواپنی مکمل تائید و حمایت کامکتوب گورنر کوسونپ دیا ہے۔بھارتیہ جنتاپارٹی اور اس کے سابق وزیراعلیٰ دیویندر پھڑنویس کوبڑاجھٹکالگاتھا۔پھڑنویس ہاتھ ملتے رہ گئے تھے۔ لیکن بی جے پی او راس کے قائدین نے اسی لمحہ یہ حلف بھی لے لیاتھا کہ وہ مہاوکاس اگھاڑی حکومت کوپانچ سالہ میعاد پوری کرنے نہیں دیںگے۔ مشترکہ اقل ترین پروگرام (Common Minimum Programme) کے ایجنڈے کے تحت دوسال سات مہینے تک مہاوکاس اگھاڑی حکومت کی گاڑی بغیر کسی رکاوٹ کے پٹری پردوڑتی رہی، لیکن ایم وی اے حکومت کے قیام کے چند ماہ بعد کچھ شیوسینا اراکین اسمبلی میں سیکولر اور جمہوری اقدارپر مبنی مشترکہ اقل ترین پروگرام کے خلاف اندر ہی اندر کھچڑی پکتی رہی تھی لیکن کھل کر سامنے آنے کی کسی نے جرات نہیں کی تھی۔بالآخر 21جون 2022کو شیوسینا کے ایک کابینی وزیرایکناتھ شندے نے مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلندکرکے اعلان کردیا کہ ان کے ساتھ تقریباً 39 شیوسینا ایم ایل اے ہیں۔سبھی نے اتفاق رائے سے فیصلہ کیاہے کہ ٹھاکرے حکومت کواپنی حمایت جاری نہیں رکھیںگے تاوقتیکہ شیوسینا مہا وکاس اگھاڑی سے باہر نکل نہیں آتی۔ ادھو جی ب±حران پرقابو پانے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔ انھوں نے 22 جون کواپنی متوازن وسلجھی ہوئی تقریر میں باغی شیوسینکوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ انھیں وزارت اعلیٰ اورپارٹی صدارت کاعہدہ عزیز نہیںہے۔ وہ دونوں عہدوں سے مستعفی ہونے کے لیے تیار ہیں۔ وہ اپنا استعفیٰ ساتھ ہی رکھتے ہیں۔ اگر آپ کی (باغیوں کی ) کوئی ناراضگی ہے اور کوئی مانگ ہے تو ممبئی آئیں آمنے سامنے بیٹھ کر بات کریں۔ پھر بھی شندے منڈلی ادھو خیمے میںواپس لوٹنے کے لیے تیار نہیں ہے۔وجہ صاف ہے ان کی ڈوریں بی جے پی کے ہاتھوں میں ہیں۔چنانچہ سینا سپریمو نے سخت قدم اٹھاتے ہوئے ریاستی اسپیکر کو16باغی اراکین کومعطل کرنے کی درخواست کردی ہے۔ اس طرح اس سیاسی ڈرامے نے ایک نیا قانونی موڑ اختیار کرلیاہے۔ باغی اراکین دوتہائی اکثریت ثابت کرنے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ سیاسی اور حکومتی بحران ابھی کچھ دن جاری رہ سکتا ہے۔یہ بھی امکان ہے کہ بحران سے پیدا شدہ سیاسی صورتحال قانون کی پیچیدگیوں میں الجھ جائے۔وقت کے گزرنے کے ساتھ بحران شدید ہوتا جارہا ہے۔ اس طرح کے سیاسی تماشے ملک کی کسی نہ کسی ریاست میں ہوتے ہی رہتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ہم نے دیکھاکہ کرناٹک کی کمارا سوامی حکومت کو مدھیہ پردیش کی کمل ناتھ حکومت کو بی جے پی نے زر اور زور کے بل بوتے کسی طرح زوال سے دوچار کردیا۔
اب ہم مہاراشٹر کی غیریقینی سیاسی صورتحال کے دوسرے پہلو پر بھی غور کرتے ہیں۔ مہاراشٹر ایک ترقی یافتہ ریاست ہے۔ممبئی کو ملک کی اقتصادی راجدھانی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔یہاں تقریباً 18تا 20 فیصد مسلمان آباد ہیں۔ مہا وکاس اگھاڑی حکومت میں ریاست کے مسلمان اطمینان کاسانس لے رہے ہیں۔ حکومت میں شیوسینا کے ساتھ کانگریس اور راشٹروادی کانگریس پارٹی میںشامل ہونے سے شیوسینا کی مذہبی فرقہ پرستی کو لگام بھی لگی ہے۔اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے مفاد میں فیصلے لیے جارہے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف کوئی قانونی اقدامات نہیں کیے گئے ہیں، جس طرح بی جے پی قیادت والی ریاستی حکومتوں میں کیے جارہے ہیں۔چنانچہ ریاست میں سیکولر حکومت کا قیام مسلمانوں کے مفاد میںہے۔ اگر پھر سے بی جے پی اقتدار میں آتی ہے تو مسلمانوں میں تشویش اور بے اطمینانی کاماحول پیدا ہونے کے زیادہ امکانات ہیں۔بحران کے حوالے سے شب غم بھاری ہے مگر امید ہے کہ ٹل جائے گی۔
٭٭٭

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button